ایران کی مزاحمت نے امریکہ کی کمزوری آشکار کردی/انقرہ-تل ابیب جنگ کا امکان نہیں

Rate this item
(0 votes)
ایران کی مزاحمت نے امریکہ کی کمزوری آشکار کردی/انقرہ-تل ابیب جنگ کا امکان نہیں

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ادلب میں ابو ظہور ایئربیس پر اسرائیل کے حملے نے ایک بار پھر انقرہ اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کو بھڑکا دیا ہے۔ اسرائیل نے اس اقدام کو شام میں ترکیہ کی فوجی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے جواز پیش کیا ہے، جبکہ انقرہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان خفیہ رابطے کے چینلز موجود ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں اور دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایسا نہیں لگتا کہ ابو ظہور پر حملہ شام میں دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کا آخری واقعہ ہوگا، خصوصا ایسے وقت میں جب تل ابیب حالیہ عرصے میں ترکیہ کو اپنے لیے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ تل ابیب کی حکمت عملی میں ترکیہ کے ایک خطرے کے طور پر نمایاں ہونے سے دونوں فریقوں کے تعلقات کس سمت جائیں گے؟ کیا آنے والے عرصے میں شام میں کشیدگی میں اضافے اور ایک دوسرے کے خلاف زمینی اقدامات کا مشاہدہ ہوگا یا دونوں فریق امریکہ کی ثالثی سے کشیدگی کم کرنے اور عدم تصادم کے لیے کسی طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے؟

اسی تناظر میں مہر نیوز نے ترکیہ کی بحریہ کے ریٹائرڈ اسٹاف افسر اور پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین یاووز سے تفصیلی گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

مہر نیوز: ایران کے خلاف جنگ کے بعد اب ہم صہیونی حکام کی جانب سے ترکیہ کے خلاف دھمکیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی ترکیہ کو ایک وجودی خطرہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ طرز عمل ترکیہ کے ساتھ تصادم کی تیاری کی علامت ہے؟

جلال الدین یاووز: سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ آج ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونی حکومت خطے کے استحکام کو درہم برہم کر رہی ہے، سنگین ترین خطرات پیدا کر رہی ہے، نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ خطے کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور عالمی سطح پر بھی کسی حد یا اصول کو تسلیم نہیں کرتی۔ زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اسرائیل کی حماس کے ساتھ جنگ، پھر لبنان میں داخل ہونا، شام میں پیش قدمی، اس کے بعد ایران پر حملہ اور ان حملوں میں امریکہ کو اپنے ساتھ شامل کرنا، یہ سب خطے میں انتہائی اہم ہیں۔

اس کے مقابلے میں حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ امریکہ اب خطے کو منظم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ اس ملک کے مقام سے دور ہوچکا ہے جو ماضی میں سیاسی استحکام کو منظم یا حتی کہ اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دیتا تھا۔ یہ مسئلہ فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر پوری طرح نمایاں ہوچکا ہے۔ البتہ امریکہ کی اس کمزوری کو آشکار کرنے میں ایران کا اتحاد، یکجہتی اور دفاعی استقامت اہم اور نمایاں عوامل میں شامل تھے۔

اب آپ کے سوال کے جواب میں، میرے خیال میں اگر اسرائیل ترکیہ کو وجودی خطرہ قرار دیتا ہے تو ترکیہ اس کا پہلا وجودی خطرہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں طویل عرصے سے کہتا آیا ہوں، ایران ہی پہلا وجودی خطرہ تھا۔ خصوصا اس وقت سے جب ایران کے اس وقت کے صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، اسرائیل نے ایران کو وجودی خطرہ سمجھا ہے۔

ترکیہ کے بارے میں بھی آپ جانتے ہیں کہ موجودہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت نے ابتدا میں اسرائیل کے حوالے سے انتہائی مثبت رویہ اختیار کیا تھا۔ یہاں تک کہ ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز یعنی TOBB کے ذریعے غزہ میں ایک صنعتی شہر قائم کرنے کا منصوبہ تھا اور اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ لیکن 2008 کے اواخر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر زمین، فضا اور سمندر سے کیا جانے والا شدید اور غیر متناسب 22 روزہ حملہ ترکیہ میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔ یہ اس وقت ہوا جب اس حملے کے آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل اسرائیل کے اس وقت کے وزیراعظم نے انقرہ میں ترکیہ کے اس وقت کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی تھی۔

