مغربی ایشیا خطے پر امریکی لشکرکشی کے بارے میں عالمی ذرائع اخبار، خاص طور پر مغربی میڈیا پر ایک بڑا ہنگامہ سا برپا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا ایک تہائی حصہ مغربی ایشیا خطے کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ ایران پر فوجی حملے کی مبالغہ آرائی پر مبنی اس پروپیگنڈے کے ذریعے خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غاصب صیہونی رژیم کے ذرائع ابلاغ ایران کے خلاف جنگ کی تصویر پیش کرنے میں سب سے آگے ہیں اور ایسے وقت جب تمام عالمی ذرائع ابلاغ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کی بات کر رہے ہیں تو صیہونی حلقوں نے ٹرمپ سے مایوسی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا خطے پر لشکرکشی کے ابتدائی لمحات سے ہی روزانہ کی بنیاد پر اپنی بیان بازی اور سوشل میڈیا پر پیغامات کے ذریعے ایران کی معاشی اور سماجی فضا میں نفسیاتی جنگ اور اضطراب کی شدت بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ لیکن بہت جلد یہ حقیقت کھل کر دامنے آ گئی کہ ایران کی قومی، عوامی اور فوجی ڈیٹرنس نے ٹرمپ کے فوجی اندازوں کو متاثر کیا ہے اور وہ جان گیا ہے کہ وسیع یا محدود پیمانے پر جنگ کی تصویر کشی کا کھیل بے سود ہے اور ایران اپنے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا جواب وسیع پیمانے پر علاقائی جنگ کی صورت میں دے گا۔ یہ منظرنامہ امریکہ کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں شکست کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے خود امریکہ کے اندرونی حلقوں میں بھی ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ایشیا خطے پر لشکرکشی کچھ خاص اہداف و مقاصد کے تحت انجام پائی ہے۔ ان میں سے اہم ترین مقصد ایک رعب آور اور خوف و ہراس پر مبنی فضا قائم کرنا ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں اگرچہ اس وقت جوہری پروگرام ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک بہت اچھا بہانہ ہے لیکن ایران کی میزائل طاقت اور علاقائی اثرورسوخ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کے لیے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے شروع سے ہی اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں تمام ایشوز کو شامل کیا جائے۔ اب تک سامنے آنے والے حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ایران کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے کیونکہ یہ ایران تھا جس نے امریکہ سے مذاکرات کا ایجنڈہ طے کیا اور مذاکرات کی جگہ کا بھی تعین کیا۔
مذاکرات کے دو مراحل منعقد ہونے کے بعد تیسرا مرحلہ جنیوا میں منعقد ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ ان تمام واقعات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ جنگ کی بجائے معاہدہ انجام دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ البتہ اختلاف رائے اور سودے بازی، ہر مذاکرات اور معاہدے کا فطری اور لازمی حصہ ہوتا ہے۔ دراصل سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ پیش آتا ہے کہ "کیا اتنے وسیع پیمانے پر امریکہ کی لشکرکشی محض ایران کو جوہری مذاکرات میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے انجام پائی ہے؟" خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صہیونی ذرائع ابلاغ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے امریکہ دورے کے بعد ٹرمپ کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ محض جوہری تنازعہ پر نہیں بلکہ ایران میں رجیم چینج آپریشن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
اتفاق سے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا تھا کہ تمام مسائل ایک ہی مذاکرات میں حل نہیں ہو سکتے لہذا ایران اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ جوہری تنازعے سے شروع کریں اور اس کے بعد دوسرے ایشوز پر بھی بات کریں۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنے اہداف "ایک بھی گولی چلائے بغیر" اور صرف "لشکرکشی اور جنگ کے سائے" کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹرمپ کو فتح کی ایک تصویر پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کی مدد سے ملکی اور عالمی سطح پر اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کر سکے۔ ٹرمپ اس حکمت عملی کے تحت اور پہلے ہی ہاری ہوئی جنگ سے بچنے کے لیے لشکرکشی کا کارڈ استعمال کرنا جاری رکھے گا اور ایران سے نت نئے مطالبات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج جس چیز نے امریکہ اور صیہونی رژیم کو ایران کی ڈیٹرنس طاقت قبول کرنے کی تلخی برداشت کرنے پر مجبور کیا ہے اور وہ کم ترین فوجی اہداف کی حامل محدود فوجی کاروائی کی کامیابی سے بھی مایوس ہو چکے ہیں، وہ ایران کی فوجی اور میزائل طاقت اور اس کا علاقائی اثرورسوخ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ جنگ کے سائے اور لشکرکشی کی چھڑی سے ایرانی معیشت اور رائے عامہ کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کرتا رہے گا تاکہ ایران کو مذاکرات میں میزائل پروگرام، فوجی طاقت اور علاقائی اثرورسوخ جیسے ایشوز بھی شامل کرنے پر مجبور کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں، جس طرح اس نے ایران کے خلاف پابندیوں کو ایک مستقل ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے، اسی طرح وہ جنگ کے سائے میں لشکرکشی کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کرے گا
تحریر: ہادی محمدی



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
