Print this page

بیروت پر حملہ، ایران کے انتباہ کے بعد نتن یاہو کی عقب نشینی، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے

Rate this item
(0 votes)
بیروت پر حملہ، ایران کے انتباہ کے بعد نتن یاہو کی عقب نشینی، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: مغربی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بعض اوقات ایک مختصر واقعہ بھی بڑے حقائق کو آشکار کر دیتا ہے۔ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر وسیع اسرائیلی حملے کی دھمکی اور پھر ایران کی جانب سے سخت انتباہات کے بعد اس منصوبے کا اچانک رک جانا بھی ایسے ہی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے جنگ پسند عناصر طاقت اور ممکنہ نقصانات کی زبان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

گذشتہ روز صہیونی حکومت نے لبنان کے خلاف اپنی دھمکیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ضاحیہ جنوبی بیروت کے بعض علاقوں کے مکینوں کو گھروں سے نکل جانے کی ہدایات جاری کیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ اسرائیلی فوج ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ ان حالات میں خطہ ایک نئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے دہانے پر پہنچتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم جب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اچانک صورتحال تبدیل ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد حملے کے منصوبے کو روکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس پیش رفت نے ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آخر چند گھنٹوں کے اندر ایسا کیا ہوا جس نے اتنے اہم فوجی فیصلے کا رخ بدل دیا؟

ایران کا بروقت ردعمل اور دشمن کی عقب نشینی

اس تبدیلی کے پس منظر میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے واضح اور دوٹوک پیغامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تہران نے واضح کیا کہ موجودہ جنگ بندی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اسی دوران ایسے انتباہات بھی سامنے آئے جن سے یہ تاثر ملا کہ لبنان کے خلاف کسی نئی جارحیت کی صورت میں ردعمل محدود نہیں رہے گا اور اس کے اثرات تل ابیب کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے فیصلے اخلاقی اصولوں، انسانی ہمدردی یا بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر نہیں بلکہ لاگت اور فائدے کے حساب سے کرتے ہیں۔ جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سامنے والے فریق میں جواب دینے کی صلاحیت یا ارادہ موجود نہیں تو وہ جارحانہ اقدامات اختیار کرتے ہیں، لیکن جب ممکنہ نقصانات اور سخت ردعمل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بیروت کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے صرف سفارتی بیانات کافی نہیں بلکہ مؤثر ڈیٹرنس اور طاقت کا توازن بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دفاعی طاقت ہی اصل ڈیٹرنس

خطے کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ لبنان سے غزہ تک، شام سے عراق تک، جب بھی طاقت کا خلا پیدا ہوا یا ڈیٹرنس کمزور پڑی، امریکہ اور اسرائیل کی جنگی مشین زیادہ سرگرم ہوئی۔ لیکن جب بھی انہیں مؤثر مزاحمت، جواب دینے کی صلاحیت اور مقابلے کے پختہ عزم کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اپنی حکمت عملی اور حساب کتاب تبدیل کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ کو روکنے والی چیز سفارتی وعدے نہیں بلکہ جنگ کی بھاری قیمت کا خوف ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ طرزعمل کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ صدر جو بارہا طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی کا ذکر کرچکے ہیں، درحقیقت دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں طاقت کی منطق پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی معاملات میں انہوں نے متعدد بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مذاکرات کو باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے ایک آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ صرف اسی وقت کشیدگی میں اضافہ کرنے سے گریز کرتے ہیں جب ان کے سامنے کوئی مؤثر قوت موجود ہو۔

اسی طرح بنیامین نیتن یاہو نے بھی گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ بیرونی بحرانوں کو اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ اور عدم استحکام عوامی توجہ کو سیاسی، سکیورٹی اور سماجی بحرانوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم وہ بھی اس وقت پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جب انہیں یہ محسوس ہو کہ تنازع کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتی ہے۔

سفارت کاری اور دفاعی طاقت کا تعلق

بیروت پر ممکنہ حملے کے رک جانے کو صرف سفارتی رابطوں یا ثالثی کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے طاقت کی ضمانت موجود ہو۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ طاقت کے بغیر مذاکرات بے بنیاد وعدوں پر ختم ہوتے ہیں اور فریق مقابل کو مزید دباؤ ڈالنے اور اپنی خواہشات بڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ حالیہ واقعے میں اصل مؤثر عنصر یہ تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر وہ اپنی موجودہ راہ پر آگے بڑھتے رہے تو انہیں ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہوں۔

یہ واقعہ لبنان کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ لبنانی حکومت نے گزشتہ برسوں میں متعدد بار سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ قومی سلامتی کو صرف بیرونی وعدوں کے سہارے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ بڑی طاقتیں اسی وقت ممالک کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات اس کا تقاضا کریں، اور جب مفادات کا رخ بدل جائے تو وہ کھلی جارحیت اور واضح خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز کردیتی ہیں۔

لہٰذا لبنان کی سلامتی کی ضمانت نہ بین الاقوامی بیانات دے سکتے ہیں اور نہ ہی بیرونی طاقتوں کی یقین دہانیاں، بلکہ اس کے لیے ایک مؤثر ڈیٹرنس کا قیام اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ ایسا توازن جس میں دشمن اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ جارحیت کی قیمت اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف اسی صورت میں جنگ کے امکانات کم ہوتے ہیں اور پائیدار استحکام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

حاصل سخن

جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ کا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مغربی ایشیا کے پرآشوب ماحول میں طاقت اب بھی وہ سب سے اہم عنصر ہے جو مختلف فریقوں کے رویوں کا تعین کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کا ایسے حملے سے پیچھے ہٹ جانا جو عملی نفاذ کے قریب پہنچ چکا تھا، ان کے امن اور استحکام سے متعلق نظریات میں کسی اچانک تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ فوجی کارروائی کی ممکنہ قیمت اور نتائج کے بارے میں ان کے اندازوں میں آنے والی تبدیلی کا مظہر تھا۔

اس واقعے کا بنیادی سبق بالکل واضح ہے۔ ایسے فریقوں کے مقابلے میں جن کی تاریخ جنگوں، قبضہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہو، صرف حسن نیت پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوتا۔ جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کا توازن قائم رکھا جائے، عزم و ارادے کا مظاہرہ کیا جائے اور دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے۔ بیروت کے تجربے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جب جارحیت کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو انتہائی سخت گیر اور جنگ پسند سیاست دان بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ بالآخر وہ ہر زبان سے زیادہ طاقت کی زبان کو سمجھتے ہیں

Read 2 times