Print this page

ایران کے ایٹمی پروگرام کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں: ایران، روس اور چین کا مشترکہ بیان

Rate this item
(0 votes)
ایران کے ایٹمی پروگرام کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں: ایران، روس اور چین کا مشترکہ بیان

 ایران، روس اور چین کی جانب سے جاری شدہ مشترکہ بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی موضوع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنا، مغربی ممالک کی سفارتی اصولوں کی پابندی کے دعووں کے منافی ہے۔

اس بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کے رکن ذمہ دار ممالک کو اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ ایسے اقدامات کے انجام کے بارے میں غور اور ایران کے خلاف قرارداد کے مسودے کی حمایت سے گریز کریں۔

تہران، ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں آيا ہے کہ حتی اگر ایران کے خلاف تیار ہونے والے اس مسودے کی شکل اور اس کے مضمون میں موجود نقص کو نظرانداز کیا جائے تب بھی اس بات کو بھلانا ناممکن ہے کہ مذکورہ متن میں موجودہ حالات کی اصل اور بنیادی وجوہات کو سرے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔

اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ، مغربی ممالک نے اس مسودے میں آئی اے ای اے کے سیف گارڈ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹہرایا ہے جبکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ناجائز حملوں کو سرے سے نظرانداز کیا گیا جو معائنہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

ایران، روس اور چین نے یورپی ممالک اور امریکہ کی ان غیرقانونی حرکتوں کو ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کے بیچ سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

اس بیان میں یورپی ٹرائیکا اور امریکہ کے ہاتھوں اسنیپ بیک مکینزم کو متحرک کرنے کو بھی ناجائز اور قانونی لحاظ سے بے اثر قرار دیا گیا ہے۔

تہران، ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ ایٹمی موضوع کو فنی حدود سے ہٹا کر سیاست کے میدان میں داخل کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

Read 6 times