Print this page

آیہ مباہلہ؛ پیغمبر اکرم (ص) کی حقانیت اور اہل بیت (ع) کی فضیلت کی اہم ترین دلیل، کیسے؟!

Rate this item
(0 votes)
آیہ مباہلہ؛ پیغمبر اکرم (ص) کی حقانیت اور اہل بیت (ع) کی فضیلت کی اہم ترین دلیل، کیسے؟!

"آیہ مباهلہ" (سورہ آل عمران، آیت 61) میں سب سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ مباهلہ کا معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی روشن دلیل ہے کیونکہ جو شخص اپنے پروردگار سے اپنے تعلق پر یقین کامل نہ رکھتا ہو، وہ ایسے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ یعنی وہ اپنے مخالفین کو دعوت دے کہ آؤ ہم خدا کے حضور جائیں اور اس سے دعا کریں کہ جھوٹے کو رسوا کر دے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ میری بددعا مخالفین کے خلاف اثر کرے گی اور تم اس کا نتیجہ دیکھو گے۔

سوال: "آیہ مباہلہ" کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت اور اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کے اہم ترین دلائل میں سے کیوں شمار کیا جاتا ہے؟

اجمالی جواب:

پہلی بات یہ کہ مباهلہ کا واقعہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت میں حقانیت کی علامت ہے کیونکہ جو شخص اپنے راستے پر یقین کامل نہ رکھتا ہو وہ مباهلہ نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ کہ یہ آیت خدا کے نزدیک اہل بیت علیہم السلام کے مقام کی عظمت پر واضح سند ہے کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میدان میں صرف انہیں اپنے ساتھ لیا اور یہ پوری امت پر ان کی برتری کی نشانی ہے۔

تفصیلی جواب:

"آیہ مباهلہ" (سورہ آل عمران، آیت 61) میں سب سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ مباهلہ کا معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی روشن دلیل ہے کیونکہ جو شخص اپنے پروردگار سے اپنے تعلق پر یقین کامل نہ رکھتا ہو، وہ ایسے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ یعنی وہ اپنے مخالفین کو دعوت دے کہ آؤ ہم خدا کے حضور جائیں اور اس سے دعا کریں کہ جھوٹے کو رسوا کر دے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ میری بددعا مخالفین کے خلاف اثر کرے گی اور تم اس کا نتیجہ دیکھو گے۔

یقیناً ایسے میدان میں قدم رکھنا بہت خطرناک ہے کیونکہ اگر بددعا قبول نہ ہوئی اور مخالفین پر عذاب کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا تو نتیجہ دعوت دینے والے کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور کوئی عقل مند انسان بغیر یقین کے اس میدان میں قدم نہیں رکھتا۔

اسی لیے اسلامی روایات میں ہے کہ جب مباهلہ کا وقت آیا تو نجران کے عیسائیوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مہلت مانگی تاکہ غور کریں اور جب انہوں نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ان خاص لوگوں کو لے کر آئے ہیں جن کی دعا قبول ہو سکتی ہے اور بغیر کسی ہنگامے اور تکلفات کے میدان مباهلہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے اسے آپ کی دعوت کی سچائی کی ایک اور دلیل سمجھا اور مباهلہ سے باز رہے، مبادا خدا کے عذاب میں گرفتار ہو جائیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چند خاص قریبی افراد، چھوٹے بچوں اور اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو لے کر مقررہ مقام پر آئے ہیں تو وہ سخت گھبرا گئے اور صلح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