اس کے بعد 2009 کے اوائل میں ڈیووس میں اردوغان اور شیمون پیریز کے درمیان معروف "ون منٹ" واقعہ پیش آیا اور 31 مئی 2010 کو ماوی مرمرہ کشتی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک مکمل طور پر غیر فوجی قافلہ تھا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہا تھا اور اس میں ترکیہ سمیت مختلف ممالک کے کارکن موجود تھے۔ اسے غزہ کے ساحلی پانیوں سے 270 کلومیٹر کے فاصلے پر علی الصبح اسرائیلی کمانڈوز نے جارحانہ کارروائی کا نشانہ بنایا اور 9 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد اگرچہ ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات وقتا فوقتا بہتر ہوتے رہے، لیکن عملی طور پر دونوں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پڑ گئی اور کم از کم سیاسی تعلقات ہمیشہ کشیدہ اور بحرانی رہے۔

حالیہ عرصے میں بھی ترکیہ نے غزہ کے واقعات، لبنان پر حملوں، شام میں اسرائیل کے اقدامات اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ میزائل اور فضائی حملوں کے حوالے سے، جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے خلاف تھے، انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترکیہ نے عالمی سطح پر اسرائیل کو خطے کے استحکام کو درہم برہم کرنے والا بنیادی عنصر اور ناسور کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی شروع کی، جس میں اسے بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ اس تشہیری اور حقائق سامنے لانے کی مہم میں ترکیہ سب سے آگے ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ ترکیہ کو ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب فوجی تصادم کی تیاری ہے؟

اسرائیلی حکومت کا طرز عمل عموما غیر متوقع ہوتا ہے۔ امریکہ کی مدد سے ایران پر حملہ ممکن تھا، لیکن غزہ اور پھر لبنان میں بیک وقت جاری تنازع کے پیش نظر یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل ایسا قدم نہیں اٹھائے گا اور غالبا ایران میں بھی ایسا اندازہ نہیں تھا، لیکن ہم نے دیکھا کہ اس نے حملہ کردیا۔

تاہم ترکیہ کی صورتحال مختلف ہے۔ سب سے پہلے، ترکیہ جغرافیائی قربت اور قریبی سمندری حدود کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف فضائی اور بحری سطح پر مضبوط جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسرا، ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اپنے قریبی اتحادی اسرائیل اور نیٹو کے ایک اہم اتحادی ترکیہ کے درمیان تصادم ہو، کیونکہ ایسا منظرنامہ واشنگٹن کے حریفوں، خصوصا روس اور چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگا۔ خصوصا حالیہ برسوں میں یورپ کے یونان اور جنوبی قبرص کے جوڑے کی حمایت پر مبنی رویوں اور بائیڈن اور ٹرمپ کے ادوار میں انقرہ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے پیش نظر، مغربی ذرائع ابلاغ میں ترکیہ کے مغرب سے دور ہونے کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ ایسے میں ایک مضبوط فوج، متحرک معیشت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت رکھنے والے ترکیہ کو مشرقی بلاک کی طرف دھکیلنا امریکہ اور یورپ کے لیے کسی بھی صورت مطلوب نہیں ہوگا۔

لہذا اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی ناممکن ہے۔ اگر وہ ایسی حماقت کرتا بھی ہے تو ترکیہ کی جانب سے اسے ملنے والا جواب اس طمانچے سے کہیں زیادہ بھاری ہوگا جو اسے ایران سے ملا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ لہذا اگر اسرائیل جوہری دھمکی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی جوہری طاقت ترکیہ کے لیے ایک دفاعی چھتری کے طور پر کام کرسکتی ہے۔

مہر نیوز: اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کی سرحدوں کے قریب شام کی سرزمین میں حالیہ حملے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس حملے کا پیغام کیا ہے اور کیا آپ ترکیہ کی جانب سے فوجی یا سفارتی ردعمل کی توقع رکھتے ہیں؟

جلال الدین یاووز: یہ حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اس وقت شام میں ایک حکومت برسر اقتدار ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضے اور غزہ کے بعد کی کارروائیوں کے علاوہ، اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گولان سے آگے بھی پیش قدمی کی ہے اور مقبوضہ علاقے کو دمشق سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے تک بڑھا دیا ہے۔

