Print this page

عالمی منظرنامہ اور اربعین کی نئی معنویت

Rate this item
(0 votes)
عالمی منظرنامہ اور اربعین کی نئی معنویت

عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اپنے دورہ ایران میں صدر ایران سمیت اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران اور عراق کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ، توانائی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے واضح کیا کہ عراق اور ایران کا امن و استحکام باہم جڑا ہوا ہے اور عراق اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے تہران میں بہت مصروف دن گزارا۔ انہوں نے سب سے پہلے ایران کے صدر سے ملاقات کی۔

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے پہلے ون آن ون ملاقات کی، اس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ دوطرفہ تعاون کے مختلف معاہدوں کا جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں ایران اور عراق کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ، توانائی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات، امن، استحکام اور خوشحالی کو تقویت ملے گی بلکہ پورے خطے میں یکجہتی اور تعاون بھی مضبوط ہوگا۔

عراق کے وزیراعظم "علی فلاح الزیدی" نے اس دورے میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر "محمد باقر قالیباف" سے بھی ملاقات اور گفتگو کی۔ عراقی وزیراعظم اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے قالیباف نے عراقی شہروں میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شاندار تدفین کے انعقاد پر عراقی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ ہم اربعین زائرین کی مہمان نوازی پر عراقی قوم اور حکومت کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت بلاشبہ تمام اسلامی ممالک کی دشمن ہے، مزید کہا کہ  صیہونی حکومت جو مسلمانوں کی نمبر ایک دشمن ہے، اس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ایران اور عراق کے درمیان تعاون یقیناً موثر ہے۔

عراق کے وزیراعظم علی الزیدی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی ارژای سے بھی ملاقات کی۔ ایران کی عدلیہ کے سربراہ کا اس ملاقات میں کہنا تھا کہ اگرچہ ایران، امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت اور دشمنی کی زد میں ہے، لیکن وہ وقار اور طاقت کے ساتھ اور اپنی قوم اور نظام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ یاد رہے عراقی وزیراعظم  علی فالح الزیدی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عراق اور ایران کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی روابط کے ساتھ ساتھ  بہت سے مشترکہ مفادات موجود ہیں، جو باہمی احترام، مسلسل مکالمے اور تعاون کو ناگزیر بناتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کے توسط سے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی یا مختصر جنگ بندی اس وقت تک قابلِ قبول نہیں، جب تک آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے بنیادی اسٹریٹجک مسائل کا مستقل حل پیش نہ کیا جائے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عراقی وزیراعظم کے پیغام رسانی کے عمل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کا نہیں بلکہ امریکا کا غیر منطقی اور تسلط پسندانہ رویہ ہے۔ دوسری جانب علاقائی ممالک کی ثالثی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے بنیادی اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود بتائے جا رہے ہیں۔

Read 2 times