رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ولایت کا مطلب یہ ہے کہ انسان فکر و عمل میں علی (ع) کا پیرو ہو اور ان کے ساتھ ایک مضبوط اور دائمی تعلق رکھے۔ حدیثِ قدسی "وَلَایَةُ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ حِصْنِی" کے مطابق، جو اس حصار میں داخل ہو جائے وہ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین (ع) نے نہج البلاغہ میں قرآن کو ایسا نصیحت کرنے والا اور راہنما قرار دیا ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ لہٰذا جو شخص قرآن کو ناقابلِ فہم سمجھتا ہے یا خدا کی راہ میں اپنے مال، جان، آرام یا قدرت سے ذرا برابر بھی گذرنے کو تیار نہیں، وہ ہرگز ولائے علی (ع) کا حقیقی حامل نہیں ہو سکتا۔
خلاصہ یہ کہ ولایت علی (ع) کا تقاضا ہے کہ انسان فکری اور عملی دونوں پہلوؤں سے امام علی (ع) سے جُڑا ہوا ہو، اسی صورت میں وہ خدا کے حصار میں داخل ہو کر عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
ماخذ: کتاب "طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن"، فصل ولایت، جلسہ 24، ص 431



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