ترکیہ نے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح اس قبضے کی شدید مذمت کی، اسرائیل سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا اور اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ میں موثر موقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترکیہ کی سرحد سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فضائی اڈے پر حالیہ حملہ بھی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر یہ اڈہ اسرائیل کی اپنی سرحدوں کے قریب ہوتا تو یہ جواز پیش کیا جاسکتا تھا کہ کسی خطرے کو روکنے کے لیے اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ اڈہ شمالی شام میں ترکیہ کی سرحد سے متصل واقع ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، سعودی عرب، مصر اور متعدد ممالک نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

تاہم اس وقت ترکیہ کا ردعمل سفارتی اور سیاسی سطح تک محدود رہے گا، کیونکہ ترکیہ کی سرزمین یا شام میں اس کے اڈوں اور فوجیوں پر براہ راست حملہ نہیں ہوا اور انقرہ کی جانب سے فوجی جوابی کارروائی کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ واضح ہے کہ اسرائیل اور خصوصا نیتن یاہو اس حملے کے ذریعے ترکیہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ترکیہ کا جواب یقینا شام میں اسرائیل کے قریب کسی اڈے کو نشانہ بنانا نہیں ہوگا، کیونکہ شام کی حکومت انقرہ کی اتحادی ہے اور ترکیہ احمد الشرع کی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔ لہذا ترکیہ سفارتی ذرائع اور اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور یورپی یونین کے ذریعے ان اقدامات کو غیر قانونی اور ناجائز ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔

تاہم نیٹو کی رکنیت اور اس کے آرٹیکل 5 کے طریقہ کار کے باوجود ترکیہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیٹو اپنی سابقہ کارکردگی اور اثر و رسوخ کھو چکا ہے اور اس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا تصور بھی اسی تناظر میں تشکیل پایا ہے۔

ایسے حالات میں جب امریکہ میں ٹرمپ جیسے صدور موجود ہوں جو یورپ کے خلاف مختلف موقف اختیار کرتے ہیں، ڈنمارک سے گرین لینڈ کا مطالبہ کرتے ہیں یا کینیڈا کے الحاق کی بات کرتے ہیں، نیٹو کے آرٹیکل 5 پر زیادہ انحصار حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین کے دروازے پر کئی دہائیوں تک انتظار کے بعد ترکیہ نے سکیورٹی کے نئے راستے تلاش کیے اور جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان اور عرب دنیا میں دولت مند اور بااثر سعودی عرب کے ساتھ مکہ معاہدہ کیا، جس کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے دروازے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں۔ لہذا اگرچہ اس وقت اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ترکیہ ممکنہ خطرات کو سمجھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت، خصوصا کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام جسے آئرن ڈوم کہا جاتا ہے، کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں اسلسان کمپنی کو تقریباً 800 ملین ڈالر مالیت کے نئے میزائلوں کا آرڈر دیا گیا ہے اور ملک کی فوجی جہاز سازی کی صنعت بھی بیک وقت 7 سے 8 جدید جنگی بحری جہاز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مہر نیوز: روزنامہ حریت نے ایک تجزیے میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو ایک محدود تصادم میں گھسیٹ کر امریکی کانگریس میں ایف 35 جنگی طیاروں کی ترکیہ کو حوالگی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا یہ تجزیہ حد سے زیادہ پرامید یا سادہ لوحی پر مبنی نہیں ہے؟

جلال الدین یاووز: امریکی کانگریس نے ابھی تک ترکیہ کو ایف 35 طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی، یہودی اور یونانی لابیاں اس معاملے کی شدید مخالفت کر رہی ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں امریکی حکومت اس سلسلے میں کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔

اگرچہ ٹرمپ نے اس حوالے سے کچھ بیانات دیے ہیں، لیکن ان کے مؤقف میں تبدیلی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ترکیہ کے ایف 16 طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے درکار انجن اور دیگر سازوسامان، جن کی درخواست بائیڈن کے دور میں تقریباً 2022 میں کی گئی تھی، ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے۔

اس کے باوجود یہ تجزیہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔ اگر واشنگٹن کی جانب سے ایف 35 طیارے فروخت کرنے کے ارادے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو ترکیہ کسی تصادم میں شامل ہونے کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ تاہم اگر کانگریس میں موجود لابیاں یہ بیانیہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئیں کہ انقرہ اسرائیل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے تو بلا شبہ وہ ایف 35 کے معاملے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔

