ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس دن تک شدید جنگ کے بعد ٹرمپ تہران کے ساتھ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر مجبور ہوا۔ یہ جنگ بندی کسی حسن نیت کا نتیجہ نہیں بلکہ 40 روزہ عسکری اور اقتصادی ناکامی کے بعد مغربی اور صہیونی اتحادیوں کو درپیش بحران کا عملی مظہر تھا۔
پاکستان کی فعال ثالثی اور اسلام آباد میں ایک طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد یہ جنگ بندی طے پائی۔ تاہم، سات دن گزرنے کے بعد اس جنگ بندی کی کمزوری اور غیر یقینی صورتحال نمایاں ہوگئی ہے: امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں کے سمندری محاصرے کا اعلان کیا، اسلام آباد میں مذاکرات 21 گھنٹے کے بعد بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے اور پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنا ایران کے خلاف اپنے فوجی اور اقتصادی مقاصد میں ناکامی اور محدود صلاحیت کا واضح اعتراف تھا۔
ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی
چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران نے وعدہ صادق4 آپریشن کے تحت جدید حکمت عملی کے ساتھ میزائل اور ڈرون حملے کئے۔ بیک وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خرمشہر، فتاح، خیبرشکن، حاج قاسم، سجیل، کروز میزائل اور ہزاروں خودکش ڈرونز شاہد-136، مهاجر-6 اور آرش فائر کیے گئے۔
ان میزائلوں اور ہزاروں ڈرون طیاروں سے اسرائیل، امریکی اڈوں اور امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے اہم اقتصادی مراکز، تیل کی تنصیبات، نواٹیم اور رامون کے ہوائی اڈے، امریکی کمانڈ مراکز اور بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہازوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا مقابلہ کرنے میں دشمن کے جدید دفاعی نظام آئرن ڈوم، ایرو، پیٹریاٹ اور ٹی اے ڈی جیسے کافی حد تک ناکام رہے، جس سے مغرب کی ناقابل شکست ٹیکنالوجی برتری کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ کے روزانہ دفاعی اخراجات کو اربوں ڈالر تک پہنچ گئے۔
اقتصادی بحران اور عالمی دباؤ
چالیس روزہ جنگ صرف فوجی تصادم تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک مکمل اقتصادی جنگ بھی تھی۔ عالمی بینک اور CSIS کی رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران اسرائیل کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، جی ڈی پی میں واضح کمی آئی، جبکہ امریکہ کے براہ راست فوجی اخراجات بھی اربوں ڈالر تک جا پہنچے۔ اسی دوران ایران کی جانب سے ہرمز کے اہم آبی راستے کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو بھی متاثر کیا۔
اگر جنگ جاری رہتی تو تل ابیب کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اور امریکہ کو خطے میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے انخلا پر مجبور ہونا پڑتا۔ یہی خطرات جنگ بندی پر آمادگی کی ایک بڑی وجہ بنے۔
پاکستان کا مرکزی کردار؛ ایک غیرجانبدار اور مؤثر ثالث
اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک حیثیت کی وجہ سے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور اس کی دفاعی صلاحیت نے اسے ایک قابل اعتماد ثالث بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دو مرحلوں پر مشتمل مذاکراتی فریم ورک کے ساتھ جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جی ڈی ونس، امریکی خصوصی نمائندہ، اور ایرانی اعلی حکام بشمول محمدباقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔ تاہم یہ مذاکرات 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔
جنگ بندی کا آٹھواں دن؛ کشیدگی برقرار، خلاف ورزیاں جاری اور دوسرے مرحلے کی تیاری
جنگ بندی کے نفاذ کے آٹھ دن بعد صورتحال اب بھی غیر یقینی اور نازک دکھائی دے رہی ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل خلاف ورزیاں کررہے ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ امریکہ نے ایران کے بندرگاہی راستوں اور ہرمز آبنائے پر سمندری محاصرے کی پالیسی اختیار کی ہے، جس سے صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان حملوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آئندہ دنوں میں دوبارہ مذاکرات کے امکان کو تسلیم کیا ہے۔
ماہرین اس جنگ بندی کو ایک عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں، جس میں ایک طرف خطے میں نئی ڈیٹرنس کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چالیس روزہ جنگ کے بعد نافذ ہونے والی یہ جنگ بندی دراصل کسی مستقل سیاسی حل کا آغاز نہیں بلکہ فریقین کی تھکن اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے اس عمل میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے خود کو خطے میں ایک مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں خطے کی سیکیورٹی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکی فوجی اڈے جیسے اہم امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اصل تنازع ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں مستقبل کی سمت کا انحصار آئندہ مذاکرات اور زمینی حقائق پر ہوگا۔
مہر خبررساں ایجنسی دفاعی ڈیسک،




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
