Print this page

قم : اہل بیتؑ کا روحانی آشیانہ

Rate this item
(0 votes)
قم : اہل بیتؑ کا روحانی آشیانہ

 انسانی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں زمین محض زمین نہیں رہتی بلکہ وہ آسمان سے جڑ جاتی ہے۔ قم بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے—خاموش مگر گویا، سادہ مگر پُر اسرار، جہاں ہر سانس میں ولایت کی خوشبو اور ہر گوشے میں علم کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جسے ایک عظیم خاتون کی مختصر مگر بابرکت حیات نے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا—حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا، جن کا وجود قم کے لیے روح اور امت کے لیے چراغ بن گیا۔

مدینہ منورہ کی نورانی فضا میں آپ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جس کے ہر فرد نے تاریخ کو نئی سمت دی۔ آپ نے آنکھ کھولی تو علم آپ کے سامنے تھا، عبادت آپ کے ماحول میں تھی، اور ولایت آپ کی سانسوں میں رچی بسی تھی۔ قرآن نے اہل بیتؑ کی اسی پاکیزگی کو یوں بیان کیا:

﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾

ترجمہ: “اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا کرے۔”

(سورۃ الاحزاب: 33)

یہ آیت صرف ایک فضیلت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا اعلان بھی ہے—اور حضرت معصومہؑ نے اپنی مختصر زندگی میں اس ذمہ داری کو اس طرح نبھایا کہ تاریخ حیران رہ گئی۔

آپ کی زندگی کا سب سے درخشاں پہلو وہ ہجرت ہے جو بظاہر ایک بہن کی اپنے بھائی سے ملاقات کی آرزو تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک فکری و روحانی تحریک تھی۔ جب امام علی رضا علیہ السلام کو عباسی حکومت نے خراسان منتقل کیا تو مدینہ کی گلیاں سونی ہو گئیں۔ اس فراق نے حضرت معصومہؑ کے دل میں ایک ایسا شعلہ بھڑکایا جو انہیں سفر پر لے آیا۔ یہ سفر صرف میلوں کا نہیں بلکہ ایک پیغام کا سفر تھا—حق کے ساتھ وابستگی کا، ظلم کے مقابل صبر کا، اور ولایت کی تبلیغ کا۔

راستے کی سختیاں، ساوہ کا سانحہ، اور بیماری کی حالت—یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سفر عام نہیں تھا۔ اسی حالت میں آپ نے قم کا رخ کیا، گویا آپ کو معلوم تھا کہ اس سرزمین نے آپ کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے۔ جب آپ قم پہنچیں تو لوگوں نے جس عقیدت سے استقبال کیا، وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دلوں میں اہل بیتؑ کی محبت پہلے ہی گھر کر چکی تھی، اور اب اسے ایک مرکز مل گیا تھا۔

آپ کی مختصر قیام نے قم کو بدل کر رکھ دیا۔ چند دنوں کی عبادت، دعا اور خاموش تعلیم نے اس شہر کی روح میں ایک ایسا اثر چھوڑا کہ وہ صدیوں تک باقی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہؑ نے قم اور حضرت معصومہؑ کی عظمت کو بارہا بیان فرمایا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

«أَلَا إِنَّ قُمَّ عُشُّ آلِ مُحَمَّدٍ وَمَأْوَى شِيعَتِهِمْ»

ترجمہ: “خبردار! قم آلِ محمدؐ کا آشیانہ اور ان کے شیعوں کی پناہ گاہ ہے۔”

(بحار الانوار، ج 60، ص 217)

اور ایک اور روایت میں حضرت معصومہؑ کی شان یوں بیان ہوئی:

«مَنْ زَارَهَا عَارِفًا بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ»

ترجمہ: “جو ان کی زیارت ان کے حق کی معرفت کے ساتھ کرے، اس کے لیے جنت ہے۔”

(بحار الانوار، ج 60، ص 228)

یہ “معرفت” دراصل اس پیغام کو سمجھنے کا نام ہے جو حضرت معصومہؑ نے اپنی زندگی سے دیا—کہ علم بغیر ولایت کے ادھورا ہے، اور ولایت بغیر شعور کے بے اثر۔

آج قم کو دیکھیں تو وہ ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ ادارہ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں مدارس، کتب خانے، تحقیقی مراکز اور علمی حلقے موجود ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ اس شہر میں علمِ دین حاصل کرتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں فکر، عبادت اور عمل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں کے مدرسوں میں صرف کتابیں نہیں کھلتیں بلکہ ذہن بھی روشن ہوتے ہیں، اور یہاں کے صحنوں میں صرف قدم نہیں پڑتے بلکہ تقدیریں بدلتی ہیں۔

قم کی فضا میں ایک عجیب سکون ہے۔ فجر کے وقت جب اذان کی آواز حرم کے گنبد سے ٹکرا کر پورے شہر میں پھیلتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خود زمین بھی عبادت میں مشغول ہو گئی ہو۔ دن کے وقت طلبہ کے مباحثے، رات کے وقت زائرین کی دعائیں—یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو دنیا کے کسی اور مقام پر کم ہی نظر آتا ہے۔

اسی سرزمین سے فکری بیداری کی وہ لہریں اٹھیں جنہوں نے زمانے کا رخ بدل دیا۔ یہاں سے اٹھنے والی آوازوں نے نہ صرف ایک ملک بلکہ پوری امت کو متاثر کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب علم اور روحانیت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو وہ صرف افراد نہیں بلکہ تاریخیں بدل دیتے ہیں۔

حرمِ حضرت معصومہؑ آج بھی صرف ایک زیارت گاہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ لے کر جاتا ہے—کوئی سکون، کوئی یقین، کوئی عزم، اور کوئی آنسو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل نرم ہوتے ہیں، نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور انسان اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔

خدایا جس طرح تو نے اس پاکیزہ خاتون کے ذریعے قم کو علم و نور کا مرکز بنایا، ہمیں بھی وہ نور عطا فرما کہ ہم اپنی زندگیوں کو تیرے دین کے لیے وقف کر سکیں۔ ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم حق کو پہچان سکیں، اور وہ استقامت دے کہ ہم اس پر قائم رہ سکیں۔ اور ہمیں حضرت معصومہؑ کی سچی محبت اور ان کی زیارت کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

Read 9 times