سلیمانی
امریکہ یاد رکھے، وقت اب پلٹنے والا نہیں / مشرکین سے اعلانِ برائت، صرف حج تک محدود نہیں
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے حجِ بیت اللہ کی مناسبت پر اپنے ایک پیغام میں فرمایا کہ حج کے پُر رمز اعمال اور اذکار انسانیت کے لیے ہمیشہ رہنے والی ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب ہجرت، شیطان اور اس کے پیروکاروں کی غلامی سے نجات، احکامِ الٰہی پر مسلسل عمل، نفسانی خواہشات سے آزادی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہیں۔
یورپ میں خواتین کے خلاف ہراسمنٹ میں اضافہ
ایکنا کے مطابق، ابنا العربیہ کے حوالے سے شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ ’’یورپ میں اسلاموفوبیا 2025‘‘، جو برسلز میں قائم یورپی انسدادِ اسلاموفوبیا گروپ (CCIE) نے جاری کی ہے، یورپی ممالک میں مسلمانوں کی صورتِ حال کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت اب صرف سڑکوں پر ہونے والے حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ میں سیاسی، میڈیا اور سکیورٹی ڈھانچوں کا ایک مستقل حصہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ رپورٹ متاثرین کی شکایات، میڈیا مانیٹرنگ اور برطانیہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور ڈنمارک سمیت 11 یورپی ممالک کے جامعاتی اداروں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسلاموفوبیا اب یورپ میں ایک ’’معمول‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 2025 میں اسلاموفوبیا کے 876 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں امتیازی سلوک، نفرت انگیزی، بہتان تراشی، توہین اور جسمانی حملے شامل ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق مسلمان خواتین مجموعی متاثرین کا 80 فیصد ہیں، جبکہ امتیازی سلوک کے ایک بڑے حصے کا تعلق براہِ راست حجاب سے ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقت کا صرف ’’ایک چھوٹا حصہ‘‘ ہیں، کیونکہ یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی کے اندازے کے مطابق اسلاموفوبیا کے صرف چھ فیصد واقعات ہی رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کا سرکاری اداروں پر عدم اعتماد اور معاشرے میں اسلام مخالف فضا کا معمول بن جانا بتایا گیا ہے۔/
عالم اسلام کی بے حسی اسرائیلی جارحیت کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کر رہی ہے: بدرالدین الحوثی
تہران (IRNA) انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ فلسطینی عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے جتنی زیادہ غفلت برتے گی، صیہونی حکومت کو اپنی جارحیت کے دائرہ وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔
ارنا کے مطابق انہوں نے فلسطینی عوام اور لبنانی مزاحمت کی حمایت پر زور دیا کہا فلسطینی عوام کے مصائب اور ظلم ملت اسلامیہ کے جسم پر گہرا زخم ہے۔
الحوثی نے مزید کہا کہ صیہونیوں نے " گریٹر اسرائیل" اور "مشرق وسطی" کو تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت پورے خطے کو اپنے جارحانہ اقدامات کا نشانہ بنا رکھا ہے۔
انصار اللہ یمن کے سربراہ نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ فلسطینی عوام، فلسطینی مزاحمت اور حزب اللہ لبنان کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف اسلامی بھائی چارے کو مضبوط کرنے اور صیہونیوں کا مقابلہ میں اسلامی اقوام کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ یمنی عوام غزہ کے عوام کے مصائب و آلام لاتعلق نہیں ہیں اور اسے حوالے سے اپنی مقدس ذمہ دارایاں پوری کر رہے ہیں۔
ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ کھلی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی دہشت گرد فوج نے 8 اپریل 2026 سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اپنے غیر قانونی اور بلاجواز اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جن میں ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف متعدد بحری کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران امریکا نے صوبہ ہرمزگان کے علاقے میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان جارحانہ اقدامات کا ارتکاب ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے، جس سے ایک بار پھر امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور وعدہ خلافی ایران، خطے کے عوام اور عالمی برادری پر واضح ہوگئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس صورتحال نے ثابت کردیا ہے کہ میدان، عوامی سطح اور سفارتی محاذ پر امریکی حکومت کے حوالے سے ایرانی قوم کا گہرا عدم اعتماد مکمل طور پر منطقی اور امریکا کی دشمنانہ و مجرمانہ پالیسیوں کے درست ادراک پر مبنی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 اور 8 اپریل کی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ان جارحانہ اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی شرانگیزی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور ایران کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
انسانی حیات کی معنویت، ایثار اور قربانی کا فلسفہ
مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک؛ قربانی انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور گہرے مذہبی شعائر میں سے ایک ہے، جو تقریباً تمام الہامی ادیان اور ابتدائی تہذیبوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ لفظ “قربانی” اپنی اصل میں “قرب حاصل کرنے” کے معنی رکھتا ہے، اور یہی اس عمل کی روح اور مقصد کو واضح کرتا ہے؛ یعنی انسان کی جانب سے عالمِ قدس اور خداوندِ متعال سے نزدیک ہونے کی کوشش۔ ایک فکری اور معنوی زاویے سے دیکھا جائے تو قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان ایک روحانی رابطہ اور مادی وابستگیوں سے روح کی تطہیر کا علامتی اظہار ہے۔
اسلام سے پہلے ادیان میں قربانی کا تصور
یہودی مذہب میں قربانی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت سلیمانؑ کے معبد میں مختلف اقسام کی قربانیاں پیش کی جاتی تھیں، جن میں گناہوں کے کفارے، شکرگزاری اور عبادت کی قربانیاں شامل تھیں۔ ان کا بنیادی مقصد انسان کی خطاؤں کا ازالہ اور خدا سے عہد کی تجدید تھا۔
بعد ازاں عیسائیت میں قربانی کا مفہوم مزید روحانی اور علامتی صورت اختیار کر گیا۔ مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کے لیے آخری اور کامل قربانی پیش کی اور یہی تصور عیسائی الٰہیات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔
اسلام میں قربانی کا فلسفہ
اسلام میں قربانی کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ کے عظیم امتحان سے جڑی ہوئی ہے؛ وہ لمحہ جب ایک انسان نے اپنی سب سے عزیز متاع کو خدا کے حکم پر قربان کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ اسلام میں قربانی دراصل اسی روحِ تسلیم و رضا کی علامت ہے۔
قرآنِ کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ کو نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہی آیت قربانی کے حقیقی فلسفے کو آشکار کرتی ہے: اصل مقصد جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ نفسِ امّارہ، خواہشات اور دنیاوی وابستگیوں کو قربان کرنا ہے۔
قربانی کے سماجی اور اخلاقی پہلو
اسلام میں قربانی صرف ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی اور معاشرتی پہلو بھی ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر گوشت کو مستحقین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا معاشرتی ہم آہنگی، اخوت اور عدلِ اجتماعی کی علامت ہے۔ یہ عمل انسان کو سکھاتا ہے کہ اس کا مال و دولت صرف ذاتی ملکیت نہیں بلکہ خدا کی امانت ہے، جسے مخلوق کی خدمت میں استعمال ہونا چاہیے۔
اخلاقی اعتبار سے قربانی “ایثار” اور “قربانیِ نفس” کی مشق ہے۔ انسان جب اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے تو دراصل وہ بخل، حرص اور خود غرضی جیسے منفی اوصاف کو اپنے اندر سے ختم کرتا ہے۔
قربانی اور ایثار کا باہمی تعلق
