امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی بلا اشتعال جنگ عبرتناک طریقے سے ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی نوآبادیاتی ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، واشنگٹن واپسی کا راستہ تلاش کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ امن "مذاکرات" میں ایران کا پلہ بھاری ہے۔ مزید برآں، خلیج فارس میں بحری آمد و رفت پر تہران کے نئے اور مضبوط کنٹرول نے (جسے نہ تو امریکہ اور نہ ہی کوئی دوسرا چیلنج کر سکا ہے) اسے زبردست معاشی برتری فراہم کر دی ہے۔ مزید یہ کہ، ایرانی عوام شہری اہداف پر حملوں کے ایک طویل سلسلے کے باوجود متحد کھڑے ہیں۔ ان حملوں کا آغاز سابق رہبر سید علی خامنہ ای کی شہادت اور جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول میں 168 افراد، جن میں زیادہ تر طالبات تھیں، کے قتلِ عام سے ہوا تھا۔ عوام کی یہ یکجہتی اسلامی جمہوریہ کے استحکام اور مستقبل کی ضمانت بن گئی ہے۔
یہ ایک عجیب جنگ ہے، جیسا کہ میں نے اس کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں مشاہدہ کیا۔ اکثر بڑے شہروں میں روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق جاری تھی، جبکہ پس منظر میں دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی تھیں۔ تہران کے نیلوفر اسکوائر پر ایک بیکری کے مالک نے مجھے بتایا کہ یہ 1980ء کی دہائی کی ایران عراق جنگ جیسی روایتی جنگ نہیں ہے جہاں فوجیں فرنٹ لائن پر ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس بیکری کی عمارت ایک دشمن میزائل سے تباہ ہو گئی تھی جس کا ہدف برابر میں واقع پولیس اسٹیشن تھا۔ نیلوفر اسکوائر پر اس حملے میں درجنوں افراد ایک قریبی کیفے اور رہائشی اپارٹمنٹس میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ میں 19 سے 31 مارچ کے درمیان ایرانی میڈیا کی میزبانی میں چار مبصرین کے ایک گروپ (ایک ترک صحافی، ایک یونانی وکیل و صحافی اور ایک شمالی امریکی ویڈیو گرافر) کا حصہ تھا۔ہمارا دورہ شمالی شہر تبریز سے شروع ہوا اور تہران، اصفہان، شیراز، بوشہر، بندر عباس اور میناب (اسکول کی طالبات کے قتلِ عام کی جگہ) تک گیا۔
ہم زیادہ تر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد کے اثرات اور بڑے شہروں میں تقریباً ہر شام لوگوں کی حب الوطنی پر مبنی متحرک لہر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ ہر ایرانی شہر میں، دسیوں ہزار لوگ ہر شام اپنے ملک کی حمایت میں باہر نکلتے تھے۔ اس میں تہران کی امام خمینی مسجد میں عید کی نماز کا ایک بہت بڑا اجتماع بھی شامل تھا، جو 35 برسوں میں پہلا ایسا اجتماع تھا جس سے شہید ایرانی رہنما سید علی خامنہ ای نے خطاب نہیں کیا تھا۔ رپورٹس اور مشاہدات سے معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ، خواہ ان کے سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں (بشمول وہ لوگ جو دوسرے ممالک سے واپس آئے تھے) اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے پرجوش تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران پر ٹرمپ کا حملہ اسرائیلی پروپیگنڈے کی وجہ سے ہوا، جس میں بار بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ "حکومت" انتہائی غیر مقبول اور تنہا ہے، جس کے لیے اکثر جانبدارانہ سروے کا سہارا لیا گیا۔ اسرائیلی پروپیگنڈے نے تجویز دی تھی کہ اگر قیادت کو ختم کر دیا گیا تو ایرانی عوام اس "حکومت" کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کئی رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی نہیں۔ یہ "اپنی ہی جھوٹی باتوں پر یقین کرنے" کا نتیجہ ہے، جو زیادہ تر اسرائیلی 'ہاسبرا' (Hasbara) مہمات کا پیدا کردہ تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ اسلامی جمہوریہ سے نفرت کی جاتی ہے اور یہ کمزور ہے۔ اس مہم نے جنوری 2026ء میں موساد اور سی آئی اے کی جانب سے بھڑکائی گئی تشدد کی لہر کا فائدہ اٹھایا، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا اور سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیک پومپیو نے اعتراف کیا تھا۔ اس لہر نے معاشی احتجاج (کرنسی کی گراوٹ کے بعد) کا رخ موڑا اور 3,000 سے زائد افراد کو قتل کیا، جن میں سینکڑوں پولیس اہلکار اور رضاکار (بسیج) شامل تھے۔ ایران میں ہمارے گروپ نے ہر طرح کے لوگوں، خاص طور پر خواتین کو اپنے ملک اور فوج کے دفاع کے لیے باہر نکلتے دیکھا۔ ٹرمپ-اسرائیل جنگ کا مقصد کبھی واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اسرائیلی ایران کو تباہ یا ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے تھے۔ جنگ کے کسی واضح جواز کی کمی کی وجہ سے بہت سے امریکی اتحادیوں نے دوری اختیار کر لی۔
