نیشن میگزین: ایرانی ڈرون، کویت میں امریکیوں کے لئے ڈراونا خواب

Rate this item
(0 votes)
نیشن میگزین: ایرانی ڈرون، کویت میں امریکیوں کے لئے ڈراونا خواب

یرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے میں کویت کی ناکامی سے مغربی ماہرین بھی کچھ حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ان ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ کویت میں لگائے گئے دفاعی نظام اکثر اوقات ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نیشن میگزین نے اپنے ایک تجزیے میں تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ کویت جدید پیٹریاٹ سسٹمز سے لیس ہے اور چھ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے، پھر بھی وہ ایرانی حملوں کے مقابلے میں "کمزور"  ثابت ہوا ہے۔

اس میگزین نے ایرانی حملوں کے مقابلے میں  کویت کی بے بسی  کے جغرافیائی صورت حال ،  ایران  کی بدلتی حکمت عملی اور کویت میں محدود تعداد میں انٹرسیپٹرز  جیسے متعدد عوامل کا ذکر کیا ہے۔

نیشن کے مطابق، بدھ کے روز کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں میں مجموعی طور پر 30 میزائل اور شاہد-136  ڈرون طیارے  استعمال کئے گئے جن میں سے متعدد  میزائل اور ڈرون طیارے کویت میں لگائے گئے دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

امریکہ نے حالیہ دنوں میں کویت اور بحرین میں اپنے اڈوں سے ایران کے خلاف بار بار حملے کیے ہیں جس کے جواب میں ایرانی فوج نے بھی ان ڈروں پر میزائل اور ڈرون فائر کئے ہيں جس سے ان اڈوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

خبروں کے مطابق کویت میں واقع امریکی  فوجی اڈے "علی السالم"  کو شدید نقصان  پہنچا ہے۔

ایرانی ڈرون؛ خطے میں امریکیوں کی مصیبت

فوجی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ خطے میں موجود دفاعی نظام اکثر اوقات ایرانی ڈرون کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

 جینز ڈیفنس انٹیلیجنس کمپنی کے میزائل ماہر جیرمی بینی کا ماننا ہے کہ جہاں بہت سے ممالک میزائل سمیت  بڑے خطرات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، وہیں یہ ڈرون ہیں جو "مختلف قسم کے متعدد مسائل پیدا کر رہے ہیں۔"

اسلحے کے اس ماہر  نے کویت پر ایرانی ڈرون حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  "حملہ آور ڈرونوں کو مار گرانے کے لیے ضروری کم فاصلے کے فضائی دفاعی نظام میں ہمیشہ خامیاں رہیں گی۔"

اس کے علاوہ، ڈرون اکثر کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور غیر متوقع سمتوں سے آ سکتے ہیں، جس سے ان کا پتہ لگانا اور ان سے مقابلہ کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ایران کے خلاف  جنگ میں امریکی پیٹریاٹ ذخائر کی کمی

نیشن میگزین کے اعتراف کے مطابق، ایرانی حملوں، خاص طور پر ایرانی ڈرون حملوں سے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر ختم  ہو گئے ہیں۔

نیشن کے مطابق، ایران کے خلاف  جنگ کے دوران  ایک انداز ے کے مطابق  1200 پیٹریاٹ میزائل فائر کیے گئے ہیں جبکہ امریکی دفاعی صنعت ، سالانہ تقریبا 700  میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے وسائل کم ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ  مہنگے ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ PAC-3 انٹرسیپٹر کی لاگت اب 10 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ان حالات میں  کویت، تقریبا 13,500 امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود، ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

خلیج فارس کے ممالک امریکی جنگ طلبی کی قیمت ادا رہے ہیں جبکہ ان کا خیال تھا کہ امریکی اڈے ان کے لیے تحفظ کا باعث بنیں گے۔

Read 10 times