اسلامی فکر میں قربانی کو ایثار کی اعلیٰ ترین شکل قرار دیا گیا ہے۔ روزمرہ زندگی کی چھوٹی قربانیاں انسان کو بڑے امتحانات کے لیے تیار کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بلند ترین مثال امام حسینؑ کی عظیم قربانی ہے، جہاں انہوں نے دینِ حق اور عدل کے تحفظ کے لیے اپنی جان اور اپنے اہلِ بیت کو قربان کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی اسلام میں محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک فکری مکتب بن چکی ہے، جس کا پیغام یہ ہے کہ انسان کے لیے خدا، حق اور حقیقت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
عرفانی نقطۂ نظر
مسلمان عرفاء قربانی کی حقیقت کو “فنا فی اللہ” سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قربانی کا جانور دراصل انسان کی حیوانی خواہشات اور نفسانی صفات کی علامت ہے۔ جانور کی رگیں کاٹنا دراصل نفس، دنیا پرستی، شیطانی وسوسوں اور غیر اللہ کی وابستگیوں کو ختم کرنے کی علامتی تصویر ہے۔
اس نگاہ میں قربانی ایک ظاہری عمل سے بڑھ کر باطنی سلوک اور روحانی ارتقاء کا سفر بن جاتی ہے۔
عصرِ حاضر میں قربانی کا مفہوم
آج کی دنیا میں قربانی کا مفہوم صرف مذہبی رسم تک محدود نہیں، بلکہ اسے ذاتی مفادات کو اجتماعی بھلائی، انصاف اور اخلاقی اقدار کے لیے قربان کرنے کے تصور کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
الہامی ادیان قربانی کی سنت کو زندہ رکھ کر انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ معنوی زندگی ایثار، صبر اور قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ قربانی دراصل ایک ایسا اعلان ہے کہ انسان کے نزدیک خدا کی رضا، حق اور حقیقت ہر چیز سے بالاتر ہیں، خواہ اس کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔
مستقبل امت مسلمہ کا ہے، ایران نے صیہونی نفوذ کو مکمل طور پر ختم کردیا، رہبر معظم کا پیغام
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے حجِ ابراہیمی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا ہے کہ مستقبل امتِ مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب کا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص اپنی ہمت، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کے حصول اور اسے قریب لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے حج کے پر رمز و راز اعمال اور اذکار کو انسانیت کے لیے ہمیشہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت، شیطان اور اس کے پیروکاروں کے قید و بند سے آزادی، الہی فرائض کی ادائیگی کے لیے انتھک کوشش اور نفسانی خواہشات سے نجات کا نشان قرار دیا۔
اپنے پیغام میں رہبر معظم نے کہا کہ اس سال بھی موسمِ حج آن پہنچا اور امتِ مسلمہ کے حجاج نے بندگی کا احرام باندھ کر 'لبیک' کی صدائیں بلند کیں تاکہ مادی اور معمولی زندگی سے الہی اور سعادت مندانہ زندگی کی طرف ہجرت کر سکیں۔ ایک ایسی توحیدی زندگی جس کا محور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور 'انداد اللہ' (اللہ کے شریکوں اور بتوں) کی نفی اور ان سے براءت ہے۔ لیکن اس ہجرت کا موقع صرف اس سال بیت اللہ کی زیارت کرنے والوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایران اور دنیا بھر کے تمام مسلمان بھائی اور بہنیں—خواہ وہ جو ماضی میں حاجی بن چکے ہیں یا وہ جو ابھی تک حج کے اعمال بجا لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے—سب اس میں شامل ہیں۔
اس ہجرت کی شرط ذکرِ خدا کے گرد مستقل احرام باندھنا، حق کے محور پر دائمی طواف کرنا اور الہی فرائض کی پرخطر چوٹیوں کے درمیان مسلسل سعی کرنا ہے۔ یہ اپنے اغوا کار جلووں کے ساتھ شیطانِ شریر اور اس کے تمام چیلوں کو لگاتار رمی کرنا (کن کنکریاں مارنا) ہے؛ یہ مکمل توجہ اور گریہ و زاری کے ساتھ وقوف کرنا ہے؛ یہ لاچار فقیروں اور مسافروں کو کھانا کھلانا، گمراہ کن خواہشات کی قربانی دینا اور اندرونی آلودگیوں کو پاک کرنا ہے۔ اور یہ ہر حال میں خدمت کے لیے تیار رہنے اور حق کے دفاع کا علم بلند رکھنے کا نام ہے۔ یہی وہ راستہ تھا جس پر ایرانی قوم نے انقلابِ اسلامی کے میقات میں قدم رکھا، خمینی کبیرؒ کی ابراہیمی پکار پر لبیک کہا، غلامی کا لباس اتار پھینکا، دنیاوی و اخروی سعادت کا احرام پہنا اور لبیک کہتے ہوئے دوڑ کر (ہرولہ کرتے ہوئے) اسلامِ نابِ محمدی (ص) کے معارف کے گرد طواف کرنے کی کوشش کی تاکہ خود کو عالمی عدل اور ولایتِ عظمیٰ کے عالم تاب نور سے قریب کر سکے۔ **اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد، اللہ اکبر علیٰ ما ہدانا۔**
