اتحاد بین المسلمین کے لیے مسلم ممالک کا علمی و عملی اشتراک ضروری ہے

Rate this item
(0 votes)
اتحاد بین المسلمین کے لیے مسلم ممالک کا علمی و عملی اشتراک ضروری ہے

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ہفتۂ وحدت اور میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس، ڈائریکٹر مرکزِ تحقیقِ ریاضیاتی علوم (MSRC)، صدرِ شعبۂ ریاضیاتی علوم، بانی و نگران، LAMDA، الطوسی STAR و الخوارزمی DIUI مسلم ریاضی دان تحقیقی یونٹس، وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کیمپس نے مہر خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

سوال: رسولِ خدا کی سیرتِ طیبہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ فکری و تہذیبی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آپ کے نزدیک دور حاضر میں سیرتِ نبوی کو وحدتِ امت کے عملی نمونے کے طور پر کس طرح اجاگر کیا جا سکتا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس: رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ کی سیرتِ طیبہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ فکری و تہذیبی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم اس سوال کو سمجھنے کے لیے عہدِ نبوی کے معاشرے کی طرف واپس جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعثتِ رسول سے قبل عرب معاشرہ مختلف قبائل، خاندانوں اور گروہی شناختوں میں منقسم تھا۔ قبائلی عصبیت اس معاشرے کی بنیادی فکری و سماجی قوت تھی۔ ہر قبیلہ اپنی شناخت، مفادات اور برتری کو مقدم سمجھتا تھا، جس کے نتیجے میں باہمی رقابت، تنازعات اور طویل جنگیں معاشرتی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں؛ یعنی اس معاشرے میں ایک ایسی جامع فکری بنیاد موجود نہیں تھی جو مختلف قبائل کو ایک مشترکہ انسانی اور اجتماعی مقصد کے تحت متحد کر سکے۔

ایسے ماحول میں رسولِ خدا نے صرف ایک مذہبی پیغام نہیں دیا، بلکہ ایک جامع فکری، اخلاقی اور تہذیبی نظام پیش کیا۔ اس نظام کی بنیاد توحید تھی، جس نے انسان کو مختلف مصنوعی برتری سے نکال کر ایک خدا کے سامنے مساوات کا تصور دیا۔ اس کے ساتھ اخوت، عدل، مساوات، انسانی کرامت، ایثار، رواداری اور اجتماعی ذمہ داری جیسے اصولوں نے ایک منتشر معاشرے کو ایک امت میں تبدیل کیا۔

رسولِ خدا کی عظیم کامیابی یہ تھی کہ آنحضرت نے مختلف قبائل، خاندانوں، علاقوں اور معاشرتی طبقات کو ان کی الگ الگ شناخت ختم کیے بغیر ایک مشترکہ امت کا حصہ بنایا۔ اس سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں ہے۔ ایک امت میں شامل ہونے کے باوجود لوگ اپنی زبان، علاقائی ثقافت، روایات اور معاشرتی خصوصیات رکھ سکتے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک مشترکہ فکری اور اخلاقی بنیاد موجود ہونی چاہیے۔

آج کے دور میں بھی مسلم دنیا مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور معاشرتی روایات میں تقسیم ہے۔ یہ تنوع اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اسے ختم کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی ممکن۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنوع کو اختلاف اور تصادم کے بجائے وحدت اور تعاون کی قوت بنایا جائے۔ آج بھی توحید، رسالتِ محمدی، قرآن، عدل، اخوت، انسانی کرامت، علم، امن اور مظلوم کی حمایت جیسے اصول پوری امت کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

چنانچہ دورِ حاضر میں سیرتِ نبوی کو وحدتِ امت کے عملی نمونے کے طور پر اجاگر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سیرت کے واقعات کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر بیان نہ کریں، بلکہ ان کے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ مسلکی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دینا، مختلف ثقافتوں کا احترام کرنا، علمی مکالمے کو فروغ دینا، عدل و مساوات کو یقینی بنانا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا اور امت کے مشترکہ مسائل پر مشترکہ آواز بلند کرنا اسی نبوی منہج کی عملی صورتیں ہیں۔

میرے نزدیک سیرتِ نبوی کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ امت کی وحدت کا مطلب سب کو ایک جیسا بنانا نہیں، بلکہ مختلف شناختوں کو ایک مشترکہ اخلاقی، فکری اور روحانی مقصد کے تحت جمع کرنا ہے۔جس طرح رسولِ خدا نے قبائلی تقسیم کو اخوتِ اسلامی میں تبدیل کیا، اسی طرح آج مسلم دنیا اپنی لسانی، ثقافتی، علاقائی اور مسلکی تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے توحید، رسالت، عدل، اخوت، علم اور انسانی خدمت کی مشترکہ بنیاد پر ایک مضبوط اور باوقار امت تشکیل دے سکتی ہے۔

سوال: آج عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانیہ سازی، اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کیا مسلم دنیا کی علمی و فکری وحدت اس منفی بیانیے کا مؤثر جواب بن سکتی ہے؟ اگر بن سکتی ہے تو اس کے لیے کن علمی اقدامات کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر شاہین عباس: اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف منفی بیانیے کا مؤثر جواب جذباتی ردِعمل کے بجائے علمی، تحقیقی اور فکری قوت سے دیا جانا چاہیے۔

