مکہ معاہدہ اور سعودی عرب کے چار مقاصد

Rate this item
(0 votes)
مکہ معاہدہ اور سعودی عرب کے چار مقاصد
ریاض اور محمد بن سلمان کی جانب سے اس سہ فریقی سکیورٹی معاہدے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد واشنگٹن کو ایک معنی خیز پیغام دینا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ، وہ شہر جسے دنیا بھر کے مسلمان اپنا قبلہ سمجھتے ہیں، نے مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں کے اہم ترین سکیورٹی معاہدوں میں سے ایک پر دستخط ہوتے دیکھے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
 
یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب خطہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کے باعث ایک غیر معمولی صورتِ حال سے گزر رہا ہے، علاقائی حالات پہلے جیسے نہیں رہے، جبکہ خلیج فارس کے ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کے باعث بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی شاہی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی یمن کی مسلح افواج نے نشانہ بنایا ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاض کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کے پسِ پردہ کیا مقاصد کارفرما ہیں؟
 
مکہ سکیورٹی معاہدہ، یمن، سعودی عرب، ترکی، پاکستان، یمن کی انصار اللہ تحریک، مغربی ایشیا: 
تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد ’’ہر قسم کی جارحانہ کارروائی کے مقابلے میں اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا‘‘ اور ’’دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینا‘‘ ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس معاہدے کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ مکہ معاہدہ فی الحال نیٹو کی طرح مشترکہ کمانڈ، مشترکہ بجٹ اور عملی نفاذ کے مؤثر نظام سے محروم ہے اور اسے مکمل فوجی اتحاد کے بجائے زیادہ تر ایک ’’سیاسی اور تزویراتی عہد‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
 
اسی سلسلے میں خلیج فارس ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز صقر نے اس معاہدے کو ’’علاقائی اور درمیانے درجے کی طاقتوں کی جانب سے سکیورٹی معاملات میں زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کی بڑھتی ہوئی خواہش‘‘ کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر اسے ادارہ جاتی شکل دے دی جائے تو یہ ’’علاقائی محور پر مبنی ایک نئے سکیورٹی نظام‘‘ کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
 
مکہ معاہدے سے سعودی عرب کے مقاصد؛ دفاعی معاہدے سے کہیں آگے:
ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کم از کم چار تزویراتی مقاصد اس معاہدے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے:
پہلا مقصد: امریکہ پر انحصار کم کرنا اور سکیورٹی ضمانتوں کو متنوع بنانا ہے۔ خطے میں جاری جنگ نے ریاض کے اندر واشنگٹن کی جانب سے اپنے روایتی اتحادیوں کی سلامتی کی ضمانت دینے کے عزم کے بارے میں سنجیدہ شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ گزشتہ مہینوں اور حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر ہونے والے مسلسل حملوں اور امریکہ اور امریکی دفاعی نظام کی جانب سے ان خطرات کو مکمل طور پر روکنے میں ناکامی نے ریاض کو متبادل سکیورٹی انتظامات کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔
دوسرا مقصد: خطے کے تین اہم ممالک کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کو یکجا کرنا ہے۔ سعودی عرب اپنی مالی اور تیل کی طاقت کے ساتھ، ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور اپنی ترقی یافتہ دفاعی صنعت کے ساتھ، جبکہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد جوہری طاقت کے طور پر، ایک تزویراتی مثلث کے تین اضلاع تشکیل دیتے ہیں۔ ان تینوں میں سے ہر ملک اپنی منفرد صلاحیتیں اس اتحاد میں شامل کرتا ہے۔
تیسرا مقصد: سعودی عرب کے علاقائی کردار کی نئی تعریف کرنا ہے۔ ریاض اس معاہدے کی میزبانی اور اس کے سیکریٹریٹ کو اپنی سرزمین پر قائم کرکے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے نئے سکیورٹی نظام کے مرکزی مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ مکہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے درمیان توانائی اور تجارتی نیٹ ورکس میں ترکی کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا اور اس کے نتیجے میں ان نیٹ ورکس کے محور کے طور پر سعودی عرب کے کردار کو بھی تقویت ملے گی۔
چوتھا مقصد: ریاض اور بن سلمان کی جانب سے واشنگٹن کو پیغام دینا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کو دوہرا پیغام دے رہا ہے۔ ایک طرف یہ موجودہ بحران میں واشنگٹن کی کارکردگی پر ریاض کی ناراضی کا اظہار ہے، جبکہ دوسری طرف یہ امریکہ سے مزید سکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
 
