Print this page

جنگل کا قانون

Rate this item
(0 votes)
جنگل کا قانون

"اس دنیا میں ہم کس سے قتل عام کی مذمت کرنے کے لیے مدد مانگیں؟! جس طرح چاہو اس کی مذمت کرو، اس کی کیا قیمت اور کیا فائدہ ہے۔۔۔۔ مذبح خانے (slaughter house) میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی مذمت کرنے کا کیا نتیجہ؟! مذمت کرنے سے بارود کی طاقت کم نہیں ہوتی۔۔۔۔"، یہ اشعار اس ترانے کا حصے ہیں، جسے مصری گلوکار "امیر عید" نے غزا کے ایک تہوار میں صیہونی حکومت کی جنگی مشینری کے قتل عام کے تناظر میں ایک تقریب میں پیش کیا ہے۔ اسی ترانے کے ایک اور حصے میں، وہ مخصوص انداز میں شعر پڑھتا ہے اور کہتا ہے "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ دنیا کیا کہتی ہے، آزادی سے مرو اور ذلت میں نہ جیو اور نسل در نسل متاثر کرتے رہو اور انہیں آئندہ آنے والی نسلوں کو پیغام دو کہ شکست نہیں ماننی۔

اور اس مقصد (فلسطین) کے لیے کیسے جینا اور مرنا ہے۔۔۔۔"، 41 سالہ مصری گلوکار کوئی سیاسی شخصیت نہیں، لیکن اس نے ثقافتی اور فنکارانہ انداز میں بین الاقوامی نظام کو درست سمجھا ہے۔ اس نے اسرائیلی حکومت اور عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کی ماہیت و کارکردگی کا صحیح ادراک کیا ہے۔ اس کا یہ ادراک درست ہے کہ دنیا اور اس پر حکمرانی کرنے والے موجودہ نظام ایک جنگل سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر آپ کے پاس طاقت نہیں ہے تو آپ کو انسان نما بھیڑیوں کے ذریعے چیر پھاڑ کر ختم کر دیا جائے گا۔ ایسے منظر میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسرے انسان بھیڑیوں کے ہاتھوں چیر پھاڑ کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں۔

مغرب اور امریکہ کے سائے میں صیہونیت نے غزہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مختلف طریقوں سے تقریباً 60,000 لوگوں کی جانیں لی ہیں۔ توپوں، ٹینکوں، ہتھیاروں، فاقہ کشی اور مسلط کردہ قحط سے لے کر لائیو ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے امدادی کارکنوں اور صحافیوں پر حملوں تک کی کارروائی کسی سے پوشیدہ نہیں. یورپیوں نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی، امریکیوں نے اسرائیل سے حملوں کی تیز رفتاری کو کم کرنے کا مطالبہ کیا، ان تمام مذمتوں اور پابندیوں کے درمیان صہیونی فوج کی قتل عام کرنے والی مشین مسلسل چل رہی ہے اور کی سپلائی چین اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔ سپلائی چین بھی مذمت کرنے والے انہی ممالک کے صنعتی اور ہتھیاروں کے بطن سے وابستہ ہے۔

بعض اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہیں یا اسے روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات سے کوسوں دور ہیں۔ ان میں بعض کی انسانی اور انسانیت کی رگوں میں ہلچل پیدا ہوتی ہے تو وہ صیہونیوں کی رضامندی کے ساتھ  فضا سے خوراک کی چند کھیپیں غزہ کے بھوکے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ کیا یہ ممکن ہے کہ 1.9 ملین لوگوں کی ضروریات کو چند ٹرانسپورٹ پروازوں کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کے سامنے محض ایک یادگار تصویر کے لیے یہ اقدام کارآمد ہوسکتا ہے، ورنہ حقائق سے انسان کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ ایسے جنگل میں انسان کے لئے صرف مضبوط ہونا لازم ہے، شیطان کے سر کو کچلنا ضروری ہے۔ قاتل کے پرو بازو کو کاٹنا وقت کا تقاضا ہے۔ زندگی اور بقا کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے حملہ آور کو لگاتار زخم لگانا اہم ہے۔

زخم کے بعد زخم، اس حکمت عملی کا ایک مصداق وہی اقدام ہے، جو اس وقت یمنی مسلمان بھائی انجام رہے ہیں۔ مشہور مصری گلوکار نے ایک فیسٹیول کے اسٹیج پر بالکل صحیح گایا ہے۔ جو چاہو مذمت کرو؛ مذبح خانے میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی مذمت کرنے کی کیا قیمت اور کیا حیثیت ہے۔؟! مذمتوں سے بارود کی طاقت کم نہیں ہوتی۔" تاہم اب یمن کے آزاد مسلمان اس منطق کو جنگل کے قوانین کے ساتھ دنیا کے اسٹیج پر پرفارم کر رہے ہیں۔ صہیونیت کے پیکر پر ایک کے بعد ایک زخم لگانا ضروری ہے۔ صیہونیت کی جنگی مشینری کو ایک کے بعد ایک دھچکا اور کاری ضرب لگانا وقت کی پکار ہے۔ زبانی کلامی مذمت کافی نہیں، طاقت اور بھرپور جوابی کارروائی ہی دشمن کی بارود کی طاقت کو کم کرسکتی ہے۔

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

Read 14 times