ایران امریکہ جنگ کے بعد اس وقت یمن اور سعودی تنازعے نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یمن کے حوثیوں کی تنظیم "انصاراللہ" تیزی سے یمن علاقوں کیساتھ ساتھ سعودی جزیروں اور علاقوں پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انصاراللہ نے سعودی عرب کے ایئربیسز سمیت اہم سرحدی شہروں کو نشانہ بنایا ہے، جہاں بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ انصاراللہ نے سعودی عرب کے علاقے خمیس مشیط میں ایئربیس کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یمن کے حوثیوں کو اچانک کیا ہوا کہ سعودی عرب پر چڑھ دوڑے ہیں؟ اور ان کے حملے اتنے شدید ہیں کہ سعودی عرب کو امریکہ سمیت بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل سے بھی مدد مانگنی پڑ گئی، لیکن امریکی صدر نے صرف انٹیلی جنس معلومات کا لالی پاپ دے کر عملی مدد سے صاف انکار کر دیا ہے۔ البتہ محمد بن سلمان کو خوش رکھنے کیلئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو ریاض بھیج دیا کہ وہ محمد بن سلمان سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیں کہ ہم ایران جنگ میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں مزید کوئی محاذ کھولنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
سعودی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان اور ایڈمرل بریڈ کوپر کی جدہ میں ہونے والی ملاقات میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر تفصلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ لیکن سعودی عرب کی مدد سے انہوں نے بھی ٹرمپ کی طرح صاف انکار کیا۔ اب سعودی عرب پریشان ہے کہ یمنی حملوں سے کیسے بچے۔ انصار اللہ نے سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد یہ حملے شروع کئے ہیں۔ جنگ بندی کی یہ خلاف ورزی خود سعودی عرب نے کرکے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ معاملہ یہاں سے بگڑا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ شہید کی تشییع اور تدفین کی تقریبات کے دوران ایک ایرانی طیارہ جو شہید رہبر کے الوداعی مراسم میں شرکت کرنیوالے یمنی رہنماؤں کو لے کر جا رہا تھا، تہران سے صنعا ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ دس سال سے زائد عرصے سے کسی بھی طیارے کو یمن کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں تھی اور سعودیوں نے انصاراللہ کے زیرِ قبضہ فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کر رکھا تھا۔ لیکن ایران نے فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ طیارہ یمن میں اترے گا، چنانچہ اعلانیہ طور پر اور ٹریکنگ ڈیوائس آن رکھ کر صنعا ایئرپورٹ کو اپنی منزل کے طور پر ظاہر کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ 30 ہزار سے زائد افراد فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ پر اس پرواز کو براہِ راست دیکھ رہے تھے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس دو طرفہ مقابلے میں کون کامیاب ہوگا۔ جیسے ہی مسافر طیارہ صنعا کے قریب پہنچا، سعودیوں نے ایک ایسی ناقابلِ تلافی حماقت کر ڈالی کہ انہوں نے ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کر دی۔ ایرانی طیارہ الحدیدہ ایئرپورٹ پر اُترا اور اس کے مسافروں کو بحفاظت اتار دیا، لیکن یمنی حکام کے پہلے ہی بیان کے بعد سعودی عرب کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی حماقت کی ہے، جس کی اب تلافی ممکن نہیں۔ سعودی عرب نے اپنے ہاتھوں سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اور یمنیوں کو وہ ضروری جواز فراہم کر دیا تھا اور پھر وہی کچھ ہوا، جس کا آپ ان دنوں مشاہدہ کر رہے ہیں۔
یمنیوں کی جانب سے یہ جنگ اور حملے اس سعودی حماقت کا ردعمل ہیں۔ اب سعودی عرب پریشان ہے۔ تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔ اہم املاک کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حملوں کے خطرے کے پیش نظر تیل کی سپلائی لائن بھی متاثر ہوچکی ہے۔ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کی بیل ابھی منڈھے نہیں چڑھی، اس معاہدے کے بہت سے نقاط ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس کا فریم ورک، دفاع کا طریقہ کار اور دیگر امور ابھی بحث طلب ہیں۔ ایسی صورتحال میں ترکیہ اور پاکستان حملوں کی صرف مذمت تو کرسکتے ہیں، لیکن عملی طور پر میدان جنگ میں اترنے سے گریزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان ان اپنے دفاعی اتحادیوں سے کچھ کہنے کی بجائے دو بار امریکی صدر کو فون کرچکے ہیں اور امریکہ صدر پہلے ہی ایران کی جانب سے پٹائی کے بعد کافی سٹپٹائے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مدد کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب محمد بن سلمان نے سعودی حکام کیساتھ سر جوڑ لیا ہے اور یہ سوچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے بچا کیسے جائے۔ سعودی عرب نے عمان میں ایران عمان مذاکرات کے حتمی دور اور معاہدے کے اعلان کو بھی فی الحال ملتوی کرنے کی درخواست کی، جس پر یہ اجلاس وقتی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ آج عمان میں ہونے والا اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ ایران اور خلیج فارس کے سات ممالک کے وزرائے خارجہ کو عمان کے شہر صلالہ میں جمع ہونا تھا، جہاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا جانا تھا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ ایک موقع تھا، جو ایران اور عمان نے فراہم کیا تھا اور توقع تھی کہ خطے کے ممالک اس موقع کی اہمیت کو سمجھیں گے اور اس کی قدر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام جائز تحفظات کے باوجود یہ ایک مناسب موقع تھا کہ یہ ممالک بیرونی فریقوں کی مداخلت سے دور رہتے ہوئے آپس میں بات چیت کرتے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی بھی ذمہ دار فریق یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ کسی بھی وجہ سے، خواہ خطے سے باہر کے فریقوں کے اثر و رسوخ کے باعث یا ایسے بہانوں کی بنا پر جن کا ایران سے واقعی کوئی تعلق نہیں، اس اجلاس کا انعقاد نہ کیا جائے۔ اس اجلاس کے انعقاد کے لیے تاحال کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اجلاس کی منسوخی کا اعلان عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کیا تھا۔ اب بعض مبصرین کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب ایران سے ہی درخواست کرے گا کہ یمن کے حوثی سعودی سرزمین پر حملے روک دیں۔ اس کیلئے سعودی حکام کے مشاورتی اجلاس جاری ہیں، جس کے بعد اہم فیصلے کی توقع ہے۔
تحریر: تصور حسین شہزاد