انہوں نے کہا کہ جی ہاں، اللہ اکبر! اور اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے ہی مسلمان ایرانی قوم نے 47 سال قبل قیام کیا، طاغوتی، ڈکٹیٹر اور وابستہ پہلوی حکومت کا تختہ الٹ دیا، لالچی اور مستکبر امریکہ کے ہاتھ پاؤں ملک سے کاٹ دیے اور صیہونیت کے نفوذ کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے صدامی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد غیور مجاہدوں اور سرفروش نوجوانوں نے 8 سالہ دفاعِ مقدس کی داستان رقم کی، اور مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی بعثی حکومت کو حاصل حمایت کے باوجود اسے اس کی اوقات بتائی۔ یہ استقامت برسوں بعد تک معاشی محاصروں، بغاوتوں، ظالمانہ پابندیوں اور دشمنوں کے بے شمار سیاسی، پروپیگنڈا اور اقتصادی حملوں کے خلاف پوری مضبوطی کے ساتھ جاری رہی۔
اللہ اکبر! یہی 'اللہ اکبر' کا ہتھیار تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک، اور افریقہ و یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام آزاد منش قوموں تک، امتِ مسلمہ اور محاذِ مزاحمت کے مجاہد نوجوانوں کے رابطوں کو مستحکم کیا۔ تاکہ یہ 'حبلِ متین' غاصب صیہونی حملہ آوروں کے خلاف امتِ مسلمہ کی بقا کے دفاع کے لیے کھڑی ہو سکے، داعش کی بساط لپیٹ دے، طوفانِ اقصیٰ برپا کرے اور لرزتی ہوئی صیہونی حکومت کی سانسیں اکھاڑ دے۔
اللہ اکبر؛ جی ہاں، اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے۔ یہ 'اللہ اکبر' کا ہی ہتھیار تھا جس پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوری ایران جون 2025 میں دوسری مسلط کردہ جنگ میں صیہونی حکومت کو اپنی کاری ضربات سے عاجز کرنے، جارح امریکہ کو زوردار تھپڑ رسید کرنے اور ایران کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے دشمن کے ہدف کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوا۔
اور اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار نے ایرانی قوم کو وہ قوت اور توانائی بخشی کہ عظیم قائد، فرزندِ رسول (ص)، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی دورِ حاضر کے بدبختوں کے ہاتھوں المناک شہادت کے واقعے کے بعد، اس قوم میں ایک الہی جذبہ پیدا ہوا اور اس نے ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اپنی بھرپور موجودگی سے دنیا کی آنکھوں کو اپنے کارناموں سے خیرہ کر دیا۔
بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے اسلامی ایران کے غیور مجاہدوں اور جانثار مسلح افواج نے محاذِ مزاحمت، خصوصاً عزیز لبنان کے مجاہدوں کے ساتھ مل کر، تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور صیہونیت کی دو دہشت گرد اور افواج کے خلاف چشم کشا کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے ربِ ذوالجلال پر توکل کرتے ہوئے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے زمین، ہوا اور سمندر میں شیطانِ بزرگ یعنی امریکہ اور اس کے پالتو جانور یعنی صیہونی حکومت کو 'رمی' کیا (کنکریاں ماریں) اور راہِ خدا کے مجاہدوں کی نصرت کے الہی وعدے کو اپنی آنکھوں سے سچ ہوتے دیکھا۔
ایک بار پھر اللہ اکبر؛ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے اور اس کے لشکر ہر طاقت پر غالب ہیں۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار کی برکت سے، ملتِ ایران اور محاذِ مزاحمت کی بیداری کے بعد اب امتِ مسلمہ کی بیداری کا دور شروع ہوگا اور مشرکین سے بیزاری کا عمل حج کی 'رمی جمرات' سے نکل کر دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کی انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی کے تمام شعبوں تک پھیل جائے گا۔ امتِ مسلمہ اور خطے کی اقوام کے پاس بہت سی مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات ہیں جو خطے اور دنیا کے نئے نظم اور مستقبل کے نقشے (جیومیٹری) کو ترتیب دیں گے۔
