جنگی حالات میں ایران کی معیشت کیسے قائم رہی؟ الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ

Rate this item
(0 votes)
جنگی حالات میں ایران کی معیشت کیسے قائم رہی؟ الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ

 الجزیرہ نے ایک تفصیلی مضمون میں جنگی حالات کے دوران ایران کی معیشت کی مضبوطی کے 8 اہم عوامل کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ ان ذرائع کی بدولت ایران موجودہ صورتحال میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی بندرگاہوں، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان پر عائد بحری پابندیاں ایران کی معیشت کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ایران کس حد تک امریکی دباؤ کو قابو میں رکھتا ہے اور اسے اندرون ملک منتقل ہونے سے روکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی معاشی مضبوطی 8 بنیادی ستونوں پر قائم ہے، جن میں تیل کی مقامی پیداوار، ریفائنری اور ایندھن کے مراکز، غذائی تحفظ، پیٹروکیمیکل صنعت، ہمسایہ ممالک سے غیر بحری تجارت، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں، مشرقی زمینی و ریلوے راستے اور ہنگامی معاشی اقدامات شامل ہیں۔

پہلا عنصر تیل کے شعبے میں مقامی پیداوار کا فروغ ہے۔ ایرانی وزارت تیل کے مطابق اس صنعت میں درکار 80 فیصد سے زائد آلات ملک کے اندر ہی تیار کیے جاتے ہیں، جس سے بیرونی پابندیوں کا اثر کم ہوتا ہے۔

دوسرا اہم عنصر تیل کی ریفائننگ اور مقامی ایندھن کی فراہمی کا تسلسل ہے۔ جون 2025 تک ایران کی ریفائننگ صلاحیت 24 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی تھی اور تمام ریفائنریز مکمل استعداد سے کام کر رہی تھیں، جبکہ ایندھن کی ترسیل بھی بغیر رکاوٹ جاری رہی۔

تیسرا عنصر غذائی تحفظ ہے، خاص طور پر گندم میں خود کفالت ہونا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 50 لاکھ ٹن سے زائد بنیادی اشیاء ذخیرہ تھیں اور کئی ہفتوں بعد بھی ہنگامی ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

چوتھا عنصر پیٹروکیمیکل شعبہ ہے، جو غیر تیل برآمدات کا 25 فیصد اور صنعتی پیداوار کا 19 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ شعبہ ملک کی تقریباً نصف غیر ملکی آمدن کا ذریعہ رہا ہے۔

پانچواں عنصر ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر بحری تجارت ہے۔ ایران کی 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت 2023 میں 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چھٹا عنصر شمالی ایران میں بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں اور شمال-جنوب راہداری ہے، جو جنوبی بندرگاہوں پر دباؤ کے باوجود متبادل راستے فراہم کرتی ہیں۔

ساتواں عنصر مشرقی زمینی اور ریلوے راستے ہیں، جہاں افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مال برداری میں اضافہ ہوا ہے، جو بحری پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

آٹھواں عنصر ہنگامی معاشی اقدامات ہیں، جن میں 65 نکاتی پیکج شامل ہے، جس کا مقصد تجارت اور پیداوار کو آسان بنانا ہے، جیسے بنیادی اشیاء کی درآمد کو ترجیح دینا اور صنعتی مشینری کی اجازت دینا۔

رپورٹ میں ماہر اقتصادیات پیمان مولوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران نے برسوں کی پابندیوں کے دوران اپنی معیشت کو اس انداز میں ڈھال لیا ہے کہ کم از کم پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر خوراک کے شعبے میں۔

ایک اور ماہر آیزاک سعیدیان کے مطابق ایران کے پاس 6 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل زمینی سرحدیں ہیں، جو تجارت اور برآمدات کے لیے اہم راستے فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے کی پابندیوں نے ایران کو غیر رسمی تجارتی طریقے اپنانے پر مجبور کیا، جو اگرچہ مہنگے اور خطرناک ہیں، لیکن مختصر مدت میں برآمدات، خصوصاً تیل کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیرونی انحصار میں کمی کی پالیسی نے بھی ایران کو بعض بنیادی اشیاء کی درآمد کم کرنے میں مدد دی ہے۔

Read 15 times