سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف شعبوں میں تیاریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاری بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے زیادہ فوجی میدان پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے دفاعی اور عسکری تیاریوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اگر دشمن فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو کارروائیوں کی نوعیت، جنگ کا جغرافیہ اور استعمال ہونے والے ہتھیار ماضی سے مختلف ہوں گے، جبکہ پاسداران انقلاب تمام ممکنہ حالات اور منظرناموں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی مسلح افواج کی جنگی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت نہ صرف ماضی کی عسکری طاقت کا تسلسل ہے بلکہ میدان جنگ اور دشمن کے ساتھ براہ راست مقابلوں سے حاصل ہونے والے تجربات کا نتیجہ بھی ہے۔
آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ آج ایران کو دشمن کی عسکری صلاحیتوں، حملہ آور اور دفاعی سازوسامان، جنگی حکمت عملیوں اور آپریشنل طریقہ کار کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ جامع معلومات حاصل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عرصے میں ایران کی جنگی صلاحیت میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ ان کے بقول بعض دعوؤں کے برعکس نہ تو ایرانی بحری قوت تباہ ہوئی ہے اور نہ ہی ملک کی عملیاتی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے زمینی، بحری اور فضائی سطح پر اپنی وسیع عسکری طاقت استعمال کرنے کے باوجود چند منٹوں کے لیے بھی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے نہیں چھینا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی مرضی کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں آیا تھا، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ترجمان نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے دوران بھی امریکہ اپنی وسیع فوجی صلاحیتوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو متاثر نہیں کر سکا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری مکمل طور پر برقرار ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول پاسداران انقلاب کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کی علامت ہے۔



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