دوسری طرف، یہ آیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت یعنی امام علی، حضرت فاطمہ ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے بلند مقام کی روشن سند ہے کیونکہ اس آیت میں تین الفاظ آئے ہیں: "اَنْفُسَنا" (ہماری جانوں کو)، "نِسائَنا" (ہماری عورتوں کو)، اور "اَبْنائَنا" (ہمارے بیٹوں کو)۔ بلاشبہ "اَبْنائَنا" سے مراد امام حسن و امام حسین علیہما السلام ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ "نِسائَنا" کسی پر بھی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سوا منطبق نہیں ہوتا۔ رہا "اَنْفُسَنا"، تو یقیناً اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مراد نہیں کیونکہ آیت کہتی ہے: «نَدْعُ ... وَ انْفُسَنا»"ہم پکاریں... اور اپنے نفسوں کو" اگر اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہوتے تو انسان کا خود کو پکارنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لہٰذا کوئی راستہ نہیں بچتا مگر یہ کہ کہا جائے کہ اس سے مراد صرف علی علیہ السلام ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ فخر رازی نے اس آیت کے تحت محمود بن حسن الحمصی (جو شیعہ علماء میں سے تھے) سے ایک قول نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت سے ثابت کرتے تھے کہ علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام انبیاء اور تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ وہ کہتے تھے: "انسان کا خود کو پکارنا اور اپنے آپ کو کسی کام کے لیے بلانا ممکن نہیں۔ لہٰذا 'اَنْفُسَنا' سے مراد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی اور ہے اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کے ساتھ علی علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ چنانچہ آیت کہتی ہے: 'علی علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفس و جان کے مقام پر ہیں'، یقیناً وہ بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نہیں ہیں لیکن نبوت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر شخص پر برتری کے علاوہ دیگر تمام پہلوؤں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند ہیں۔"

نیز ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء سے افضل تھے لہٰذا علی علیہ السلام بھی افضل ہونا چاہیے۔ پھر وہ اس حدیث سے استناد کرتے ہیں جسے دوست اور دشمن دونوں نے قبول کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ اَرادَ اَنْ یَرَی آدَمَ فی عِلْمِهِ وَ نُوحاً فی طاعَتِهِ وَ اِبْراهیمَ فی خُلَّتِهِ وَ مُوسی فی هَیْبَتِهِ وَ عَیسی فی صَفْوَتِهِ، فَلْیَنْظُر اِلی عَلِیِّ بْنِ اَبیطالِب(علیه السلام)»؛ "جو کوئی آدم علیہ السلام کو ان کے علم میں، نوح علیہ السلام کو ان کی اطاعت میں، ابراہیم علیہ السلام کو ان کی خلّت (دوستی) میں، موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ہیبت میں اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی صفوت (پاکیزگی) میں دیکھنا چاہے تو وہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طرف دیکھے!"

فخر رازی اس قول کے بعد کہتے ہیں: "دوسرے شیعہ بھی ماضی و حال میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفس و جان کے مانند ہیں، سوائے ان خصوصیات کے جن کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دلیل ثابت کرتی ہے اور یہ مسلّم ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام صحابہ سے افضل تھے، پس علی علیہ السلام بھی افضل ہونے چاہیے۔" (مفاتیح الغیب، فخرالدین رازی، ابو عبد الله محمد بن عمر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، چاپ سوم، ۱۴۲۰ ق، ج ‏۸، ص ۲۴۸،(سوره آل‏ عمران، آیه ۶۱).

بہر حال، اس آیت کریمہ اور اس کے تحت آنے والی متواتر احادیث سے جو فضیلت حاصل ہوتی ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت اور جانشینی کے معاملے کو مزید واضح کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی راضی نہیں ہوتا کہ افضل اور برتر شخص ماموم ہو اور غیر افضل امام ہو۔ جو شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان اور نفس کی طرح ہے وہ پیرو ہو اور دوسرے جو بعد کے درجات پر ہوں وہ پیشوا ہوں!

اس معاملے میں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم امامت کو اللہ کے نصب پر موقوف سمجھیں (جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے) یا لوگوں کے انتخاب پر (جیسا کہ برادرانِ اہل سنت کا عقیدہ ہے) کیونکہ پہلی صورت میں اللہ کبھی مفضول کو افضل پر مقدم نہیں کرے گا اور دوسری صورت میں بھی لوگوں کو حکمت کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے، اگر کریں تو وہ پسندیدہ اور مقبول نہیں ہوگا۔ (از کتاب: پیام قرآن، مکارم شیرازی، ناصر، دارالکتب الاسلامیه، تهران، ۱۳۸۶ش، چاپ ششم، ج ۹، ص ۲۴۹.)

Read 6 times