موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، 22 اگست اب تک 30 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز سے غیر مجاز گزرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی مسلح افواج نے ان کی آمدورفت روک دی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے آمدورفت اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے منظور شدہ راستے کے ذریعے، ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ و ہم آہنگی، مقررہ فیس کی ادائیگی اور محدود پیمانے پر جاری ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 میں جنگِ رمضان شروع ہونے سے قبل اس راستے سے ایک ہزار 500 سے زائد آئل ٹینکرز اور تقریباً ایک ہزار 700 تجارتی بحری جہاز گزر چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے سے متعلق کیے جانے والے دعوؤں کی بھی کسی مستند معلومات سے تصدیق نہیں ہوتی اور امریکی فریق نے اب تک اس حوالے سے کوئی دستاویز یا ثبوت پیش نہیں کیا۔
اسی طرح ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات کی مقدار کے بارے میں کیے جانے والے دعوے بھی کسی مستند دستاویز یا شواہد پر مبنی نہیں ہیں۔ بظاہر یہ دعوے امریکی فریق کی جانب سے میڈیا جنگ کے تحت عالمی منڈیوں، خصوصاً توانائی کے شعبے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا حصہ ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
