Print this page

خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سیرت و کردار

Rate this item
(0 votes)
خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سیرت و کردار
فاتح بدر و حنین، علمدار لشکر اسلام، داماد رسول اسلام، مہاجرین و انصار کے امام اباالحسنین حضرت علی کرم اللہ وجہ 13 رجب المرجب کو خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ آپ کے فضائل میں سے ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ میں ہوئی۔ علمائے سیرت نے اسے آپ کے خواص میں سے شمار کیا ہے کہ یہ فضیلت آپ کے علاوہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوئی بقول شاعر
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
با کعبہ ولادت با مسجد شہادت
کسی کو میسر نہ ہوئی یہ سعادت
کعبہ میں ولادت، مسجد میں شہادت

آپ کے والد کا نام حضرت ابوطالب اور والدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنھا تھا، جو آپ ﷺ پر ایمان لانے والی ابتدائی خواتین میں سے  تھیں۔ آپ کے القابات میں ساقی کوثر، یداللہ، حیدر کرار، نفس رسول اللہ، امیرالمومنین، مرتضٰی اور اسد زیادہ معروف ہیں۔ آپ کی مشہور کنیت ابو تراب اور ابوالحسن ہے۔ آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ خاندان ہاشم کے پہلے فرد ہیں، جن کے والد اور والدہ دونوں ہاشمی تھے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ انتہائی کم عمری میں ہی آپ ﷺ کی پرورش میں آگئے۔ آپ کی تربیت آغوش نبوی ﷺ میں ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور قول ہے کہ میں رسول (صلی الله علیه و آله وسلم) کے پیچھے پیچھے اس طرح سے چلتا تھا، جس طرح سے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے پیچھے چلتا ہے اور اپنے بچپنے سے لیکر آخر وقت تک رسول کے ہمراہ رہا۔ اسی تربیت پیغمبر کا اثر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شخصیت کمالات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔ ہم ان کی صفات حسنہ کے بعض گوشوں کو بیان کریں گے۔

علم 
آپ کی شخصیت جامع العلوم ہے، ایسا کیوں نہ ہو خود حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں نبی اکرام ﷺ نے مجھے علم کے ایک ہزار ابواب تعلیم دیئے اور میں نے ہر باب سے مزید ہزار باب اپنی جستجو سے پیدا کئے۔ آپ پوری زندگی سائے کی طرح نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ساتھ رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ سے قرآن کی آیات اور ان کی تفسیر کے بارے میں پوچھ لو، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کونسی آیت جنگ میں نازل ہوئی، کونسی سفر میں اور کونسی حضر میں نازل ہوئی۔ اسی لیے قرآن کریم کی تفسیری روایات کا بڑا حصہ آپ سے منقول ہے۔ تمام صحابہ کرام میں صرف آپ کے بارے میں یہ ملتا ہے کہ آپ نے مسجد کوفہ میں فرمایا تھا جو چاہو مجھ سے پوچھ لو، یقیناً مکتب رسالت سے تعلیم پانے والا ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے۔ علم صرف و نحو کے آپ موجد ہیں، قرآن کے اعراب آپ کے شاگرد نے لگائے۔ بعض روایات میں ملتا ہے کہ آپ نے قرآن کا ایک نسخہ تحریر فرمایا تھا، جس میں شان نزول بھی ساتھ  تحریر کر دیا تھا۔ اسے مصحف امام علی  رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ قرآن کی پہلی تفسیر تھی، جو ہم تک نہیں پہنچی۔ علم فصاحت و بلاغت کے آپ امام تھے۔ آپ کے خطبات پر مشتمل کتاب نہج البلاغہ آپ کی بلاغت کی اعلٰی مثال ہے، جس کے بارے میں اہل فن نے کہا کہ خالق کے کلام سے نیچے اور مخلوق کے کلام سے بلند ہے۔ 

