Print this page

حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہا کا مقام

Rate this item
(0 votes)
حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہا کا مقام

 آپ سلام اللہ علیہا نے اپنی ساری زندگی میں بہت سی مشکلات کو برداشت کیا لیکن کبھی صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ میرے نظر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے محبت کرنا ہم سب پر واجب ہے، زبان کی حدتک نہیں بلکہ خصوصاً عملی میدان میں ان کی سیرت پر چلنا بہت ضروری ہے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

ایامِ فاطمیہ کو عاشورا کی طرح برپا کیا جائے

شہید مقامِ معظم رہبری کے بقول: "فاطمیہ ایک تاریخ ہے"۔ فاطمیہ یعنی ظالموں کے سر پر فریاد!فاطمیہ یعنی حق کی باطل پر کامیابی کی خاطر جہاد اور آخر الامر فاطمیہ یعنی حضرت مہدی کی عالمی اور الہی حکومت کا دن!

عظمتوں، رفعتوں، کمالات اور بلند پایہ مقامات کو اگر وجودی صورت میں دیکھنا ہو تو اس گھرانے کی کسی بھی فرد پر نگاہ کی جائے جس کی پہچان کا واحد ذریعہ صرف بیٹی ہونا نہیں، بلکہ جنہیں ان کے حقیقی باپ نے "امِ ابیہا" کہا ہے۔ یعنی بیٹی ہو کر بھی اپنے والد کا فخر بنیں۔

وہ عظیم ہستی کائنات میں صرف ایک ہے، یعنی سیدہ صدیقہ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ۔ آپ سلام اللہ علیہا ختمِ نبوت کی نورِ نظر، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ (س) کی لختِ جگر، حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب (ع) کی زوجہ محترمہ، اور حضرت امام حسن و حسین (ع) اور سیدہ زینب و ام کلثوم (س) کی مادرِ گرامی ہیں۔

خداوندِ متعال نے سیدۃ النساء فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو جو مقام عطا فرمایا ہے، وہ کسی دوسری خاتون کو حاصل نہیں ہوا۔ چاہے وہ حسب و نسب کے حوالے سے ہو، ظاہر کے لحاظ سے ہو یا باطن کے لحاظ سے، وجود کے حوالے سے ہو یا شرف کے تناظر میں، ہر لحاظ سے ربِ ذوالجلال نے سیدہ کو منفرد اور مخصوص حیثیت عطا فرمائی ہے، اسی لیے آپ سلام اللہ علیہا کو تمام عالمین کی خواتین کی سرداری عطا فرمائی ہے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مقام

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پوری تاریخِ بشریت میں ایک عظیم خاتون کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مقام کو بیان کرنا آسان نہیں، قلم رک جاتا ہے، عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو پہچاننے کے لیے ہمارے دل گناہوں سے پاک ہونے چاہئیں۔ ہماری نگاہ نامحرم پر نہیں پڑنی چاہیے۔ عورت کو چاہیے کہ اپنے تمام اعضاء کی حفاظت کرے اور خود کو نامحرم مردوں سے بچا کر رکھے، اور وہی کام کرے جس سے سیدہ راضی ہوں، نہ کہ وہ کام جس سے سیدہ ناراض ہوں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تمام انسانیت کے لیے نمونہِ عمل ہیں، جنہوں نے بہت بڑی مصیبتوں کا مقابلہ کیا، اپنی کم عمری میں بھی۔ لہٰذا ہم پر بھی ضروری ہے کہ سیدہ کے راستے پر چلتے ہوئے جتنی بھی بڑی مصیبتیں اور مشکلات آئیں، ان کو برداشت کرنا سیکھیں۔

ہمارے لیے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کے بارے میں مطالعہ کرنا بہت اہم ہے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مقام کیا ہے۔

آخر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سچی محبت، معرفت اور اطاعت نصیب فرمائے، ہمیں ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور روزِ محشر ہمیں بی بی دو عالم (س) کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

صابر حسین صابری، جامعۃ المصطفیٰ کراچی

Read 3 times