میں مکمل سچائی اور خلوص کے ساتھ تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو دوستی، تعاون اور خیر و بھلائی کی دعوت دیتا ہوں تاکہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے امتِ مسلمہ کی ترقی اور دنیائے اسلام کے مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ اس سلسلے میں جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں مڑے گا اور خطے کی قومیں اور سرزمینیں اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے انسانی ڈھال نہیں بنیں گی۔ امریکہ کے لیے اب خطے میں شرارت کرنے یا فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہے گی اور وہ روز بروز اپنی سابقہ حیثیت سے دور ہوتا جائے گا۔ متزلزل صیہونی حکومت اور یہ کینسر کا پھوڑا بھی اپنی منحوس زندگی کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکی ہے اور فضلِ الہی سے، عظیم شہید قائد (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کے 10 سال پہلے کے اس قطعی اور دور اندیش قول کے مطابق کہ 'یہ حکومت اگلے 25 سال نہیں دیکھے گی'، ان شاء اللہ وہ تاریخ اب قریب ہے۔
اسی وجہ سے اس سال مشرکین سے بیزاری کا مسئلہ دوچند اہمیت اختیار کر گیا ہے اور امریکہ و صیہونی حکومت سے بیزاری کی گہرائی اور وسعت حج کے مخصوص ایام اور میقات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ ان مبارک ایام کے بعد ایران اور دنیا کے مختلف حصوں میں 'مردہ باد امریکہ' اور 'مردہ باد اسرائیل' امتِ مسلمہ اور دنیا کے مظلوموں، خصوصاً نوجوانوں کا رائج نعرہ ہوگا۔
مستقبل امتِ مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب کا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنی ہمت، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کے حصول اور اسے قریب لانے میں اپنا نقش ادا کر سکتا ہے۔ اس سال حج پر جانے والے ایرانی حجاج کا اپنے دیگر مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے 'تیسری مسلط کردہ جنگ' کی فتح کی داستان بیان کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی امید دلانے میں ایک انتہائی مؤثر اور نمایاں کردار ہے۔
میں تمام معزز حجاج سے التماس کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے نجات دہندہ (امام مہدی عج) کے ظہور میں تعجیل، امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی پریشانیوں کے خاتمے اور عالمی استعمار کے خلاف حتمی فتح کے لیے خصوصی دعا کریں اور اس ناچیز کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
پروردگارا! محمد و آلِ محمد پر درود بھیج اور حجاج اور تمام امتِ اسلام پر اپنی نظرِ کرم اور رافت فرما۔ انہیں حجِ مقبول کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کے نور سے روشن فرما اور امت کی حالتِ زار کی اصلاح اور اسلام کے دشمنوں پر حتمی فتح کے راستے پر چلنے کے لیے ان کے عزم و ارادے کو مزید پختہ فرما۔
بارِ الٰہا! اپنا فضل اور رحمتِ واسعہ راہِ خدا کے شہداء، خصوصاً محاذِ مزاحمت کے شہیدوں اور ان کے سرِ فہرست عظیم شہید قائد (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی روحِ مطہر پر نازل فرما۔ ان حجاج کے حج، عبادت گزاروں کی عبادت اور ان مجاہدوں کی کوششوں کا وافر حصہ ان کی ملکوتی روح کو پہنچا جو قائدِ امت کی ہدایت اور قیادت کے زیرِ سایہ رہے، اور ملتِ ایران و امتِ مسلمہ کو ان کے راستے اور مقصد پر قائم رہنے میں مدد فرما۔
اے پروردگار! اپنا بہترین درود و سلام ہمارے آقا و مولا حضرت مہدیِ منتظر (صلوات اللہ و سلامہ علیہ وعلیٰ آبائہ الطاہرین) پر نازل فرما اور ہم سب کو اور پوری امتِ مسلمہ کو آپ (عج) کی پاکیزہ اور مستجاب دعاؤں کا حصہ دار بنا، اور دنیا کو آپ (عج) کے مبارک قدموں سے منور و مزین فرما، جیسا کہ تو نے وعدہ فرمایا ہے اور ہمارے دل اس حتمی وعدے پر مکمل اطمینان سے لبریز ہیں۔
فکرِ عرفہ، اقدامِ کربلا اور شہید خامنہ ای کی بصیرت، عصرِ حاضر کا انقلابی منشور