شجاعت
آپ کی شجاعت کا ذکر ہو تو دنیائے عرب و عجم کے بڑے بڑے نام آپ کا نام سن کر کانپ جاتے ہیں۔ شجاعت پر تو آپ کی حکمرانی ہے۔ ہر عظیم مجاہد نے آپ کو اپنا آیئڈیل قرار دیا ہے۔ آپ بے خطر جنگ کے شعلوں میں کود جاتے۔ آپ کی تلوار نے استحکام اسلام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آپ کی جنگ اللہ کے لیے ہوتی تھی۔ اسی لئے ایک موقع پر جب آپ دشمن کے سپاہی کو گرا کر اسے قتل کرنے لگے تو اس نے آپ کے چہرہ پر تھوک دیا۔ آپ اس سے چند لمحوں کے لیے دور ہٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اسے قتل کیا۔ جب پوچھا گیا تو بتایا کہ میں اسے اللہ کے لئے قتل کر رہا تھا، جب اس نے گستاخی کی تو مجھے غصہ آگیا، اب اگر اسے قتل کرتا تو اس میں میرا غصہ شامل ہو جاتا، میرا یہ عمل خالص خدا کے لئے نہ رہتا، اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا اور جب غصہ اتر گیا تو قتل کیا۔ جنگ بدر ہو یا احد کا میدان، جنگ خندق ہو یا حنین و خیبر کا میداں کارزار ہو، ہر جنگ  میں حضرت علی کی تلوار دشمنان اسلام کے لئے خوف کی علامت تھی۔ تمام جنگوں میں دشمن کے بڑے بڑے سورمے حضرت علی کی تلوار سے کٹ کر واصل جہنم ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تلوار ہر مظلوم کی مدد گار تھی۔
 
زہد و تقویٰ
آپ کے تقویٰ کو ملاحظہ کیا جائے تو دنیا بھر کے اہل تقویٰ آپ کے در اقدس کو سلام کرتے نطر آتے ہیں۔ دنیا میں سیر و سلوک کے جتنے سلسلے ہیں، صوفیہ کی جتنی تحریکیں ہیں، خود کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ آپ کثرت سے عبادت خدا انجام دیا کرتے تھے۔ شب و روز میں ایک ہزار رکعتیں نماز ادا کرتے۔ آپ نے سورج کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا تھا کہ اے سورج میں نے ہمیشہ تمہیں طلوع ہوتے دیکھا ہے، مگر تو  نے مجھے کبھی سوئے ہوئے نہیں پایا۔ آپ کے پوتے حضرت امام زین العابدینؒ جن کی کثرت عبادت ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے، جو پوری پوری رات قیام و قعود میں گذار دیتے تھے، ان سے کسی نے کہا آپ اللہ کی بہت زیادہ بندگی کرتے ہیں، آپ نے کہا کہ وہ صحیفہ لے آو جس پر میرے دادا علی کی عبادت کا تذکرہ ہے، جب اسے لا کر پڑھا تو فرمایا کون میرے دادا کی عبادت جتنی عبادت کرسکتا ہے۔ آپ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے تھے، فرماتے تھے اے دنیا میرے غیر کو دھوکہ دے، میں تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں، آپ جو کی روٹی کھاتے اور کثرت سے روزے رکھتے تھے۔

