Print this page

ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل کو مفلوج کر دیا، الجزیرہ ٹی وی

Rate this item
(0 votes)
ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل کو مفلوج کر دیا، الجزیرہ ٹی وی

 الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی ساتویں لہر نے اسرائیل پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور مقبوضہ علاقوں کے مختلف حصوں میں غیر معمولی ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حیفا، الجلیل، گولان، گریٹر تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جسے مبصرین نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سب سے بڑی عسکری پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسرائیلی داخلی محاذ کی کمان نے ہنگامی حالت کے تمام پروٹوکول دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔ اسپتالوں کو مکمل ایمرجنسی 4پر منتقل کر دیا گیا ہے، تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور نجی کمپنیوں و اداروں کو اپنی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق فضائی نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کے سائرن فعال ہونے کے باعث متعدد مسافر طیارے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر لینڈ نہ کر سکے اور انہیں اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے۔

رام اللہ میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید العمری نے بتایا کہ مقبوضہ فلسطین کی تقریباً ایک کروڑ آبادی میں سے آٹھ ملین کے قریب افراد، جو کل آبادی کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتے ہیں، فوری طور پر پناہ گاہوں اور محفوظ کمروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے گزشتہ حملوں کے بھی زمینی اثرات دیکھے گئے۔ ایک میزائل نابلس کے قریب ایتمار بستی میں گرا، جبکہ ایک اور میزائل اریحا اور بحیرہ مردار کے درمیان شمال مغربی علاقے میں آ کر گرا۔ اسی طرح میزائلوں کے ٹکڑے بیت شیمش کے علاقے میں بھی گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے سابقہ حملوں میں دیمونا، بئر السبع اور بحیرہ مردار کے جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے اشدود کے قریب سات میزائلوں کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا۔

الجزیرہ نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ایرانی حملوں کے جواب میں تحمل سے کام لینے کی درخواست کی، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے اس مشورے کو خاطر میں نہیں لایا۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے گزشتہ شب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے تین مرتبہ گفتگو کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ عسکری اور آپریشنل تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Read 40 times