مہر نیوز: ترکیہ ایک طرف مشرقی بحیرہ روم میں اہم اقدامات کر رہا ہے، جن میں لیبیا میں خلیفہ حفتر جیسی شخصیات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اور بات چیت شامل ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کو اس خطے میں یونان اور جنوبی قبرص کی حمایت حاصل ہے۔ کیا مشرقی بحیرہ روم شدید مسابقت کا میدان بن چکا ہے؟

جلال الدین یاووز: مشرقی بحیرہ روم مسابقت کا میدان بننے کے مرحلے میں نہیں ہے، بلکہ کم از کم 2007 سے، یعنی گزشتہ 19 برس سے، یہ انتہائی شدید اور سخت مسابقت کا میدان بن چکا ہے۔ یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب قبرص کے یونانی حصے نے شمالی قبرص کے ترک باشندوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے تیل اور گیس کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کرنا شروع کیے۔ ترکیہ نے ان اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کیا، اپنے براعظمی شیلف اور سمندری حدود کا تعین کیا اور بحری بیڑا روانہ کرکے ضروری اقدامات کیے۔

ان برسوں میں، خصوصا مصر اور عرب ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں کشیدگی کے دور میں، اسرائیل، یونان اور جنوبی قبرص پر مشتمل ایک بلاک تشکیل پایا، جس میں مصر بھی عارضی طور پر شامل ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے لیبیا میں حفتر کی افواج کی حمایت کے ذریعے ان معاملات میں قدم رکھا۔

یونان اور جنوبی قبرص یورپی یونین کے ذریعے سویل نقشے کے نام سے معروف ایک غیر رسمی نقشے کو سمندری سرحدوں کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ترکیہ نے 2019 میں لیبیا کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کرکے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اگرچہ یونان نے بعد میں مصر کے ساتھ الگ معاہدہ کرلیا۔

آج اسرائیل کے علاوہ بڑی امریکی، فرانسیسی اور اطالوی تیل کمپنیاں بھی مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی منتقلی اور بجلی کی لائنوں کے منصوبوں میں مفاد رکھتی ہیں۔ اس دوران ترکیہ نے لیبیا میں موجود دونوں طاقت کے مراکز، یعنی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت اور حفتر کے دھڑے، دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا ہے اور ترکیہ کی کمپنیاں اور جاسوسی و جنگی ڈرونز لیبیا میں فعال موجودگی رکھتے ہیں۔

اس میدان میں ترکیہ کی اہم حکمت عملی یہ ہے کہ مصر کو مکمل طور پر مشرقی بحیرہ روم میں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔ اگرچہ یورپی ممالک اپنے بیانات میں ایتھنز اور نکوسیا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ترکیہ کی بحری اور سیاسی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انقرہ نے عملی میدان میں متعدد بار اس بات کو ثابت بھی کیا ہے۔ اسی تناظر میں صدر اردوغان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں پانچویں مرتبہ بھی یہ مطالبہ دہرائیں گے۔

یہاں میں اپنے ایرانی بھائیوں اور معزز ایرانی حکومت کے نام ایک براہ راست پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مناسب ہوگا کہ اسلامی جمہوری ایران بھی شمالی قبرص کی آزادی کو تسلیم کرے۔ ترکیہ نے ہمیشہ منصفانہ معاملات میں ایران کی حمایت کی ہے۔ قبرص میں بھی 1974 کی امن کارروائی کے بعد، یعنی گزشتہ 52 برس کے دوران، دونوں برادریوں کے درمیان کوئی فوجی تصادم نہیں ہوا، جبکہ اس سے قبل ترک باشندوں کے خلاف حملے، نسل کشی کی کوششیں اور انہیں اپنی شناخت سے محروم کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ قائم کی گئی حد بندی نے امن و سکون پیدا کیا ہے اور شمالی قبرص کو تسلیم کرنے کی وجوہات 2008 میں کوسوو جیسے معاملات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

مہر نیوز: کیا ترکیہ کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط کرنے کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیل کے خطرات کو بے اثر کرنا تھا؟

جلال الدین یاووز: جی ہاں، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، نیٹو کی کارکردگی میں کمی، انقرہ کا یورپی یونین اور امریکہ پر اعتماد کھو دینا، اور دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کے بحران میں شدت بھی ترکیہ کی جانب سے نئے دفاعی اتحاد کی طرف بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

Read 100 times