دورِ حاضر میں اگر دعائے عرفہ کے فکری نظریات اور کربلا کے انقلابی اصولوں کی کوئی زندہ، مجسم اور عملی مثال دیکھنی ہو، تو وہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت، بصیرت اور ان کی دہائیوں پر محیط مسلسل جدوجہد ہے۔ رہبرِ معظم کی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ دعائے عرفہ کی توحید اور کربلا کا سرفروشانہ جذبہ صرف کتابوں کی زینت نہیں، بلکہ ان کے ذریعے دنیا کی سپر پاورز کے سامنے نہ صرف ڈٹا جا سکتا ہے، بلکہ دنیا بھر کے کچلے ہوئے طبقات (مستضعفین) کو بیدار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس طویل اور بابرکت دورِ قیادت سے چند اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں جو براہِ راست پیغامِ کربلا اور دعائے عرفہ کی عکاسی کرتے ہیں:
1۔ توکل اور بے خوفی (عرفانی و ملکوتی طاقت)
دعائے عرفہ کا جوہر یہ ہے کہ انسان کا دل خدا کی عظمت سے ایسا بھر جائے کہ دنیا کے فرعون اس کی نظر میں مچھر کے پر کے برابر بھی نہ رہیں۔ رہبرِ معظم نے اپنے پورے دورِ قیادت میں، عالمی استعمار (امریکہ اور اس کے حواریوں) کی تمام تر اقتصادی، فوجی اور نفسیاتی جنگ کے باوجود، کبھی خوف یا پسپائی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا یہ محکم موقف دراصل اسی "توکلِ حسینی" کا تسلسل ہے جو انہوں نے کربلا سے سیکھا۔
2۔ مستضعفینِ جہاں کی عالمی بیداری اور اتحاد
امام حسین علیہ السلام کا مقصد کسی ایک خطے کی اصلاح نہیں تھا، بلکہ وہ پوری انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔ اسی طرح، رہبرِ معظم نے اپنی قیادت کو صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے فلسطین، لبنان، یمن، کشمیر اور افریقہ سمیت دنیا کے ہر کونے میں موجود مظلوم اور مستضعف انسان کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے بکھرے ہوئے محروم طبقات کو ملا کر "محورِ مقاومت" (Axis of Resistance) تشکیل دیا، جس نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آج دنیا کا غریب اور مظلوم انسان یہ جانتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو بلا خوف و تردید اس کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔
3۔ معاشی خود انحصاری اور عزتِ نفس (ہیہات منا الذلۃ)
جیسا کہ کربلا کا درس ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، رہبرِ معظم نے شدید ترین عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے ملک اور قوم کو جھکنے نہیں دیا۔ انہوں نے "اقتصادِ مزاحمتی" (Resistance Economy) اور علمی و ٹیکنالوجیکل خود انحصاری کا نظریہ پیش کیا۔ مستضعفین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ اگر تمہارے پاس ایمان، علم اور عزم ہو، تو تم اقتصادی محاصرے کو بھی اپنی کامیابی میں بدل سکتے ہو اور استعمار کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکتے ہو۔
4۔ بصیرت اور شجاعت کا امتزاج
دعائے عرفہ انسان کو بصیرت (اندرونی آنکھ) دیتی ہے اور کربلا شجاعت عطا کرتی ہے۔ رہبرِ معظم کی 47 سالہ علمی، سیاسی اور انقلابی جدوجہد (چاہے وہ قبل از انقلاب کے ایام ہوں، دورانِ جنگ فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی ہو، یا بعد میں رہبری کا کٹھن سفر) اس بات کی گواہ ہے کہ وہ وقت کے یزیدی ہتھکنڈوں اور ان کی چالوں کو نہ صرف خوب سمجھتے ہیں، بلکہ ان کا دندان شکن جواب بھی دیتے ہیں۔
اگر امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے انقلابِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر مستضعفین کو ایک نئی زندگی دی تھی، تو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای نے اس شمع کو نہ صرف روشن رکھا بلکہ اس کی روشنی کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ آج غاصب صیہونی نظام اور استعماری قوتوں کے خلاف جو بیداری ہم عالمی سطح پر دیکھ رہے ہیں، وہ اسی حسینی اور کربلائی فکر کی مرہونِ منت ہے جسے رہبرِ معظم نے اپنے عمل، تقاریر اور فیصلوں سے دنیا بھر کے مستضعفین کے دلوں میں راسخ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر رہبر باایمان اور باصیرت ہو، تو کربلا کا کارواں کبھی رک نہیں سکتا۔
تحریر: سید آل حسنین
آبنائے ہرمز میں کوئی تیسرا ملک شریک نہیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی خاص وقت یا ٹائم لائن مقرر نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے اصل معیار قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ لہٰذا ہم جلد از جلد ایسے نتائج حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کو یقینی بنا سکیں۔
