Print this page

غزہ سے میناب تک: خون کی زنجیر

Rate this item
(0 votes)
غزہ سے میناب تک: خون کی زنجیر

تاریخ کے سیاہ ترین اوراق میں وہ سطور زیادہ دردناک ہیں جہاں طاقت نے معصومیت کو نشانہ بنایا ہو، جہاں جدید ہتھیاروں سے لیس طاقتوں نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو خاک و خون میں نہلایا ہو، اور جہاں عالمی ضمیر اتنا بے حس ہو چکا ہو کہ وہ محض تماشائی بن کر رہ گیا ہو۔ یہ تحریر ایسے ہی ایک واقعے کی گواہی ہے جب 28 فروری 2026ء کی صبح، ایران کے جنوبی شہر میناب کے مدرسہ "شجرہ طیبہ" پر امریکی و اسرائیلی جارحیت نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔

یہ بچے ایک ایسی بستی میں تھے جس کے وسائل پر اپسٹین قبیلے کی نظر تھی۔ یہ کہانی صرف میناب کی نہیں؛ یہ غزہ، یمن، لبنان اور فلسطین کی بھی ہے بلکہ ان تمام مظلوم قوموں کی داستان ہے جن کے خلاف طاقت کی سیاست نے انسانیت کو روند ڈالا، اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

واقعات کا تسلسل کچھ یوں ہے کہ 28 فروری کی صبح دس بجے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ شروع کیا تو اس مدرسے کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس سے پہلے کہ بچے محفوظ مقام تک پہنچ پاتے، پہلا میزائل اسکول کی مرکزی عمارت پر آیا۔ جو بچے اس سے بچ نکلے، وہ نماز خانہ کی طرف بھاگے مگر دوسرا میزائل عین اسی جگہ پر گرا، اور پھر تیسرا حملہ اسکول گراؤنڈ پر کیا گیا، گویا منصوبہ یہ تھا کہ کوئی زندہ نہ بچے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سو پینسٹھ سے ایک سو ستر کے قریب معصوم بچے، جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں، شہید ہو گئے۔ یہ کوئی جنگی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک منظم قتلِ عام اور جنگی جرم تھا۔

اس وحشیانہ اقدام کے بعد عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف دباؤ بڑھا اور متعدد ممالک کی طرف سے شدید مذمتی بیانات جاری ہوئے، مگر افسوس کہ اس بدترین بربریت کے باوجود امریکہ نے ابتدائی لمحات میں اپنے موقف کا دفاع جاری رکھا۔ پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یہ حملہ خود ایران نے کیا ہے ایک ایسا الزام جس کی تردید کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہ تھی۔ جب ثبوت سامنے آئے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ حملہ امریکی فورسز نے کیا ہے، تو ان کا کہنا تھا: "میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا اور جو بھی رپورٹ آئے گی، میں اسے ماننے کو تیار ہوں"۔ پھر پینٹاگون نے تسلیم کیا کہ "امریکی افواج کے اسکول کو نشانہ بنانے کے ذمہ دار ہونے کا امکان ہے" لیکن اسے "انسانی غلطی" قرار دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ امریکی فوج کی سابق انٹیلیجنس آفیسر جوزفین گیلبو،نے کھلے عام اعتراف کیا کہ "ہم امریکہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ ہم اس کہانی کے ولن ہیں۔" انہوں نے واضح کیا کہ جدید ترین سسٹمز سے لیس میزائل، حملے سے پہلے اصل منظرنامے کو کمانڈ روم میں براہِ راست منتقل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی کمانڈ سسٹم نے اپنی آنکھوں سے اسکول کے صحن میں کھیلتے ہنستے مسکراتے بچوں کو دیکھا، اور پھر بھی حملے کا حکم دیا۔ اور جب تین حملے ہوئے، تین مختلف مقامات پر، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ کیا غلطی ایک بار ہوتی ہے؟ مگر ایک ہی اسکول پر تین بار حملے کو غلطی کہہ سکتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ بالکل نہیں! یہ کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ ایک منصوبہ بند اور سفاکانہ جرم تھا، جسے بعد میں "غلطی" کا نام دے کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

