ارنا کے نامہ نگار کے مطابق، "امیر سعید ایروانی" نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں کہا: امریکہ اور بحرین نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کی صورتحال پر ایک انتہائی ناقص، یکطرفہ اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکہ و بحرین دعوی کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی آزادی کی حمایت کرنا ہے اور انہوں نے ایران کے خلاف کچھ بے بنیاد الزامات بھی لگائے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اقدامات اس کے اعلان کردہ اہداف سے واضح تضاد رکھتے ہیں اور امریکیوں نے صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور عدم استحکام کو گہرا کرنے کا ہی کام کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے : آبنائے ہرمز کے سلسلے میں واحد پائیدار حل، جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے ۔ اس کے برعکس، امریکہ "بحری تجارت کی آزادی" کی آڑ میں سلامتی کونسل میں ایک ناقص اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ پیش کر رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے اور غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دے سکے، نہ کہ بحران کو حل کر سکے۔
سعید ایروانی نے مزید کہا: اس قرارداد کے مسودہ کے ذریعے بین الاقوامی بحری تجارت کی حمایت کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سمیت امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے۔