ایران کی میزائل اور ڈرون قوت نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک اسرائیلیوں کو سزا دی، جبکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں موجود تمام 13 امریکی اڈوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ایرانی میزائلوں کے خوف سے امریکی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب نہ آ سکے۔ اسی وجوہات کی بنا پر امریکہ نے کوئی زمینی حملہ بھی نہیں کیا۔ پھر بھی ہم نے شہروں سے گزرتے ہوئے صدمے سے دوچار خاندان دیکھے۔ تہران کے رسالت محلے میں ایک رہائشی علاقہ دشمن کے میزائلوں سے تباہ ہو گیا جس میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے۔ وہاں کوئی تزویراتی یا فوجی ہدف نہیں تھا۔ اصفہان میں ہم نے آئی آر جی سی (IRGC) کے کرنل مہدی نصر آزادانی کے جنازے میں شرکت کی، جو 20 دن کی ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹے تھے اور امریکی-اسرائیلی میزائل حملے میں اپنی والدہ، بیوی اور دو بچوں سمیت شہید ہو گئے۔ ہم نے ان کی واحد بچ جانے والی بچی زینب سے اسپتال میں ملاقات کی جو لائف سپورٹ پر تھی، اور اسے علم نہیں تھا کہ اس کا پورا خاندان ختم ہو چکا ہے۔
ہم نے تبریز میں ایک ڈاکخانے کے ملازم کے سوگوار خاندان کو دیکھا، ہنگامی امدادی کارکنوں اور دیہاتیوں کو دیکھا جو شیراز کے مضافات میں فضائی مقناطیسی بارودی سرنگوں سے زخمی یا ہلاک ہوئے تھے۔ شیراز کے اسپتال میں ہماری ملاقات 12 سالہ سالار سے ہوئی، جو فٹ بال کا کھلاڑی تھا اور اسپورٹس گراؤنڈ پر میزائل حملے میں بچ گیا تھا، جہاں 20 افراد قتل ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس حملے میں نیا "پریسیژن اسٹرائیک میزائل" (PrSM) استعمال کیا گیا تھا، جسے بحرین سے فائر کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہمارے مشاہدات محدود تھے، لیکن تہران میں ایرانی ہلالِ احمر نے ہمیں بتایا کہ شہری مقامات پر 81,000 حملے ہو چکے ہیں۔ اپریل کے اوائل تک ہلالِ احمر کے مطابق 2,100 سے زائد افراد شہید اور 115,000 شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔تہران میں تاریخی گلستان محل اور پہلوی محل میوزیم کمپلیکس کو بنکر بسٹر بموں سے شدید نقصان پہنچا، جبکہ اصفہان میں چہل ستون محل کو بھی نقصان پہنچا۔ جب ہم بوشہر سے بندر عباس اور پھر میناب پہنچے تو وہاں اسکول کے قتلِ عام کے متاثرین کے والدین کو ابھی تک قبرستان میں اپنے بچوں کے غم میں بیٹھے دیکھا۔
بہت سے لوگوں نے بچوں کے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے بیگ تھامے ہوئے تھے جو اس قتلِ عام کی علامت بن چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سابق کاؤنٹر ٹیررازم انٹیلی جنس آفیسر جوزفین گیلبیو نے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا اور امریکی افسران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بندر عباس واپسی پر ہم نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز "بند" نہیں تھی، بلکہ دشمن سے منسلک بحری جہازوں کو آئی آر جی سی نے روک دیا تھا، جبکہ کچھ خلیجی ریاستوں کے جہازوں سے ٹول ٹیکس لیا جا رہا تھا اور دوست ممالک (مثلاً عراق اور چین) کے جہاز آزادانہ گزر رہے تھے۔ امریکہ آبنائے کا کنٹرول حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ مجموعی طور پر، ایران کے برسوں کے "اسٹریٹجک صبر" کا خاتمہ واشنگٹن کے براہ راست حملوں کے ساتھ ہوا، جس نے تہران کو دنیا کی 20 فیصد توانائی کی سپلائی کے گیٹ وے پر کنٹرول کا ایک طاقتور ہتھیار دے دیا ہے۔ مغربی میڈیا نے اس پر سخت ردعمل دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی-اسرائیلی جنگ بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ جیت رہے ہیں، لیکن حقیقت میں امریکہ نے اپنے درجنوں طیارے اور فوجی اڈے کھو دیے۔ پروفیسر جان میئر شائمر جیسے تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ ایران نے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلیوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو "زہر آلود" کر دیا ہے۔ برطانوی تجزیہ کار ڈیوڈ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حماقت نے خلیج فارس میں ایران کی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کی اس شکست کا ممکنہ نتیجہ خلیج فارس سے تمام امریکی اڈوں کا انخلاء ہو سکتا ہے، جو اب ایران کا اہم مطالبہ ہے۔ یہ امریکی عالمی بالادستی کے زوال کا ایک اور قدم ہے۔ یاد رہے کہ چین بھی ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حامی ہے کیونکہ یہ اس کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ بہرحال، ٹرمپ اب اپنی اس عظیم ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی فرضی "فتح" کی تلاش میں ہوں گے۔