امام خمینی(ره) اسلامی دنیا میں سیاسی استقلال کے لیے بہترین آئیڈیل ہے

Rate this item
(0 votes)
امام خمینی(ره) اسلامی دنیا میں سیاسی استقلال کے لیے بہترین آئیڈیل ہے

- امام خمینیؒ کی فکر ایران کی جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہمیشہ عالمِ اسلام میں ایک متحرک اور اثر انگیز عنصر کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہے۔ لیکن وہ کون سی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر فلسطین کے مسئلے سے لے کر عالمی استکبار کے مقابلے تک، اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک فکری و سیاسی رہنما کے طور پر امام راحل کا نقطۂ نظر نمایاں ہوا؟ لبنان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ممتاز شخصیت شیخ غازی حنینہ نے ایکنا سے گفتگو میں امام خمینیؒ کی شخصیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق امام راحل ایک ایسے رہبر تھے جنہوں نے بصیرت اور ایمان کو یکجا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کی وحدت اور شناخت کی بحالی کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا۔

لبنان کے "تجمع علمائے مسلمین" کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ امام خمینیؒ نظریات، افکار، بصیرت، طرزِ فکر اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت تھے۔ وہ اپنے مؤقف میں دلیر اور ثابت قدم، جبکہ اپنی بصیرت میں نہایت روشن خیال تھے اور ایران، خطے اور دنیا کے حالات و نتائج سے پوری طرح آگاہ تھے۔

"شیطانِ بزرگ" کا مقابلہ؛ امام راحل کی استقلال پسندی کا ورثہ

شیخ حنینہ نے امام خمینیؒ کی سیاسی شخصیت کے بارے میں کہا کہ اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکہ کے بارے میں ان کا مؤقف انتہائی مضبوط اور جرات مندانہ تھا، جب انہوں نے امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیا۔ امام راحل کا یہ معروف قول بھی ہے کہ: "اگر فرض کریں کہ امریکہ سو فیصد اسلامی اور انسانی منصوبہ بھی پیش کرے، تب بھی ہم یقین نہیں کریں گے کہ وہ امن اور ہمارے مفادات کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل 'لا الٰہ الا اللہ' بھی کہیں تو ہم ان پر اعتماد نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ہمیں دھوکا دینا چاہتے ہیں۔" ان کے مطابق جو شخص امریکہ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، وہ گویا کوئلہ فروش سے سودا کرتا ہے، جس کا نتیجہ صرف چہرہ سیاہ ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سطح پر بھی امام خمینیؒ نے فلسطین کے مسئلے کو نہایت اہمیت دی اور اسے ایک مرکزی نکتہ قرار دیا، جس کے ذریعے عرب خطے اور پورے عالمِ اسلام میں امتِ مسلمہ کی بیداری اور احیاء ممکن ہے۔

شیخ حنینہ نے ایران کے اندر امام خمینیؒ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام راحل ایرانی عوام کی وحدت، یکجہتی اور اسلامی شناخت پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اسلام ہی قوم کی نجات اور اس کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔ وہ ایسا خالص اور روشن اسلام پیش کرتے تھے جو ایرانی معاشرے کے تمام طبقات اور اقلیتوں، جن میں یہودی، زرتشتی اور مسیحی شامل ہیں، کے حقوق اور خصوصیات کا احترام کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امام خمینیؒ کی شخصیت میں دینی، عرفانی اور سیاسی پہلو ایک ساتھ جمع تھے۔ ہم سب کو یاد ہے کہ اسلامی انقلاب ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں برپا ہوا اور انہوں نے داخلی میدان میں "شیطانِ بزرگ" اور مغرب کی دشمنی کے باوجود اسلامی جمہوریہ کو آگے بڑھایا۔ اس وقت امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مخالف تھا، سوویت یونین بھی اس کے خلاف تھا اور بیشتر عرب ممالک ایران سے متصادم تھے، سوائے شام کے جس پر اس وقت حافظ الاسد کی حکومت تھی۔ ایسے ماحول میں امام راحل نے ایک ایسا نعرہ پیش کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

شیخ حنینہ کے مطابق امام خمینیؒ کا نعرہ "نہ شرقی، نہ غربی" اس حقیقت کا اظہار تھا کہ ان کی حکومت کی فکر، بنیادیں، ثقافت اور صلاحیتیں نہ مشرق سے اخذ کی گئی تھیں اور نہ مغرب سے، بلکہ اسلام اور ایران کی مہذب عوام سے ماخوذ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس نعرے نے عرب اور اسلامی دنیا میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوان امریکہ اور سوویت یونین دونوں کے اثر و رسوخ سے ہٹ کر ایک آزاد راستہ تلاش کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے مختلف اسلامی تحریکیں، جن میں اخوان المسلمون، حزب التحریر اور دیگر جماعتیں شامل تھیں، امام خمینیؒ کے مؤقف سے متاثر ہوئیں۔ بالخصوص لبنان میں امام راحل کے افکار کو بڑی پذیرائی ملی، کیونکہ لبنانی معاشرہ سیاسی، فکری اور ابلاغی اعتبار سے کھلا اور متحرک تھا۔ چنانچہ خطے کی اسلامی تحریکیں عمومی طور پر اور لبنان کی تحریکیں خصوصی طور پر امام خمینیؒ کے افکار اور سیاسی نظریات سے متاثر ہوئیں۔

اسلامی وحدت کے میدان میں امامؒ کی فکر کا پائیدار ورثہ

شیخ حنینہ نے زور دے کر کہا کہ امام خمینیؒ وحدتِ اسلامی کی اہمیت کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے، کیونکہ اسلامی وحدت ایک الٰہی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو" (الانبیاء: 92)۔ اسی طرح فرمایا: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ" (الحجرات: 10)۔ نیز ارشاد ہوتا ہے: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو" (آل عمران: 103)۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے بھی امت کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے باہمی تعاون کا حکم دیا۔ اسی تناظر میں قرآن مجید فرماتا ہے: "بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں" (الصف: 4)۔

شیخ حنینہ نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ نے شرعی ذمہ داری اور امت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی وحدت کا منصوبہ پیش کیا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 12 سے 17 ربیع الاول کے درمیان کے ایام کو "ہفتۂ وحدت" کا نام دیا، کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت کے بارے میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کی دو مختلف تاریخیں موجود ہیں۔ امام نے ان دونوں تاریخوں کے درمیان کے ایام کو وحدتِ اسلامی کی علامت قرار دے کر امت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا آغاز ایسے دور میں ہوا جب سیاسی، فکری اور ثقافتی حالات مسلسل تبدیلی سے گزر رہے تھے۔ اس کے بعد بہت سے مسلمانوں نے "وحدتِ اسلامی" کے تصور کو اپنانا شروع کیا۔

آخر میں شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ آج ہم اسلامی وحدت اور باہمی ہم آہنگی کے تصورات کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع سطح پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ امر آج مزاحمتی محاذوں میں "وحدتِ میدان" (وحدتِ ساحات) کے تصور میں بھی نمایاں ہے۔ ان کے بقول امام خمینیؒ کی پیش کردہ اسلامی وحدت، جو قرآن اور سنتِ رسول ﷺ سے ماخوذ ہے، آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ قبول، مؤثر اور مستقبل کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے۔/

 

Read 0 times