بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران: 169) (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔) آج کل بعض حلقوں کی جانب سے ایک بحث شدت اختیار کر گئی ہے اور کچھ احباب یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ رہبرِ شہید، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کو "دوسرا امام حسینؑ" کیوں کہا جا رہا ہے۔؟ اس بحث میں بسا اوقات عقیدت اور عقیدے کے درمیان موجود باریک لکیر کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس نازک موضوع پر بحث کرنے سے قبل، مکتبِ تشیع کے بنیادی اصولوں اور شہادت کے فلسفے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
سب سے پہلی اور بنیادی حقیقت جس پر ہر باشعور محبِ اہلِ بیتؑ کا ایمان ہے، وہ یہ ہے کہ مکتبِ تشیع میں کسی بھی غیر معصوم کو معصوم کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہٰذا، جب شہداء کو امام حسین علیہ السلام سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس کا مقصد ہرگز انہیں امامؑ کے برابر کھڑا کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں سچا "حسینی" قرار دینا ہوتا ہے۔ یہ وہ معیار ہے، جو خود سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے عاشورہ کے میدان میں مقرر فرمایا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب امام حسینؑ سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا، تو آپؑ کا تاریخی جملہ تھا: "مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ" (مجھ جیسا، یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا)۔
امامؑ نے "مجھ جیسا" کہہ کر درحقیقت قیامت تک کے لیے ایک ابدی راستہ کھول دیا۔ آپؑ نے واضح کر دیا کہ جو کوئی بھی ظلم اور وقت کے یزید کے خلاف سینہ سپر ہوگا، وہ "مجھ جیسا" یعنی حسینی کہلائے گا اور اس کا کردار کربلا کی عملی جھلک ہوگا۔ شہید مرتضیٰ مطہریؒ نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب "حماسہء حسینی" میں اسی نکتے کو انتہائی شاندار انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کربلا محض ایک المیہ (Tragedy) نہیں، جسے صرف رویا جائے، بلکہ کربلا ایک "حماسہ" (Epic) اور بیداری کی تحریک ہے۔ شہید مطہریؒ کے نزدیک شہید ایک شمع کی مانند ہے، جو خود جل کر معاشرے کو تاریکی سے نکالتی ہے اور وہ معاشرے کی مردہ رگوں میں نیا خون دوڑا دیتا ہے۔
جب ہم آج کے دور کے کسی شہید کو "حسینی" کہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں اسی بیداری کے فریضے کو نبھایا ہے، جس کا آغاز امام حسینؑ نے کیا تھا۔ اگر ہم آج کے عالمی حالات، ہماری حالیہ تاریخ اور دورِ حاضر کی یزیدیت کا بغور جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ موجودہ صدی اور حالیہ ماضی میں رہبرِ شہیدؒ وہ بے مثال شخصیت ہیں، جنہوں نے سب سے بڑھ کر خود کو امام حسین علیہ السلام کے مشن کے قریب ترین ثابت کیا ہے۔ انہوں نے یزیدِ وقت اور عالمی استکبار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محض زبانی دعوے نہیں کیے، بلکہ اپنی پوری زندگی اور بالآخر اپنے پاکیزہ لہو سے ثابت کر دیا کہ وہ سچے معنوں میں امامِ مظلومؑ کے اسی فرمان کے عملی محافظ اور اس دور کے سب سے بڑے "حسینی" تھے۔
جب ہم آج کے دور کے کسی شہید کو "حسینی" کہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں اسی بیداری کے فریضے کو نبھایا ہے، جس کا آغاز امام حسینؑ نے کیا تھا۔ اگر ہم آج کے عالمی حالات، ہماری حالیہ تاریخ اور دورِ حاضر کی یزیدیت کا بغور جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ موجودہ صدی اور حالیہ ماضی میں رہبرِ شہیدؒ وہ بے مثال شخصیت ہیں، جنہوں نے سب سے بڑھ کر خود کو امام حسین علیہ السلام کے مشن کے قریب ترین ثابت کیا ہے۔ انہوں نے یزیدِ وقت اور عالمی استکبار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محض زبانی دعوے نہیں کیے، بلکہ اپنی پوری زندگی اور بالآخر اپنے پاکیزہ لہو سے ثابت کر دیا کہ وہ سچے معنوں میں امامِ مظلومؑ کے اسی فرمان کے عملی محافظ اور اس دور کے سب سے بڑے "حسینی" تھے۔
ہمارے معاشرے میں عزاداری کے دوران لکڑی کے تابوت اور شبیہہ بنانے کی ایک خوبصورت روایت موجود ہے۔ ہم ان شعائر کا بے پناہ احترام کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے معصومینؑ سے منسوب ہوتے ہیں۔ یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر محض نیت اور عقیدت کی بنیاد پر بنائی گئی لکڑی کی شبیہہ کا اس قدر تقدس ہے کہ ہم اسے آنکھوں سے لگاتے ہیں، تو ذرا تصور کیجیے کہ اس رہبرِ شہیدؒ کے حقیقی تابوت، ان کے جسم اور ان کے خون کا کتنا تقدس ہوگا۔؟ وہ جسم جس نے محض کسی سے منسوب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ وقت کی یزیدیت سے ٹکرا کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اس شہیدؒ کے جسم کے ایک ایک قطرے میں کربلا کی یاد اور حسینی مشن کی تڑپ موجود ہے۔ دورِ حاضر میں اگر کسی نے خون کے پرسے کا حق ادا کیا ہے تو وہ یہی ہستی ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی نے کربلا اور شہادت کے اس فلسفے کو ایک تاریخی جملے میں سمیٹ دیا ہے، جو آج بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے: "آنان که رفتند کاری حسینی کردند، آنان که ماندند باید کاری زینبی کنند، وگرنه یزیدی اند" (جو چلے گئے، انہوں نے حسینی کام کیا اور جو رہ گئے ہیں، انہیں زینبی کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ وہ یزیدی ہیں)۔ رہبرِ شہیدؒ نے تو اپنا "حسینی" کام مکمل کر دیا اور وقت کے فرعونوں کو بے نقاب کرکے شہادت کا تاج پہن لیا۔ اب یہ فرض ہم پر عائد ہوتا ہے کہ ہم ان کی قربانیوں پر لفظی بحثوں میں الجھنے کے بجائے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پہچانیں کہ وقت کا یزید کون ہے اور اس کے مقابلے میں حسینی محاذ پر کون کھڑا ہے۔ خداوندِ متعال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق و باطل کے اس معرکے میں محض تماشائی بننے کی ذلت سے بچائے۔ ہمیں توفیق دے کہ ہم شہداء کے پاکیزہ لہو سے وفا کرتے ہوئے اپنا حقیقی "زینبی" کردار ادا کریں اور ہمیں اس بے حسی، خاموشی اور مصلحت پسندی سے ہمیشہ محفوظ رکھے، جو انسان کو دانستہ یا نادانستہ یزیدی صفوں میں لا کھڑا کرتی ہے۔ دعا ہے کہ ہماری زندگیاں حسینی کردار کا تسلسل اور ہمارا خاتمہ شہداء کے راستے کی گواہی بنے۔ آمین یا رب العالمین۔
تحریر: کامران حسن