سخاوت
آپ کی سخاوت پورے مدینہ میں معروف تھی، آپ باغ لگاتے، جب وہ تیار ہوجاتے تو انہوں اللہ کی راہ میں وقف کر دیتے۔ آپ کنویں کھودتے مکمل ہونے پر اللہ کی راہ میں وقف کر دیتے۔ اپنے حصے کا مال غنیمت خدا کی راہ میں خرچ کر دیتے، کھانے کے وقت کو فقیر آ جاتا تو اپنا کھانا اسے دے دیتے، کمتر پر گزارہ کرتے۔
عدل
آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ تم میں سب سے بڑا قاضی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے، آپ مشکل سے مشکل فیصلے پلک جھپکنے میں کر دیتے، عدالت کے معاملہ میں کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ حکومت ظلم سے تو قائم رہ سکتی ہے مگر بغیر عدل کے قائم نہیں رہ سکتی۔ آپ ظالم کو ایک لمحے کی چھوٹ نہیں دیتے تھے۔ آپ کے دور میں ایک مسیحی خاتون کی پازیب یا گلوبند لوٹ لیا گیا، آپ نے فرمایا اگر کوئی مسلمان اس خبر کو سن کر مر جائے تو حق مرا، یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اسلامی حکومت میں خاتون کے زیور لوٹ لئے گئے۔ جارج جرداق لبنان کے ایک مسیحی مفکر ہیں، انہوں نے کتاب لکھی "انسانی عدالت کی آواز امام علی رضی اللہ تعالٰی عنہ" اس میں لکھتے ہیں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کی کثرت عدالت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ آپ کا مشہور قول ہے ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مدد گار بنو، ایک بار ایک یہودی کے ساتھ آپ کا نزاع ہوگیا، دونوں قاضی کے پاس گئے، پہلے قاضی صاحب نے دوسرے آدمی کو اس کے نام سے بلایا، پھر آپ کو آپ کی کنیت سے، جو کہ عزت و عظمت کی علامت تھی، یا اباالحسن کہہ کر بلایا، تو آپ نے قاضی سے کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیا، مجھے کنیت سے بلایا اور دوسرے فریق کو نام سے پکارا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس حد تک عدل کا خیال رکھا کرتے تھے، اسی لیے عرب کہتے ہیں
قضية ولا أبا حسن لها
کوئی مشکل فیصلہ ہو اور ابالحسن نہ ہوں یعنی خدا ایسا وقت نہ لائے کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نہ ہوں اور مشکل فیصلہ ہو۔

محنت میں عظمت ہے
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سیرت کا یہ انتہائی اہم پہلو ہے کہ آپ محنت و مزدوری کا کام جسے آج کل معمولی اور حقیر سمجھا جاتا ہے، اپنے ہاتھوں سے انجام دیا کرتے تھے۔ آپ یہودی کے باغ میں مزدوری کرتے تھے۔ آپ نے مدینہ کے اردگرد کجھور کے کئی باغ لگائے ان کو خود پانی دیتے تھے، ان کی خود دیکھ بھال کرتے تھے۔
حسن سلوک
آپ تمام لوگوں سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے تھے، بالخصوص معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے ساتھ آپ کا رویہ مشفقانہ ہوتا تھا۔ آپ اپنے غلام قنبر کے ساتھ بازار گئے اور دو عدد کپڑے کے سوٹ خریدے، ان میں سے اچھا اور مہنگا سوٹ اپنے غلام کو دے دیا، اس نے کہا یا امیرالمومنین اچھا سوٹ آپ لے لیجئے، مجھے دوسرا سوٹ دیجئے، میرے لیے وہ بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں، یہ اچھا سوٹ تم پہنو کیونکہ تم جوان ہو، تمہیں اس کی ضرورت ہے۔ دوسرا کم قیمت سوٹ میں پہنوں گا، میں بوڑھا ہوں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

طرز حکومت
آپ کا طرز حکومت عدل و انصاف پر مبنی تھا۔ آپ نے انتشار کا شکار مسلم معاشرے کو پھر سے جوڑنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ آپ نے  اپنی حکومتی پالیسی کا اظہار اپنے خط میں فرمایا۔ یہ خط عہد نامہ مالک اشتر کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں حضرت نے اصول حکمرانی بیان فرمائے۔ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم نے اس خط کو اپنی حکومت کے لیے نمونہ عمل قرار دیا تھا۔ آپ کے طرز حکمرانی کو اقوام متحدہ نے عرب ممالک کے لئے نمونہ عمل قرار دیا، جس میں کسی قسم کا طبقاتی نظام نہ تھا، وسائل پر ہر شہری کا برابر کا حق تھا،  اقلیتوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل تھے۔ آپکے دوران حکومت میں زیادہ تر اندرونی جنگوں کا سامنا رہا، مگر اس کے باوجود معاشرے کے پسماندہ طبقات کا خیال رکھا، ان کو تمام حقوق فراہم کئے۔
 
 
تحریر: ندیم عباس 
پی ایچ ڈی اسکالر نمل یونیورسٹی اسلام آباد
 
Read 232 times