Print this page

ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کا عبرتناک انجام: تختہ الٹنے کا خواب چکناچور

Rate this item
(0 votes)
ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کا عبرتناک انجام: تختہ الٹنے کا خواب چکناچور

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران کے خلاف تقریبا تین ماہ قبل ایک ہمہ جہت تجاوز شروع کیا گیا جس میں فوجی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور میڈیا ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا، جس کا مقصد ایرانی نظام کا تختہ الٹنا تھا۔ تاہم، جنگ کے ۴۰ دنوں بعد اب مغربی اور صیہونی تجزیہ کار بھی شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ اس جنگ نے ایران کو گرانے کے بجائے اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر مزید مضبوط کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اب پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔

اس جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے اس دیرینہ دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی ملک کو فوجی طاقت سے جھکا سکتے ہیں۔ طویل جنگ، اہداف کے حصول میں ناکامی اور بالآخر جنگ بندی کی طرف رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی ڈیٹرنس ایران کے سامنے بے اثر ہو چکی ہے۔ آج عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں کوئی بھی پائیدار سیاسی انتظام ایران کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا اسٹریٹجک تسلط

اس کشمکش کے دوران آبنائے ہرمز کا مسئلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا، کیونکہ اس جنگ کے غیر اعلانیہ مقاصد میں سے ایک اہم ہدف توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر ایران کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ تاہم، یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا اور جنگ کے بعد خلیج فارس کی سکیورٹی اور استحکام کے معاملات میں ایران کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

آج بہت سے مغربی تجزیہ کار بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کی اہمیت اور اس کے کردار کو نظر انداز کر کے خطے میں کوئی بھی پائیدار سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنا ناممکن ہے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی سازش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب عالمی طاقتیں یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ تہران کو خطے کے اہم معاملات سے خارج کرنا ممکن نہیں ہے۔

علاقائی اور داخلی صورتحال پر اثرات

جنگ کے دوران ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں الٹا اثر کر گئیں۔ خطے کے وہ ممالک جو ایران مخالف پالیسیوں میں شامل تھے، اب محتاط ہو چکے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا مطلب پورے خطے میں بحران پھیلانا ہے۔ داخلی محاذ پر بھی دشمن کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے ایرانی معاشرے کو صرف سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کے آئینے میں دیکھا تھا، لیکن ایرانی عوام نے خارجی خطرات کے سامنے مثالی وحدت کا مظاہرہ کر کے دشمن کے سماجی تقسیم کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

حاصل سخن

اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن وار کا امریکی نظریہ ایک خام خیالی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے نہ صرف جوابی کارروائیاں جاری رکھیں بلکہ اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی مکمل طور پر فعال رکھا۔ اب خود مغربی حلقوں میں یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا وسیع تر تصادم امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ دشمن کسی بھی حماقت کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہے۔

Read 21 times