میری ذاتی رائے ہے کہ مسلم دنیا کو مشترکہ طور پر ایسے تحقیقی مراکز اور علمی پلیٹ فارمز قائم کرنے چاہییں جو اسلام کی حقیقی تعلیمات، مسلم تہذیب کی علمی خدمات اور عصرِ حاضر کے مسائل پر مستند تحقیق پیش کریں۔ جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبے، بین الاقوامی کانفرنسیں، علمی جرائد، ڈیجیٹل آرکائیوز اور مختلف زبانوں میں معیاری تحقیقی مواد کی تیاری اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان محققین کو اسلاموفوبیا، میڈیا بیانیے، بین المذاہب تعلقات اور مسلم دنیا کے مسائل پر جدید تحقیقی طریقۂ کار سے کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس طرح مسلم دنیا دفاعی ردِعمل کے بجائے علم اور دلیل کی بنیاد پر اپنا مؤثر علمی اور عالمی بیانیہ پیش کر سکتی ہے۔

 سوال: پاکستان اور ایران سمیت مسلم ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور یونیورسٹی سطح کے روابط وحدتِ اسلامی کے فروغ میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں؟ آپ کے نزدیک اس سلسلے میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور علمی تبادلوں کی کیا اہمیت ہے؟

ڈاکٹر شاہین عباس:پاکستان اور ایران سمیت مسلم ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور یونیورسٹی سطح کے روابط وحدتِ اسلامی کے فروغ کے لیے صرف ایک خوبصورت تصور نہیں، بلکہ ایک عملی ضرورت ہیں۔ میرے نزدیک اب ہمیں وحدتِ امت کے حوالے سے محض کانفرنسوں اور بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ایسے عملی ادارہ جاتی اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتیجے میں مختلف ممالک کے اساتذہ، محققین، طلبہ اور صنعتی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مستقل بنیادوں پر کام کریں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان اور ایران کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان مشترکہ فنڈنگ اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کا آغاز ہونا چاہیے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور دیگر تحقیقی و سائنسی ادارے مختلف ممالک اور اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے لیے فنڈنگ اور پروگرامز فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایران میں بھی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف فنڈنگ ایجنسیاں اور تحقیقی جامعات موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے باقاعدہ Pakistan-Iran Joint Research Funding Programme جیسے منصوبے شروع کریں، جن کے تحت دونوں ممالک کے اساتذہ اور محققین مشترکہ طور پر پروجیکٹس تیار کریں اور دونوں طرف سے ان کی فنڈنگ ہو۔

دوسرا اہم پہلو:جامعات اور صنعت کے درمیان تعاون ہے۔ جامعات کے اساتذہ اور محققین کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے شروع کرنے چاہییں جو دونوں ممالک کے حقیقی مسائل حل کریں۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت، ریاضیاتی ماڈلنگ، ڈیٹا سائنس، موسمیاتی تبدیلی، پانی، توانائی، زراعت، صحت اور صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ اس سے تحقیق صرف مقالے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ Research to Industry اور Research to Society کے تصور کے تحت عملی نتائج پیدا کرے گی۔

تیسرا اہم میدان: طلبہ اور اساتذہ کا تبادلہ ہے۔ آج پاکستانی طلبہ دنیا کے مختلف ممالک میں اسکالرشپس پر جا کر MS، MPhil اور PhD کر رہے ہیں، تحقیق کر رہے ہیں اور بعض جگہوں پر علمی و پیشہ ورانہ خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایران میں بھی مضبوط تحقیقی مراکز اور اعلیٰ معیار کی جامعات موجود ہیں۔ ہمیں ایران کے ساتھ بھی باقاعدہ Student Exchange، Faculty Exchange، Joint PhD Supervision، Visiting Professorships، Postdoctoral Fellowships اور مشترکہ MS/PhD پروگرامز شروع کرنے چاہییں۔ اس سے دونوں ممالک کے نوجوان محققین ایک دوسرے کی علمی صلاحیتوں اور تحقیقی تجربات سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔

بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان اور ایران کے درمیان اس علمی و تحقیقی تعاون پر اس سطح کی توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ خصوصاً ہمارے سینئر محققین اور PhD اسکالرز کے لیے ایران کے تحقیقی اداروں کے ساتھ زیادہ مضبوط روابط پیدا کیے جانے چاہییں۔ ایران نے مختلف شعبۂ ہائے سائنس اور ٹیکنالوجی میں قابلِ ذکر تحقیقی اور تکنیکی صلاحیت پیدا کی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی بھی ملک کی علمی ترقی کو سیاسی یا روایتی تصورات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے علمی میرٹ اور تحقیق کے معیار کی بنیاد پر اس سے سیکھنا چاہیے۔

میری تجویز یہ ہوگی کہ پاکستان اور ایران کے پالیسی ساز ادارے اس سلسلے میں ایک مستقل مشترکہ فریم ورک بنائیں، جس میں HEC، سائنسی و تحقیقی فنڈنگ ایجنسیاں، جامعات، ریسرچ سینٹرز اور صنعت کے نمائندے شامل ہوں۔ اس فریم ورک کے تحت ہر سال ترجیحی تحقیقی شعبوں کا تعین کیا جائے، مشترکہ فنڈنگ فراہم کی جائے، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور مشترکہ تحقیقی نتائج کو صنعت اور معاشرے تک منتقل کیا جائے۔

میرے نزدیک وحدتِ امت کا ایک مضبوط راستہ علم اور تحقیق بھی ہے۔ اگر پاکستان، ایران اور دیگر مسلم ممالک اپنے بہترین اساتذہ، سائنس دانوں، انجینئرز، محققین اور نوجوان اسکالرز کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم پر لے آئیں تو ہم نہ صرف ایک دوسرے کو سمجھ سکیں گے، بلکہ اپنی اجتماعی علمی و تکنیکی صلاحیت کو بھی مضبوط بنا سکیں گے۔

 یہ تعاون صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط نہیں کرے گا، بلکہ وسیع تر مسلم دنیا میں علمی وحدت، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی بنیاد بھی بنے گا۔

Read 2 times