Print this page

عزم و ارادے کی فتح؛ چالیس روزہ استقامت نے بڑی طاقتوں کے اندازے غلط ثابت کردیے

Rate this item
(0 votes)
عزم و ارادے کی فتح؛ چالیس روزہ استقامت نے بڑی طاقتوں کے اندازے غلط ثابت کردیے

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: واشنگٹن اور تل ابیب کے پالیسی سازوں نے انتہائی باریک بینی کے ساتھ ایسا منصوبہ تیار کیا تھا جس کا مقصد ایران کو شدید دباؤ میں لاکر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایک طرف ایران کے دفاعی نظام کو کمزور کرنا اور دوسری طرف حکومت اور عوام کے درمیان موجود مضبوط تعلق کو توڑنا مقصود تھا۔ تاہم چالیس روز تک جاری رہنے والی مزاحمت کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی اور اب دشمن نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے تہران کی شرائط کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صرف معمول کی سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی عسکری حکمت عملی کی ایک بڑی اور تاریخی ناکامی ہے۔

اس صورتحال کو ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس میں مزاحمت بتدریج ایسی سفارت کاری میں تبدیل ہوگئی جس نے مخالف قوتوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کردیا۔ اس عمل میں ایرانی عوام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عوامی استقامت ہی قومی طاقت اور اقتدار کی اصل بنیاد ثابت ہوئی۔

انقلابی بصیرت کے مقابلے میں دشمن کی حکمت عملی ناکام

گزشتہ چالیس دن ایران پر ہونے والا حملہ جدید تاریخ کے پیچیدہ اور کثیر جہتی حملوں میں سے ایک تھا۔ دشمن نے فوجی کارروائیوں، سائبر حملوں، معاشی دباؤ اور نفسیاتی جنگ کو یکجا کرکے میدان جنگ کی سرحدیں دانستہ طور پر دھندلا دی تھیں تاکہ قومی ارادے کو کمزور کیا جاسکے۔ مگر جس چیز کا اندازہ پینٹاگون اور موساد کی منصوبہ بندی میں نہیں لگایا جاسکا، وہ ایران کی انقلابی بصیرت تھی؛ یعنی تزویراتی تدبر، حکمتِ عملی پر مبنی صبر اور مناسب وقت پر درست اور مؤثر ردعمل کا امتزاج۔

دشمن کی پسپائی کسی خیرسگالی کا اظہار نہیں بلکہ مکمل عسکری تعطل اور خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خطے میں اس کے مفادات پر بڑھتی ہوئی ضربت کا نتیجہ ہے۔ اس صورتحال نے ثابت کیا کہ موجودہ عالمی نظام میں حق صرف مذاکرات کی میز پر نہیں ملتا بلکہ اسے طاقت کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

دباؤ کے ہر نئے مرحلے کے جواب میں ایران نے دفاعی، میزائل، بحری اور حتی کہ سفارتی سطح پر بھی اپنے اقدامات کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے نتیجے میں مخالف فریق اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تنازع کو جاری رکھنے سے ایران نہیں بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی اور اس کے اپنے اتحاد متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایران نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ طویل جنگ کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تزویراتی پختگی نے دشمن کی حکمت عملی کو عملی طور پر ناکام بنا دیا اور دنیا کے سامنے دانشمندانہ مزاحمت کا ایک نیا نمونہ پیش کیا۔

عوام؛ ملکی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی

دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے ایرانی حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کا غلط اندازہ لگایا۔ انہوں نے خیالی اختلافات پر اپنی حکمت عملی بنائی تھی، لیکن اس کے برعکس انہیں ایک باشعور اور فطری قومی یکجہتی کا سامنا کرنا پڑا؛ ایسا رشتہ جس کی جڑیں تاریخ، ثقافت اور انقلابی اقدار میں پیوست ہیں۔

دشمن کی عسکری پسپائی کے بعد اب مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مضبوط بنانا اور بیانیے کی جنگ اہم ہوگئی ہے۔ آئندہ دو ہفتوں کے دوران عوام کی بھرپور موجودگی قومی طاقت کو مزید مضبوط بنانے اور ایران کی شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دشمن اب اپنی شکست کے بیانیے کو بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسے میں مطالبات کے بارے میں بیداری، سماجی یکجہتی کو برقرار رکھنا اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت ہی وہ راستہ ہے جس سے دشمن اپنی عسکری ناکامی کو میڈیا یا نفسیاتی سازشوں کے ذریعے پورا نہیں کر سکے گا۔

باشعور اور پرجوش عوامی شرکت نہ صرف سفارت کاروں اور فوجی قیادت کے لیے قوت کا ذریعہ بنی بلکہ اس سے دشمن کو یہ پیغام ملا ہے کہ اگر وہ عسکری محاذوں کو نقصان پہنچانے میں کامیاب بھی ہوجائے تو بھی قوم کے عزم کی دیوار اس کے لیے ناقابل عبور رہے گی۔

انقلاب مخالف گروہوں کا زوال؛ اقتدار کے خواب سے دائمی رسوائی تک

ان چالیس دنوں کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انقلاب مخالف گروہوں کی حقیقت اور ان کی بنیادی کمزوریاں پوری طرح بے نقاب ہوگئیں۔ یہ گروہ جو اس مہم میں میڈیا اور ثقافتی محاذ پر دشمن کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے، اب اس وقت عملی طور پر سیاسی طور پر تنہا رہ گئے ہیں جب ان کے مغربی اور صہیونی سرپرست ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔

جو لوگ کل تک ایران کے قریب الوقوع زوال کی پیش گوئیاں کر رہے تھے، آج وہ ایسے حالات دیکھ رہے ہیں جن میں امریکہ اور صہیونی حکومت کو تہران کی شرائط ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس صورتحال کے بعد ان گروہوں کے سماجی حلقوں میں شدید مایوسی پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں غیر معمولی ٹوٹ پھوٹ، بعض عناصر کی واپسی اور شکست کی ذمہ داری کے تعین پر اندرونی جھگڑے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

وہ منصوبہ جس کے تحت بیرونی سرمایہ اور حمایت کے ذریعے ایران میں اختلافات اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، بالآخر مکمل ناکامی اور سیاسی و سماجی منظرنامے سے ان گروہوں کی تنہائی پر ختم ہوا۔ یہ واقعہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک اہم سبق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حاصل سخن

چالیس دن کی یہ تاریخی استقامت صرف ایک عسکری اور سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ایران ایک دفاعی کردار تک محدود رہنے کے بجائے اب ایسی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جو بڑی عالمی قوتوں پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے اور خطے میں مزاحمتی محور کے حق میں حالات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس صورتحال کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ صرف عسکری میدان میں کامیابی کافی نہیں ہوتی، جب تک اسے عوامی اور سماجی میدان میں محفوظ اور مستحکم نہ کیا جائے۔ آئندہ دو ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جارہے ہیں، جن میں اسٹریٹجک صبر اور عوام کی بھرپور شرکت کو کامیابی کے تسلسل کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ دشمن پسپا ہوچکا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ حقیقت سمجھ لے کہ ایرانی عوام کا عزم اور اتحاد کسی بھی فوجی دفاعی حصار یا مضبوط قلعے سے زیادہ طاقتور اور ناقابل نفوذ ہے۔

ان چالیس دنوں کو ایران کے اقتدار کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ ایسا دور جس میں مزاحمت صرف ایک وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ بقا، ترقی اور قومی خودمختاری کے لیے بنیادی راستہ سمجھی جارہی ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے مضبوط عزم کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے اہداف حاصل کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

 
Read 43 times