میناب کا یہ واقعہ کوئی الگ سانحہ نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلم ممالک میں کی جانے والی "بے حسی کی تہذیب" کی تازہ ترین کڑی ہے۔ جب ہم غزہ کی طرف دیکھتے ہیں تو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ نومبر 2023 سے لے کر اپریل 2026 تک تقریباً ستر ہزار سے زیادہ افراد بچے، خواتین، بوڑھے قتل کیے گئے، اور رپورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ اعداد و شمار "عام شہریوں کی موت کے لیے واضح طور پر بے حسی" کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ براؤن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دو سالوں میں امریکہ نے اسرائیل کو 21 بلین ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی، یعنی غزہ میں بچوں کی قبریں بنانے والے ہتھیار امریکی تھے، اور یہ امداد دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ ملتی رہی۔

اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے: جب معصوم بچوں کا قتل عام جاری تھا تو عالمی ادارے کہاں تھے؟ اقوامِ متحدہ؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ مغربی میڈیا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلمان ملک میں ایسے مظالم ہوئے، عالمی ردِ عمل سست اور کمزور رہا۔ یہ خاموشی ہی وہ چیز ہے جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جرأت بخشی کہ وہ اپنے جرائم میں مزید جری ہوتے چلے گئے۔ شکاگو سن ٹائمز کی ایرانی نژاد صحافی نگار مرتضوی نے ٹھیک کہا ہے کہ "یہ حملہ مجھے ویت نام کے قتلِ عام کی یاد دلاتا ہے". یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کی جانوں سے بے اعتنائی کی تازہ بدترین مثال ہے۔"

جب ہم اس پورے منظرنامے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک اور بھی گہرا المیہ نظر آتا ہے اور وہ ہے عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بے حسی۔

یہ وہی بے حسی ہے جس نے غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ افراد کو خاک و خون میں نہلانے کے بعد بھی مغربی بلاک نے سکوت اختیار کیا، یہی وہ بے حسی ہے جس نے آج اس خوبصورت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ معاملات حل کرنے اور عالمی افق پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے صرف طاقت اور زبردستی کی زبان ہی واحد راستہ رہ گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے، کیونکہ جب طاقت ہی واحد زبان ہوتی ہے تو پھر کمزور قوموں کے پاس کوئی آواز نہیں رہتی، اور انصاف کا تصور معدوم ہو جاتا ہے۔

یہ صرف ایران کا المیہ نہیں، بلکہ یمن، حماس، لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذوں پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے مظالم و دہشت گردی کا انداز یکساں رہا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی خود مختاری اور آزادی کی آواز بلند ہوئی، وہاں مغربی طاقتوں نے ملکی مفادات ، علاقائی سیاست اور انسانی حقوق کے نام پر خاموشی اختیار کی، مگر عمل میں سب سے زیادہ ظلم ڈھائے۔ ویت نام سے لے کر عراق کے فلوجہ تک، افغانستان کے قندھار سے لے کر غزہ کے شجاعیہ تک، اور اب میناب کے اسکول تک یہ سلسلہ جاری ہے، اور عالمی برادری ہر بار وہی خاموشی اختیار کرتی ہے۔

جب تک طاقتور ممالک کو ان کے جرائم پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، یہ عالمی ادارے اپنی کمزوری اور بے اثری کا شکار رہیں گے، اور "بے حسی کی تہذیب" اور "سکوت کا پرچم" ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کریں گے کیونکہ طاقت کے زور پر مسلط کردہ امن کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کردہ امن ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ حقیقی امن وہ ہے جو انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر قائم ہو۔

میناب کے بکھرے خواب، غزہ کی کچلی ہوئی مسکراہٹیں، اور یمن کی بھوکی آنکھیں سب ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ اب خاموشی جرم سے بڑھ کر گناہ بن چکی ہے۔ تاریخ کی بند آنکھوں اور ضمیر کی بے حسی میں آج ان مظلوم بچوں کی یہ آواز گونج رہی ہے: " *کیا کوئی ہماری بھی سنے گا؟*

یہ تو طے ہے کہ مظلوم کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ مگر وقت کی ضرورت ہے کہ ہم خود ان کی آواز بنیں۔ ورنہ یہی سکوت اور خاموشی سب کے لیے سزا بن جائے گی، اور تاریخ کے اوراق میں ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

 

تحریر: جواد پاروی

حوزہ نیوز ایجنسی|

Read 43 times