آبنائے ہرمز میں آبدوز کا شکار

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز میں آبدوز کا شکار


منگل کی شام سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکی اسمارٹ ڈرون آبدوز پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا اور رات کو ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی جارحیت اور تہران کے جوابی میزائلی اور بحری حملوں تک بات جا پہنچی۔ آبنائے ہرمز میں جنگی جہازوں اور وسائل کی آمد و رفت پر پابندی کی امریکی خلاف ورزی کا جواب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس ڈرون آبدوز پر قبضہ کرکے دیا، جسے امریکی فوج نے سن 2025ء میں پہلی بار لانچ کیا تھا۔ سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلان کے مطابق یہ انتہائی کامیاب کارروائی، بہت ہی پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے انجام پائی۔ اس خبر کے اعلان کے بعد امریکی حکام نے، جو بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے، انہوں نے ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

جس کے فوراً بعد ایران کے چیف آف اسٹاف کی جانب سے ایسی کسی کارروائی کی صورت میں انتہائی سخت اور غیرمتوازن جوابی حملے کا انتباہ جاری ہوا اور اس جوابی کارروائی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب نے تیز رفتاری کے ساتھ ایک انتہائی وسیع، شدید، تابڑ توڑ اور حیران کن جوابی حملہ کیا، جس میں ایران کے سالڈ فیول Solid Fuel بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے امریکی جیٹ فائٹروں کے ہینگروں اور مرمت کے مراکز کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ سپا پاسداران انقلاب نے "یا حیدر کرار" کے سلوگن کے ساتھ امریکی جنگی بحری جہازوں کو بھی بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا اور خلیج فارس میں 8 تیل بردار جہازوں کو ناکارہ بنا دیا۔

ایران کے ان انتہائی شدید حملوں میں دشمنوں کو کم سے کم دو پیغام ملے ہیں۔ پہلا پیغام یہ تھا کہ ایران کی آپریشنل صلاحیت اور انٹیلی جنس کے مقابلے میں امریکی فوج کے انتہائی ترقی یافتہ ہتھیار اور وسائل کی افادیت پر سوالیہ نشان اٹھ چکا ہے اور دوسرا پیغام یہ تھا کہ خطے میں امریکی بیڑے اور جنگی فلیٹ کی وسیع موجودگی بھی انہیں فوری اور دقیق جوابی کارروائی کے سامنے محفوظ نہیں بنا سکتی۔ اس بارے میں سیاسی امور کے ماہر محمد حسن زورق نے کہا ہے کہ ایران کی طاقت کو مغرب کے کلاسیکی طاقت کے پیمانے میں نہیں تولا جاسکتا، کیونکہ ایران نے اسٹریٹیجک طاقت یا دوسرے الفاظ میں "استقامت کی طاقت" کے راستے کو اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ استقامت نے کمترین وسائل کے باوجود شدید ترین دباؤ کا مقابلہ کرنے بلکہ دشمنوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی طاقت سے ایران کو لیس کر دیا ہے اور یہ وہی عنصر ہے، جس سے امریکہ اور مغربی دنیا حیرت زدہ اور پریشان ہوگئی ہے۔ ایران اپنے آپ کو ایسی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو حملہ ہونے کے بعد صرف دفاع نہیں کرتی بلکہ فوری، متناسب سے بڑھ کر اور دشمن کے حساس مقامات کو نشانہ بنانے والی جوابی کارروائی کرسکتی ہے۔ یہ تصور ایران کی روایتی فوجی طاقت کے مقابلے میں ایک مختلف ماڈل پیش کرتا ہے: Deterrence through retaliation۔۔۔ یعنی دشمن کو اس خوف سے حملہ کرنے سے روکنا کہ جواب کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

ایران کی حکمتِ عملی میں طاقت کو صرف جنگی طیاروں، جدید بحری جہازوں یا دفاعی بجٹ سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اس میں درج ذیل عناصرشامل ہیں:
* طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت
* پابندیوں کے باوجود دفاعی پیداوار جاری رکھنا
* میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی
* غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی
* انٹیلی جنس اور نیٹ ورک صلاحیت
* آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی مقامات سے فائدہ اٹھانا
* سیاسی اور سماجی مزاحمت کو جنگی طاقت میں تبدیل کرنا

اس اعتبار سے "استقامت" دراصل کم وسائل کے ساتھ زیادہ دیر تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ امریکہ کے پاس جدید ترین ہتھیار ضرور ہیں، لیکن جدید ہتھیار بذاتِ خود جنگ میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں۔ جغرافیہ، انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر، میزائلوں کی تعداد، منتشر فوجی تنصیبات اور دشمن کے کمزور مقامات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ اسٹریٹیجک دباؤ کا ذریعہ بھی ہے۔

Read 20 times