ترجمان نے مذاکراتی عمل میں حائل رکاوٹوں پر بات کرتے ہوئے کہا: فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے کچھ نکات پر ابھی اختلافات موجود ہیں، جن پر کام جاری ہے۔
انہوں نے امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جس فریق کے ساتھ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ان کا مذاکراتی انداز غیر روایتی ہے اور ان کی جانب سے بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی اس سفارتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم ہمارے مذاکرات کار گزشتہ ایک سال کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اگلے دور کے مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا: فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے توسط سے جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی بالمشافہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ جب بھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے یا مشاورت کی ضرورت محسوس ہوئی تو پاکستان کی سہولت کاری سے اجلاس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: آبنائے ہرمز میں کوئی تیسرا ملک شریک نہیں، عمان کے ساتھ مشترکہ پروٹوکول پر مشاورت جاری ہے۔ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ پروٹوکول پر انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کا عبرتناک انجام: تختہ الٹنے کا خواب چکناچور
مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران کے خلاف تقریبا تین ماہ قبل ایک ہمہ جہت تجاوز شروع کیا گیا جس میں فوجی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور میڈیا ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا، جس کا مقصد ایرانی نظام کا تختہ الٹنا تھا۔ تاہم، جنگ کے ۴۰ دنوں بعد اب مغربی اور صیہونی تجزیہ کار بھی شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ اس جنگ نے ایران کو گرانے کے بجائے اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر مزید مضبوط کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اب پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔
اس جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے اس دیرینہ دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی ملک کو فوجی طاقت سے جھکا سکتے ہیں۔ طویل جنگ، اہداف کے حصول میں ناکامی اور بالآخر جنگ بندی کی طرف رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی ڈیٹرنس ایران کے سامنے بے اثر ہو چکی ہے۔ آج عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں کوئی بھی پائیدار سیاسی انتظام ایران کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا اسٹریٹجک تسلط
اس کشمکش کے دوران آبنائے ہرمز کا مسئلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا، کیونکہ اس جنگ کے غیر اعلانیہ مقاصد میں سے ایک اہم ہدف توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر ایران کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ تاہم، یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا اور جنگ کے بعد خلیج فارس کی سکیورٹی اور استحکام کے معاملات میں ایران کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔
آج بہت سے مغربی تجزیہ کار بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کی اہمیت اور اس کے کردار کو نظر انداز کر کے خطے میں کوئی بھی پائیدار سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنا ناممکن ہے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی سازش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب عالمی طاقتیں یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ تہران کو خطے کے اہم معاملات سے خارج کرنا ممکن نہیں ہے۔
علاقائی اور داخلی صورتحال پر اثرات
