امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک نیا اور حیران کن دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب واشنگٹن جلد ہی اس جنگی مشن کو ختم کرنے جا رہا ہے، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران پر حملے کے نتائج بیان کرتے ہوئے ایک بار پھر عجیب و غریب اور غیر معمولی دعوے کیے اور کہا کہ ایران کی حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو عصر حجر میں واپس دھکیل دیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بے بنیاد دعووں کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہمارا مشن بہت جلد مکمل ہوجائے گا، دو سے تین ہفتوں کے اندر ہم ایران کو چھوڑ دیں گے، اور ممکن ہے اس سے پہلے کوئی معاہدہ بھی طے پا جائے۔
ٹرمپ نے مزید دعوی کیا کہ ہم یہ آپریشن اس صورت میں بھی ختم کر دیں گے اگر کوئی معاہدہ نہ ہو۔ امریکہ بغیر معاہدے کے بھی جنگ روک دے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے میں امریکی اور صہیونی مفادات شدید دباؤ میں ہیں اور واشنگٹن پر جنگ روکنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