روسی ویب سائٹ رشیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں ایران کے اُن طاقت کے عوامل یا ’’ٹرمپ کارڈز‘‘ کا جائزہ لیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی جانے والی جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں روسی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کے ماہر ولادیمیر پروخوواتیلوف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے وہ آسان یا برق رفتار فوجی کارروائی ثابت نہیں ہوگی۔
روسی عسکری اور اسٹریٹیجک ماہر کے مطابق اس تصادم میں کئی ایسے عوامل موجود ہیں جو اسے امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور مہنگی مہم جوئی بناسکتے ہیں۔ پروخوواتیلوف کا کہنا ہے کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ یا اس کے اسٹریٹیجک اہداف کے مکمل حصول کا امکان بہت کم ہے اور تہران کسی شکست یا داخلی انہدام سے بہت دور ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی قومی انٹیلی جنس کی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس مشرق وسطی کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے بعض میزائلوں کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک پہنچتی ہے۔
اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے اس وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے میں کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں میں سجیل (2000کلومیٹر)، عماد (۱۷۰۰ کلومیٹر)، قدر (۲۰۰۰ کلومیٹر)، شهاب ۳ (۱۳۰۰ کلومیٹر)، خرمشهر (۲۰۰۰ کلومیٹر) اور ہویزه (۱۳۵۰ کلومیٹر) شامل ہیں۔
پروخوواتیلوف نے ایران کے ایک اہم دفاعی عنصر کے طور پر ہائپرسونک میزائل ’’خرمشهر-۴‘‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ میزائل غیر معمولی رفتار کے ساتھ تقریباً ۲۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ صرف ۱۲ منٹ میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ کے لیے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
روسی ماہر کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر طویل مدت تک بمباری جاری رکھنا بھی آسان نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں فضائی دفاعی میزائلوں اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اہم دفاعی میزائلوں کے محدود ذخائر موجود ہیں اور یہی عنصر کسی بھی ممکنہ حملے کے حجم اور مدت کا تعین کر سکتا ہے۔ اس تشویش کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ گذشتہ سال ۱۲ روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی میزائلوں کا غیر معمولی استعمال کیا۔
پروخوواتیلوف کے مطابق اس ۱۲ روزہ جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے تھاد (THAAD) نظام کے تقریباً ۱۵۰ میزائل استعمال کیے۔ اس بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث اس نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، حالانکہ اس نظام کے لیے ۲۰۱۰ کے بعد سے مجموعی طور پر ۶۵۰ سے بھی کم میزائل فراہم کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں امریکہ نے اپنے مہنگے میزائل ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا۔
فنانشل ٹائمز نے ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی گائیڈڈ میزائلوں سے لیس جنگی بحری جہازوں کو دوبارہ اسلحہ بھرنے کے لیے بندرگاہوں پر واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ تکنیکی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر سمندر میں انہیں دوبارہ لوڈ کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال کے باعث امریکی بحریہ کی مسلسل اور بلا تعطل فوجی کارروائی کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔
روسی ماہر نے مزید کہا کہ جنگی طیارے اگرچہ مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں اور عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرسکتے ہیں، لیکن وہ کسی ملک کی داخلی سیاست کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے اسٹیمسن سینٹر کی ممتاز تجزیہ کار کیلی گریکو کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے تجربات اور مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بمباری لازمی طور پر عوامی بغاوت کو جنم نہیں دیتی، بلکہ اکثر ایسے حالات میں بیرونی حملے کے خلاف عوام حکومت کے ساتھ زیادہ متحد ہوجاتے ہیں۔
آخر میں پروخوواتیلوف نے پیش گوئی کی کہ اگر امریکہ اس طرح کی عسکری مہم جوئی میں ناکام ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو داخلی سیاست میں شدید انتخابی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور وہ خود کو ایک امن پسند رہنما کے طور پر پیش کرنے میں بھی ناکام رہیں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