جنگ کے دوران ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں الٹا اثر کر گئیں۔ خطے کے وہ ممالک جو ایران مخالف پالیسیوں میں شامل تھے، اب محتاط ہو چکے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا مطلب پورے خطے میں بحران پھیلانا ہے۔ داخلی محاذ پر بھی دشمن کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے ایرانی معاشرے کو صرف سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کے آئینے میں دیکھا تھا، لیکن ایرانی عوام نے خارجی خطرات کے سامنے مثالی وحدت کا مظاہرہ کر کے دشمن کے سماجی تقسیم کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
حاصل سخن
اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن وار کا امریکی نظریہ ایک خام خیالی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے نہ صرف جوابی کارروائیاں جاری رکھیں بلکہ اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی مکمل طور پر فعال رکھا۔ اب خود مغربی حلقوں میں یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا وسیع تر تصادم امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ دشمن کسی بھی حماقت کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہے۔
سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز
عاجل نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے یوم الترویہ کے لیے اپنی مکمل تیاری اور حجاج کو منیٰ منتقل کرنے کے سلسلے میں تمام میدانی اور عملی اقدامات کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات ایک جامع منصوبے کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں جس کا مقصد حجاج کی اپنے کیمپوں تک منظم نقل و حرکت اور مقدس مقامات پر فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی ہے۔
وزارت کی ذمہ داریوں میں حجاج کی رہائش گاہوں اور ضیافت مراکز سے منیٰ تک روانگی کی نگرانی، کیمپوں میں ان کے منظم داخلے کو یقینی بنانا، رہنمائی اور آگاہی فراہم کرنا، نیز حج 1447 ہجری کے منظور شدہ عملی منصوبوں کے مطابق زائرین کو ان کے مقررہ مقامات تک پہنچانے میں معاونت شامل ہے۔
وزارت نے متعلقہ اداروں کے تعاون سے منیٰ میں رہائش، خوراک اور نقل و حمل کی خدمات کے عملی انتظامات مکمل کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میدانی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ مسائل کی فوری نشاندہی اور براہِ راست حل ممکن ہو سکے، اور حجاج کے مقدس مقامات پر ابتدائی قیام کے دوران خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ تمام کوششیں مشترکہ آپریشنز اور نگرانی و کنٹرول سینٹر کے ذریعے مکمل کی جا رہی ہیں، جہاں حجاج کی نقل و حرکت، خدمات اور عملیاتی امور پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ میدانی ٹیموں کو ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے فوری طور پر نمٹا جا سکے جو نقل و حرکت یا خدمات کے معیار کو متاثر کر سکتا ہو۔
یوم الترویہ مقدس مقامات میں حجاج کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے، کیونکہ یہ منیٰ میں بھرپور میدانی سرگرمیوں کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس سے تمام اداروں کی باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے تاکہ حجاج مناسکِ حج کو آسانی اور اطمینان کے ساتھ ادا کر سکیں۔
آج 8 ذی الحجہ، مطابق 4 اردیبهشت، ’’یوم الترویہ‘‘ ہے؛ یہ وہ دن ہے جب سرزمینِ وحی کے زائرین حج تمتع کے اعمال و مناسک کی تیاری کرتے ہیں۔
’’ترویہ‘‘ کے معنی پانی ذخیرہ کرنے کے ہیں۔ قدیم زمانے میں حجاج کو عرفات میں قیام اور مشعرالحرام میں شب بسر کرنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنا پڑتا تھا، اسی مناسبت سے اس دن کو ’’یوم الترویہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اسی دن حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کا قافلہ مکہ سے روانہ ہوا تھا اور منیٰ کے راستے عرفات کی جانب روانہ ہوا۔
حجاجِ بیت اللہ الحرام اس دن حج تمتع کی نیت کرتے ہیں اور احرام باندھنے کے بعد مکہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ رات بسر کرتے ہیں، پھر 9 ذی الحجہ یعنی یومِ عرفہ کی صبح عرفات کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔/




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
