Print this page

آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک ساتھ بند ہوجائیں تو عالمی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک ساتھ بند ہوجائیں تو عالمی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کی جانب سے اسلام آباد امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے نتیجے میں مشرق وسطی میں سیکورٹی کے حالات دوبارہ گھمبیر ہوگئے ہیں۔ ایران کے ساحلی علاقوں پر حملوں کے بعد ایران نے بھی خلیج فارس کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی دوران یمن پر بھی سعودی عرب کی جارحیت کے بعد یمنی فوج نے جوابی کاروائیوں کی دھمکی دی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب دونوں کی بندش کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر امریکہ اور سعودی اتحاد کی علاقائی جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں ایک ساتھ بند ہو جائیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین تجارتی اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آبنائے ایشیا میں یمن کو افریقہ کے ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن، بحیرہ عرب، نہر سویز اور بحیرہ روم سے ملاتی ہے، جس کے باعث یورپ، ایشیا اور امریکہ کے درمیان تجارت میں اس کی کلیدی حیثیت ہے۔ روزانہ 70 سے 100 لاکھ بیرل خام تیل اس راستے سے گزرتا ہے، جبکہ عالمی تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ بھی اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کی مائع قدرتی گیس کی تقریباً 25 فیصد ضروریات بھی اسی راستے سے پوری کی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباً 21 ہزار تجارتی جہاز، یعنی اوسطاً 57 جہاز روزانہ، باب المندب سے گزرتے ہیں اور ان کی مجموعی تجارتی مالیت تقریباً 700 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر باب المندب کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر نقل و حمل کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ایشیا سے یورپ تک بحری سفر کا دورانیہ 31 دن سے بڑھ کر 41 دن ہو جائے گا، جبکہ ایک اوسط کنٹینر بردار جہاز کے سفر کی بنیادی لاگت تقریباً 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 17 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

باب المندب کی بندش کے ممکنہ اثرات

بین الاقوامی تیل اور توانائی کی منڈی کے ماہر عامر الشوبکی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ باب المندب کو تجارتی اعتبار سے غیر محفوظ بنا سکتی ہے، اور ایسی صورت حال عملی طور پر آبنائے کی مکمل بندش کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بحری جہازوں پر 100 سے زائد حملے کیے، جس کے باعث بڑی عالمی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں باب المندب سے گزرنے والے تیل کی مقدار 2023 میں تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 2024 میں 40 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔

اس صورت حال نے نہر سویز کو بھی براہ راست متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق نہر سویز کی آمدنی 2023 میں 10.2 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2024 میں تقریباً 4 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ نہر سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی 26 ہزار سے گھٹ کر تقریباً 13 ہزار رہ گئی۔ اس کے باعث مصر اپنی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی اہم ترین آمدنی سے محروم ہوا اور ملکی بجٹ اور مصری پاؤنڈ پر اضافی دباؤ بڑھ گیا۔

عالمی تیل کی آبی گزرگاہوں کا گھیرا تنگ ہونے کا خدشہ

عامر الشوبکی کے مطابق سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں کو ایک ساتھ بند ہونے کا سامنا کرنا پڑے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو سعودی عرب نے اپنے مشرقی تیل کے ذخائر کو مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کے لیے مشرق۔مغرب پائپ لائن کا استعمال کیا، تاکہ اپنے تیل کا ایک حصہ عالمی منڈیوں، خصوصاً ایشیائی ممالک، تک پہنچا سکے۔

الشوبکی نے بتایا کہ حالیہ بحران کے دوران اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 47 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا گیا، جس کا تقریباً نصف چین جاتا تھا۔ تاہم بندرگاہ ینبع سے ایشیا جانے والے اس تیل کو باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر یمن باب المندب کو بند کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس صورت حال میں سعودی عرب، چین اور مصر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب بیک وقت بند ہو جائیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا اور مصر، سعودی عرب، یورپ، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے معاشی اور تجارتی مفادات براہِ راست اس بحران کی زد میں آ جائیں گے۔

عالمی رسد کا نظام نئے امتحان سے دوچار

اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کی رپورٹ کے مطابق، 2024 کے وسط تک بحری جہازوں کا باب المندب کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر کرنے سے عالمی سطح پر جہازوں کی طلب میں 3 فیصد، جبکہ کنٹینر بردار جہازوں کی طلب میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورت حال عالمی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

توانائی کے امور کی ماہر لوری ہیتایان کے مطابق باب المندب کی بندش کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایشیا سے یورپ سامان کی ترسیل میں اوسطاً 15 سے 20 دن کی تاخیر ہوسکتی ہے، جس سے نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اور خطے کے ممالک کی معیشتوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

ادھر رائٹرز نے خبردار کیا ہے کہ باب المندب کی بندش کی مسلسل دھمکی بھی عالمی تجارت کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہے۔ بڑھتے ہوئے انشورنس اخراجات اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے خطرات کے ازسرِ نو جائزے کے باعث بحری جہاز طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے کسی حملے سے پہلے ہی نقل و حمل کی لاگت اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق باب المندب محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کی ایک اہم شہ رگ ہے۔ اس کی بندش سے صرف تیل کی منڈی ہی نہیں بلکہ عالمی نقل و حمل، سپلائی چین، لاجسٹکس اور بین الاقوامی تجارت کا پورا نظام شدید مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔
 

Read 51 times