برصغیر پاک و ہند کی مٹی گواہ ہے کہ یہاں کی تاریخ محض بادشاہوں کی فتوحات کا نام نہیں، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں اور افکار کے ملاپ کی ایک لازوال داستان ہے۔ اس داستان میں حسینی پیروکاروں کا کردار ایک ایسی بنیادی کڑی ہے، جس نے اس خطے کی مذہبی، سماجی اور سیاسی ساخت کو ایک نیا رخ دیا۔ برصغیر میں حسینیوں کی آمد کا سلسلہ براہِ راست حسینیت اور کربلا کے تپتے ہوئے صحرا سے جڑا ہوا ہے۔ جب سانحہ کربلا کے بعد ساداتِ عظام اور محبانِ اہلِ بیت علیھم السلام نے دینِ حق کی حفاظت کے لیے ہجرت کا راستہ اختیار کیا اور اس سرزمین کا رُخ کیا۔ حسینی فکر کی یہ خوشبو آگے چل کر تحریکِ پاکستان کا وہ منطقی ثمر بنی، جہاں تمام مسلمانوں نے مسلک اور برادری سے بالاتر ہو کر ایک منزل کی جستجو کی۔
اگرچہ سر سید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد "علی گڑھ تحریک" چلائی، جو ایک عظیم تعلیمی اور فکری تحریک تھی اور اس کے بعد نواب عبداللطیف نے کلکتہ میں ۱۸۶۳ء میں "محمڈن لٹریری سوسائٹی" کی بنیاد رکھی، جو ایک بہترین علمی و سماجی فورم تھا، لیکن برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے اور عملی طور پر انہیں ایک الگ "سیاسی قوم" کے طور پر منظم کرنے والے سب سے پہلے معمار ساداتِ مشہد کے چشم و چراغ جسٹس سید امیر علی تھے۔ انہوں نے ۱۸۷۷ء میں "سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن" قائم کرکے برصغیر کی پہلی باقاعدہ مسلم سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی، جس کا سہرا تاریخ میں ہمیشہ کے لیے انہی کے سر ہے۔
اس انقلابی روح میں رنگ بھرنے والے مسلمانوں کے دردمند دلِ بیدار، حکیم الامت علامہ محمد اقبال لاہوری تھے اور جب اس طویل جدوجہد کو ایک ریاست کی شکل دینے کا حتمی وقت آیا، تو بانیِ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسندی اور بے باک سیاسی بصیرت نے اس منتشر قوم کو ایک پرچم تلے متحد کر دیا۔ تحریکِ پاکستان کی مالی ریڑھ کی ہڈی راجہ امیر احمد خان آف محمود آباد جیسے رئیسِ باوفا بنے، جنہوں نے اپنی کروڑوں کی موروثی جاگیر نو مولود ریاست کے قدموں میں ڈھیر کر دی اور معیشت و سفارت کے محاذ پر مرزا ابوالحسن اصفہانی قائد کے معتمدِ خاص بنے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان جیسی مستورات نے ثابت کیا کہ اس ملک کی جڑوں میں حسینیؑ عزم اور کربلا کا آفاقی پیغام ایک روح کی طرح دوڑ رہا ہے۔
یہ اس مٹی کا خمیر تھا جہاں مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر سب نے ایک توحیدی نظام کے سائے میں جینے کا عہد کیا تھا، اور ۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک "پاکستان" اُبھرا۔ تقریباً ایک صدی بعد حسینی پیروکاروں نے ایک مرتبہ پھر مینارِ پاکستان کے مقدس سائے تلے اس تاریخ کو دہرایا ہے اور شہید امت کانفرنس معقد کرکے غیور ملتِ پاکستان نے طاغوتی طاقتوں، استعمار اور یہود و نصاریٰ کی ثقافتی یلغار کے بندھنوں سے نکل کر وحدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والی عظیم الشان "شہیدِ امت کانفرنس" عملی طور پر ایک تاریخی، انتہائی کامیاب اور امتِ مسلمہ کی وحدت کا مرکز رہی۔ اس کانفرنس میں پورے پاکستان سے تمام مسالک کے افراد، سیاسی رہنماؤں، جید علماء و مشائخ، ذاکرینِ عظام اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں غیور عوام نے شانِ بے نظیر کے ساتھ شرکت کر کے عالمی طاغوت کو یہ پیغام دیا کہ تمہاری تفرقہ بازی کی تمام سازشیں ناکام ہو چکی ہیں اور انہوں نے میدانِ عمل میں "امتِ واحدہ" ہونے کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کانفرنس دلوں کو گرما دینے والی کانفرنس تھی، شاید میری طرح تمام دردمند ملت کی بھی دلی خواہش ہوگی کہ بیداری کے یہ دل اسی طرح گرم رہیں اور کبھی سرد نہ ہونے پائیں، اگرچہ ملت تشیع کی کوششوں سے یہ کانفرنس منعقد کی گئی، جو وحدت مسلمین کا اعلٰی نمونہ تھی، لیکن اس وحدت کو برقرار رکھنا کسی ایک مسلک کا کام نہیں، اس میں سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ صرف کسی جماعت یا گروہ کی نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ قومی اور شرعی ذمہ داری ہے۔ شہید اُمت کانفرنس دیکھ کر مجھے امام رضا علیہ السلام کی منقبت میں کہا ہوا اپنا ایک شعر یاد آیا، جو میں نے مشہدِ مقدس کی زمین پر بلا تفریقِ رنگ و مسلکِ زائرین کو اکٹھا دیکھ کر کہا تھا:
ہم بکھرے ہوئے موتی ہیں بس ایک لڑی کے
معلوم ہوا جا کے یہ مشھد کی زمیں پر
شہید امت کانفرنس میں مینارِ پاکستان کا منظر بھی ایسا ہی تھا، جہاں بکھرے ہوئے موتی ایک ہی لڑی میں پروئے نظر آئے اور تمام مسالک کے افراد، سیاسی رہنماؤں، علمائے کرام، مشائخ، ذاکرینِ عظام اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں غیور عوام ایک جگہ اکٹھے نظر آئے۔ یہ افراد صرف مادی طور پر ہی نہیں بلکہ حسینی اور نظریاتی نظریئے کے تحت جمع ہوئے۔ یہاں حقیقت میں یہ بات عیاں ہوئی کہ شہید کو موت نہیں ہوتی، بلکہ وہ زندہ جاوید ہوتا ہے۔ شہیدِ امت حضرت سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت ان کے پاک خون اور ان کی بلند روح نے، جو دراصل پوری امت کا مشترکہ اثاثہ ہیں، تفرقے اور نفرت کے تمام بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ ان کے اس ایثار نے اہلِ تشیع اور اہلِ تسنن کو "یک جان اور دو قالب" بنا کر ایک ہی تسبیح کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ یہ "شہیدِ امت کی تسبیح" ہے! اگر ہم اسی طرح اس رہبرِ شہید کی تسبیح بن کر رہے، اس کے دانوں کو بکھرنے نہ دیا اور اتحاد کے اس مضبوط دامن کو تھامے رکھا، تو آنے والا وقت دنیا کے نقشے پر ایک نئے انقلابِ وحدت کا پیش خیمہ ہوگا۔
مینارِ پاکستان میں بلا تفریقِ مسلک سب حسینیوں نے بیک زبان "لبیک یاحسینؑ'" کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ امام حسین علیہ السلام کی ذات اور حسینی راہ ہمارے لیے ایک ایسی مشعلِ راہ ہے کہ ہم یزیدیت کا انکار بھی کریں اور متحد ہو کر حسینی ہدف کی طرف بڑھ سکیں۔ مینارِ پاکستان میں ملت پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک غیور قوم ہے۔ خدا نے شہید کے خون کی بدولت دلوں میں وہ کارنامہ انجام دے دیا ہے، جس کے لیے صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہواؤں میں رحمتِ خداوندی کی خوشبو چل رہی ہے، حجت قائم امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور تشریف آوری کی نوید سنا رہی ہے۔ ہماری مشکلات کا اب ایک ہی حل رہ گیا ہے کہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
اس کانفرنس کی ایک بہت ہی اطمینان اور سرور بخش بات یہ تھی کہ نامور اور جید علمائے کرام اور شخصیات کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا۔ میں ان تمام قابلِ احترام علمائے کرام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس موقع پر یہ سب اپنے مختلف ذاتی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ساتھ بیٹھے۔ کافی عرصے سے ملت یہ خواب دیکھ رہی تھی، جو اس کانفرنس میں ایک حسین تعبیر کی صورت میں نظر آیا اور جس نے دشمنوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، کیونکہ اس کانفرنس سے پاکستان اور اسلام کے بد نیت دشمنوں کے خوابوں اور قابلِ نفرت خواہشات کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ ان شاء اللہ! جب تک اس مٹی میں حسینیت کی خوشبو اور اتحاد کا یہ جذبہ موجود ہے، دنیا میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہر طاغوتی نظام کے سامنے سربلند اور قائم و دائم رہے گا۔"
تحریر: حاجی شبیر احمد شِگری