مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک؛ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے گذشتہ سال سے اب تک دو مرتبہ جنگ مسلط کی گئی۔ ایران پر جارحیت کے کئی اہداف تھے جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے دشمن نے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کو روند ڈالا تاہم اس کے باوجود دشمن جنگ میں بری طرح شکست سے دو چار ہورہا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود امریکی اور صہیونی افواج ایران کے خلاف قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ اس سے دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ ایران اس جنگ میں کیوں اور کیسے فاتح بن رہا ہے؟
جنگ میں فتح کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ ہتھیار یا طاقتور فوج ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون فریق اپنی مرضی دوسرے پر مسلط کرنے اور اسے اپنے مقاصد کے حصول سے روکنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں تہران امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمت، حملوں کا جواب دینے اور دشمن کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانے کو کامیابی کا حصہ سمجھتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی اور تکنیکی برتری پر انحصار کیا، لیکن جدید ہتھیاروں کی موجودگی جنگ کے نتیجے کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر کوئی طاقتور فوج وسیع حملوں کے باوجود مخالف فریق کو پسپائی پر مجبور نہ کرسکے تو محض اپنی عسکری صلاحیت کی بنیاد پر فتح کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔
فوجی برتری فتح کی ضمانت نہیں
امریکہ طویل عرصے سے اپنی فوجی برتری کو دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے، لیکن گزشتہ جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی طاقت، جدید ہتھیار اور بھاری فوجی بجٹ ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتے۔
ایران کے معاملے میں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کتنا نقصان ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا ان حملوں کے ذریعے تہران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری پابندیوں، فوجی دھمکیوں اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسی برقرار رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ بیرونی دباؤ لازماً تسلیم و اطاعت پر منتج نہیں ہوتا۔ اسی لیے تہران اپنی مزاحمت اور جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھنے کو اہم سمجھتا ہے۔
امریکہ کے لیے جنگ مہنگی بنانے کی حکمت عملی
ایران کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو میدان جنگ کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے مہنگا اور غیر یقینی بنانا ہے۔ امریکی فوج بعض شعبوں میں برتری رکھتی ہے، لیکن اس برتری کو میدان جنگ میں برقرار رکھنا اور اسے سیاسی مقاصد کے حصول میں تبدیل کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔
ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور حملوں کا جواب دینے کی استعداد نے امریکی اور اسرائیلی فوجی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ اس صورت حال میں مخالف فریق کو اپنی افواج اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے مزید وسائل مختص کرنا پڑتے ہیں، جبکہ جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جنگ کے اخراجات صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مالی بوجھ، خطے میں تعینات امریکی افواج پر دباؤ، اتحادیوں کی تشویش اور سیاسی اثرات بھی امریکی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھا کر واشنگٹن کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جائے۔ تاہم، اخراجات میں اضافہ بذات خود حتمی نتیجے کا فیصلہ نہیں کرتا؛ اس کی اہمیت تب بڑھتی ہے جب وہ امریکی قیادت کو اپنے اہداف پر نظرثانی پر آمادہ کرے۔
آبنائے ہرمز؛ ایران کا اہم ترین جغرافیائی ہتھیار
ایران کی اہم تزویراتی طاقتوں میں آبنائے ہرمز کے قریب اس کا جغرافیائی محل وقوع بھی شامل ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل اور گیس کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی تشویش بڑھا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف خطے تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کی کئی بڑی معیشتیں اس راستے سے توانائی کی مستحکم ترسیل پر انحصار کرتی ہیں۔ چنانچہ یہاں کشیدگی میں اضافہ ایک فوجی تنازعے کو وسیع اقتصادی اور بین الاقوامی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔
اس صورت حال میں امریکہ کو میدان جنگ کے علاوہ عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ خطے کے ممالک بھی ایسے بحران کے تسلسل سے متاثر ہوسکتے ہیں جو ان کی توانائی کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرہ بن جائے۔
یوں آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں، بلکہ ایک تزویراتی مقام ہے جو بڑی طاقتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ تاہم، اس صلاحیت کے عملی اثرات کا انحصار میدان جنگ کی صورت حال، دوسرے ممالک کے ردعمل اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر بھی ہے۔
پابندیاں ایران کو جھکانے میں ناکام
امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیل کی تجارت پر پابندیاں، مالی لین دین میں رکاوٹیں اور بیرونی تجارت کو محدود کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا مقصد ایران کے لیے مزاحمت کی قیمت بڑھانا اور اسے امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا رہا ہے، تاہم ایران نے اپنی آزادانہ پالیسی برقرار رکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پابندیاں بے اثر رہی ہیں یا ایران کو اقتصادی مشکلات کا سامنا نہیں، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشی دباؤ اور سیاسی فیصلوں میں تبدیلی کے درمیان کوئی یقینی تعلق نہیں۔ طویل پابندیوں کے باوجود ملک اپنے بنیادی سیاسی فیصلوں پر قائم رہتا ہے تو اسے امریکی دباؤ کی مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہی منطق فوجی کارروائیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اگر حملوں کا مقصد ایران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے تو محض نقصان پہنچانا کافی نہیں ہوگا۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب فوجی دباؤ ایران کے سیاسی طرزعمل میں بنیادی تبدیلی لاسکے۔
داخلی استحکام کی اہمیت
کسی بھی جنگ میں فوجی طاقت کے ساتھ سیاسی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ملک چلانے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران پر بیرونی دباؤ کا ایک مقصد جنگ اور پابندیوں کے اخراجات کو داخلی بے اطمینانی میں تبدیل کرنا اور ملکی فیصلہ سازی کو متاثر کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں تہران داخلی استحکام برقرار رکھنے اور دشمن کے سیاسی اہداف ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ داخلی استحکام کا مطلب عوامی مشکلات یا جنگ کے اخراجات کو نظرانداز کرنا نہیں۔ اقتصادی مسائل کا انتظام، عوامی ضروریات پوری کرنا اور اعتماد برقرار رکھنا بھی ملک کی مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت کے لیے اہم ہے۔
جنگ اور علاقائی ممالک پر اثرات
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے، بلکہ خطے کے دوسرے ممالک بھی اس کے سکیورٹی اور اقتصادی نتائج سے متاثر ہوئے ہیں۔ علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کی موجودگی سے ان ممالک کو جنگ کے پھیلاؤ کے ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حالات میں ان حکومتوں کو امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات اور جنگ کے ممکنہ نقصانات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑا ہے۔ اگر امریکی اتحادیوں کو محسوس ہو کہ جنگ کا تسلسل ان کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرہ بن رہا ہے تو وہ واشنگٹن پر بحران محدود کرنے اور اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
اس طرح ایران کے خلاف جنگ کے علاقائی اخراجات امریکہ کے لیے ایک اضافی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ واشنگٹن کو اپنے فوجی اہداف کے ساتھ اتحادیوں کے خدشات اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ پر ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
ایران کی فتح کا معیار کیا ہے؟
جنگ کے نتیجے کا جائزہ لیتے وقت فوجی کامیابی اور سیاسی مقاصد کے حصول میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کوئی فریق بعض فوجی کارروائیوں میں برتری حاصل کرنے کے باوجود اپنے بنیادی سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔ اسی طرح دباؤ کے مقابلے میں ڈٹے رہنے والے فریق کو مکمل فوجی فاتح قرار دینا بھی ضروری نہیں، لیکن وہ دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔
ایران کی حکمت عملی کو چند بنیادی نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے: جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھنا، امریکی مطالبات مسلط ہونے سے روکنا، جنگ کے اخراجات بڑھانا، جغرافیائی اور علاقائی اہمیت سے فائدہ اٹھانا اور داخلی استحکام برقرار رکھنا۔
اس نقطہ نظر کے مطابق، اگر امریکہ اپنی فوجی برتری کے باوجود ایران کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا تو اسے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے۔ ایسی صورت حال اس بات کی مثال ہوگی کہ فوجی برتری لازماً سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم ان صلاحیتوں کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کا انحصار مزاحمت جاری رکھنے، جنگ کے اخراجات سنبھالنے، علاقائی صورت حال اور مخالف فریق کے فیصلوں پر ہوگا۔ کوئی حکمت عملی حتمی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتی۔
طاقت کی نہیں، ارادوں کی جنگ
آخرکار ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا معاملہ صرف میزائلوں، طیاروں یا فوجی سازوسامان کی تعداد تک محدود نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون فریق اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے اور کسے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک فتح اس وقت معنی رکھتی ہے جب وہ فوجی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی برقرار رکھے اور امریکہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے سے روک دے۔ اس تناظر میں جوابی کارروائی کی صلاحیت، ایران کا تزویراتی محل وقوع اور جنگ کے اخراجات میں اضافہ واشنگٹن کے حساب کتاب کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔
اسی لیے جنگ کے نتیجے کا تعین صرف پہنچنے والے نقصان یا کسی ایک فریق کی فوجی برتری سے نہیں کیا جاسکتا۔ حتمی معیار یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کس کے سیاسی مقاصد حاصل ہوئے۔
اگر امریکہ اور اسرائیل کا مقصد ایران کو پسپائی پر مجبور کرنا ہو، لیکن تہران دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی فیصلوں پر قائم رہے تو یہ ایران کی ایک تزویراتی کامیابی ہے۔ اس تصور میں فتح کا مطلب دشمن کی مکمل فوجی شکست نہیں، بلکہ اس کے مقاصد ناکام بنانا اور اسے اپنی طاقت کی حدود تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