Print this page

تہران کیخلاف واشنگٹن کی پابندیوں کی ناکامی سے اسرائیل مایوس ہے

Rate this item
(0 votes)
تہران کیخلاف واشنگٹن کی پابندیوں کی ناکامی سے اسرائیل مایوس ہے

 پاکستان پروفیسر برائے بین الاقوامی تعلقات نے ایران سے متعلق امریکی نقطہ نظر اور جوہری معاہدے کیخلاف صیہونی ریاست کی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے ویانا مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران جوہری معاہدے کیخلاف اپنی تمام تر تخریب کاری کے باوجود تہران کیخلاف واشنگٹن کی پابندیوں کی ناکامی سے مایوس ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پنجاب اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے سابق صدر" رشید احمد خان" نے اردو زبان کے اخبار "دنیا" میں شائع ہونے والے "ایران جوہری مذاکرات: کامیابی کا چنس" کے عنوان سے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ویانا مذاکرات میں پیشرفت خوش آئند ہے، لیکن جوہری معاہدے کیخلاف سابق امریکی انتظامیہ کے اقدامات اور ٹرمپ کی یکطرفہ دستبرداری نے معاہدے کے فریقین بشمول تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی فضا کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے باراک اوباما کے دور میں جوہری مذاکرات کی کامیابی، ایران مخالف پابندیوں کے خاتمے اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعل میں جارحانہ رویہ، جوہری معاہدے سے علیحدگی اور اقتصادی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ پابندیاں ایران کی ترقی راہ میں رکاوٹیں حائل کریں گے لیکن اس کے برعکس اسلامی جمہوریہ نے کبھی دباؤ اور پابندیوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنی ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھی۔

پاکستانی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ  ایرانی ضمانت کی تلاش میں ہیں، خاص طور پر امریکہ کی طرف سے ایک مضبوط  ضمانت، کہ اگر جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے، تو مغرب کو واشنگٹن کے ساتھ مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ٹرمپ کے زمانے کی طرح کے اقدامات نہیں دہرائے جائیں گے او ایران کیخلاف تمام غیر قانونی پابندیاں ہٹائی جائیں۔

انہوں نے اپنے مضمون میں ناجائزصہیونی ریاست کیجانب سے ایران جوہری معاہدے کی بحالی کی راہ میں روڑے اٹکانے، خطے میں اشتعال انگیز کارروائیوں اور علاقائی اور بین الاقوامی مساوات میں تہران کو تنہا کرنے کی کوشش کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ تل ابیب کو اب امریکی پابندیوں کی فضولیت کا احساس ہے اور وہ ایران کیخلاف ان پابندیوں کے غیر موثر ہونے سے مایوس ہے۔

رشید احمد خان نے کہا کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے کی امریکہ اور اسرائیل کی کوشش مکمل طور پر ناکام ہوگئی، اس کے برعکس تہران نے یورینیم کی پیداوار سمیت اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔

اس کا خیال ہے کہ جوبائیڈن جوہری معاہدے کی بحالی کی سخت کوشش کر رہا ہے کیونکہ دوسرا مقصد تہران کے تئیں بیجنگ اور ماسکو کے تعمیری موقف اور امریکہ کی طرف سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی اور خطے میں امن و استحکام کی ضرورت کے حوالے سے اس ملک کا مشترکہ نقطہ نظر ہے۔

پاکستانی پروفیسر نے ایران جوہری معاہدے کی بحالی کو علاقائی سلامتی اور عالمی نظام کے لیے ایک بہت اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ویانا مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان سے امریکیوں کے انخلاء کے واقعہ کے بعد جوہری معاہدے کی بحالی؛ خطے کا دوسرا بڑا واقعہ ہوگا جس کا عالمی مساوات پر بڑا اثر پڑے گا۔

Read 148 times