آج پاکستان کا 79واں جشن آزادی منایا جا رہا ہے، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ پاک وطن تاریخی جدوجہد، لازوال قربانیوں، بے مثال ہجرتوں کے ساتھ ان مٹ زخموں، وہ زخم جو جسموں کے ساتھ روح کو بھی گھائل کر دیتے ہیں، جو آنکھوں میں بس جاتے ہیں، جن لوگوں نے اس ملک کی محبت میں اپنا گھر بار، کاروبار، مال و متاع چھوڑ کر سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے راستوں میں اپنے پیاروں کی خون میں لت پت لاشیں چھوڑیں اور بنا کفن و دفن عالم مجبوری میں انہیں چھوڑ دیا۔ زرا تصور کریں ان کی آنکھوں کیسے کیسے خواب ہونگے، کیسے سپنے سجا کر وہ لوگ چلے آئے اور سب کچھ برداشت کر لیا، یقیناً یہ آسان نہیں تھا، ہاں وہ جس ایمان کی طاقت سے بھرپور تھے اس سے برداشت کرگئے، وہ جو اقبال و قائد کے خیالات سن چکے تھے ان پہ یقین کرنے کے بعد یہ سب کچھ برداشت کر گئے۔
ایک خدا، ایک رسول، ایک کلمہ، ایک امت، ایک قانون، ایک اصول، ایک قوم، اخوت، بھائی چارہ، مذہب کی آزادی، ڈب کے برابر حقوق، عدل، انصاف، قانون کی حکمرانی، یہی تو وہ فرامین، یہی تو وہ خیالات تھے جن کو پیش نظر رکھ کے برطانوی استعمار سے آزادی اور ہندوستان سے علیحدگی کی جدوجہد میں لاکھوں لوگ جان فدا کر گئے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس پہ ہم سب کو فخر ہے، جس پہ ہم نازاں ہیں، مگر آج 79واں جشن آزادی مناتے ہمیں جن مسائل، جن مشکلات، جن مصائب کا سامنا ہے اس پہ بہت کچھ سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ہر پاکستانی یہ سوچنے پہ مجبور ہے کہ ہم نے جو آزادی اتنی عظیم قربانیوں کے بعد حاصل کی آخر وہ کہاں گم گئی، کس نے چھین لی، کون لے اڑا، یہ سب کیونکر ممکن ہوا؟
پاکستان جب برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تو یہ چار صوبائی اکائیوں، قبائلی و شمالی علاقہ جات پہ مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند تھا، یہ ایسا گلدستہ تھا جس کی مہک شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان والوں نے محسوس کی تو اپنے علاقوں میں ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کی، قربانیاں دیں اور اس مہکتے گلدستہ میں آن جڑے، اسی طرح بلوچستان کے کچھ علاقے بھی شامل ہوئے۔ تب مختلف رنگ، الگ مہک رکھنے کے باوجود پاکستان کے گلدستہ میں جڑ کے ہی اپنی تر و تازگی باقی رکھی تھی، کوئی پنجاب کی صورت بڑا بھائی تھا تو کوئی شمال مغربی صوبہ سرحد کی شکل میں اس کی مضبوط چٹان تھا، کوئی وادی امن و محبت مہران تو کوئی ساحل سمندر کی صورت اس کے پانیوں کے نگہبان تھے، کوئی چٹیل میدانوں، عظیم تاریخ و روایات کے امین بلوچستان کے وفا شعار تھے تو کوئی بلند بالا پہاڑوں، آسمان کو چھوتی چوٹیوں کی سرزمین کے باسی اس کے محافظ تھے۔
یہ سب کتنا خوبصورت تھا، یہاں امن، سلامتی، تعلیم، ترقی، مذہب کی آزادی، باہمی احترام، حقوق تھے، پھر ناجانے کس کی نظر لگی کہ ایک قوم، ایک گلدستہ پھول کی پتیوں کی طرح بکھر گیا، کہیں لسانیت نے قدم جما لیے تو کبھی فرقہ واریت کا زہر گھول دیا گیا، کبھی صوبائیت کی تفریق اور تقسیم ابھار دی گئی تو کبھی علاقائیت کے بتوں کی پرستش شروع کروادی گئی۔ ان بنیادوں پہ قتل و غارت کروائی گئی، بے گناہوں کے خون کی ہولیاں کھیلی گئیں، مسجدوں، عبادت گاہوں کو معصوم مسلمانوں کے لہو سے رنگین کیا گیا، یوں قائد کے افکار پہ کلہاڑا چلایا گیا، علامہ اقبال رح کی فکر کو قتل کیا گیا، قیام پاکستان کے مقصد کو دفن کر دیا گیا، ایک ملک، ایک کلمہ، ایک قوم، ایک وطن کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ تقسیم، تفریق، نفرین کے جکھڑ چلے اور نفرت کی آندھیوں میں بہت کچھ گم گیا۔
آج ہم 79 ویں جشن ازادی مناتے اپنی اقدار، اپنی روایات، اپنے سماج کو تلاش کر رہے ہیں، قیام پاکستان کے اس مقصد جس کیلئے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں اور ہجرتوں کے عذاب جھیلے اس گم کردہ میراث کے متلاشی ہیں۔ کوئی مانے یا نا مانے یہ سب دو چار برس میں نہیں ہوگیا، یہ کسی ایک فرد، گروہ یا جماعت نے بھی نہیں کیا، یہ فقط اپنی اپنی باری لگانے والے سیاستدانوں کا کیا دھرا نہیں نا ہی اقتدار کے لالچی، کرسی و اختیار کے پجاری دستور سے کھلواڑ کرنے والے سرکاری عسکری مہربانوں کی مہربانی ہے، نا صرف دین کے نام پہ مذہب کے بیوپاریوں کی کارگذاری ہے، یہ سماج کے ہر طبقہ، ہر شعبہ، ہر قومیت، ہر مزہب و مسلک اور سرکاری و غیر سرکاری فرد ملت کا حصہ بقدر جثہ کردار ہے، جس کا جہاں بس چلا اس نے ملک کو نوچنے میں کسر نا چھوڑی۔
آج کی نسل سوچتی ہے کہ آخر ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ترقی کی دوڑ میں ہم سے اتنا آگے کیسے چلے گئے کہ ہمیں اپنا ملک و ملت چھوڑ کے ان کے پاس کام کرنے جانا پڑتا ہے، ہم پیچھے کیوں رہ گئے، کون ہمارا مجرم ہے، کون اس ملک کا دشمن ہے، کون اس ملک کو اس اسٹیج تک پہنچانے والا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کے مستقبل کا اس قوم کی قیادت کرنے والوں پہ بالکل بھی اعتماد نہیں رہا، سیاسی لولا لنگڑا نظام، عدل و انصاف کا بکھرا ڈھانچہ اور کرپٹ ترین سیاستدانوں کی نسل در نسل غلامی میں جکڑے ہم 79 ویں جشن آزادی پہ باجے بجانے میں مشغول بچوں کو بہتر شکل دینے سے قاصر ہیں اور نوجوانوں کو مایوسی کے ماسوا پیش کرنے سے محروم ہیں۔ مذہب، دین، سیاست کے شہسواروں کی موجود و آئندہ کھیپ میں بھی کوئی ایسا نہیں دکھتا جو قائد و اقبال کی روح کو شاد کرنے کا ساماں کرنے کی ہمت و جستجو کرسکتا ہو، لہذا دعا ہے پاکستان کی خیر ہو۔
تحریر: ارشاد حسین ناصر