مکہ معاہدہ اگرچہ اپنی سرکاری اور سفارتی زبان میں دفاعی نوعیت اور علاقائی تعاون پر زور دیتا ہے اور کسی مخصوص فریق کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کرنے کی سختی سے تردید کرتا ہے، تاہم جغرافیائی سیاست کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اسے خطے کے بعض دیگر فریقوں، بالخصوص صہیونی حکومت، کی تزویراتی پالیسی اور علاقائی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک پوشیدہ محاذ آرائی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایسے وقت میں جب عرب ممالک میں بیرونی طاقتوں کی جانب سے سکیورٹی ذمہ داریوں میں کمی کا احساس بڑھ رہا ہے، یہ معاہدہ نئی سکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے اور روایتی حفاظتی چھتریوں کے بجائے مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی تہوں کو متبادل کے طور پر قائم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش سمجھا جا سکتا ہے، تاکہ ممکنہ خلا کو پُر کیا جا سکے۔

طاقت کے توازن اور سکیورٹی نظام میں تبدیلی کے نقطۂ نظر سے، ایک جوہری طاقت یعنی پاکستان اور ایک ایسے ملک یعنی ترکی، جس کے پاس جدید فوجی صلاحیتیں اور جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی موجود ہے، کو سعودی عرب کے وسیع مالی اور توانائی کے وسائل کے ساتھ جوڑنے سے اس اتحاد کا سیاسی اور نفسیاتی وزن علاقائی معاملات میں نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یہ معاہدہ ایک متوازی سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دے کر بالواسطہ اور کئی سطحوں پر مشتمل ڈیٹرنس کا ایک ایسا نیٹ ورک بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں ’’اجتماعی دفاع‘‘ کی شق مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اس معاہدے کے منصوبہ ساز اپنے حریفوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تزویراتی آبی گزرگاہوں اور علاقائی سرحدوں میں رکن ممالک کے بنیادی مفادات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کشیدگی یا دھمکی کا سامنا اس محور کی جانب سے مشترکہ اور مربوط ردعمل سے ہوگا۔

درحقیقت ریاض اس نئی صف بندی کے ذریعے اپنے علاقائی حریفوں کے لیے کسی بھی سخت تصادم یا غیر روایتی جنگ کی قیمت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
 
علامتی ڈیٹرنس، عملی میدان میں تزویراتی حدود:
مذکورہ بلند عزائم اور ذرائع ابلاغ میں اس اتحاد کی وسیع تشہیر کے باوجود، پیچیدہ زمینی حقائق کے سامنے اس معاہدے کی حقیقی حیثیت اور فوجی اثر پذیری کو بنیادی اور ساختی چیلنجز کا سامنا ہے۔
یمن سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر جاری غیر متناسب حملوں نے پہلے عملی امتحان کے طور پر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کاغذ پر موجود اتحاد کو ایک مؤثر اور ناقابلِ نفوذ دفاعی حصار میں تبدیل کرنے کے لیے براہِ راست فوجی مداخلت کے پختہ عزم کی ضرورت ہوگی۔

ریاض کے نئے شراکت داروں نے سفارتی وعدوں اور سیاسی بیانات کے باوجود عملی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تقاضوں اور اپنے اخراجات و فوائد کے محتاط حساب کتاب کے باعث وہ علاقائی تنازعات کے دلدل میں داخل ہونے میں کسی بھی صورت دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی ترجیح یہ ہے کہ ان کی ذمہ داریاں مشاورتی معاونت، فوجی سازوسامان کی فروخت اور محدود مشترکہ فوجی مشقوں تک ہی رہیں۔

میدانِ جنگ میں یہ عملی بے عملی دراصل ان ممالک کے تزویراتی محدودیتوں، شدید اقتصادی مشکلات اور مشرقی و مغربی سرحدوں پر موجود علاقائی سکیورٹی چیلنجز سے جڑی ہوئی ہے، جو انقرہ اور اسلام آباد کو مزاحمتی محور کے ساتھ براہِ راست سخت تصادم اور نیابتی جنگ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔

سعودی عرب کی سرزمین پر اس اتحاد کے فوجی اہلکاروں یا سازوسامان کی موجودگی اور شرکت زیادہ تر ریاض کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے علامتی، حفاظتی اور سیاسی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ علاقائی بحرانوں میں براہِ راست مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بھاری سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی قیمتیں عملی طور پر ان ممالک کے لیے مشترکہ فوجی کارروائی یا فعال ڈیٹرنس کے آپشن کو غیر منطقی اور انتہائی خطرناک بنا دیتی ہیں۔

چنانچہ یہ معاہدہ ایک متحدہ جارحانہ محاذ تشکیل دینے کے بجائے زیادہ تر سعودی عرب کی سکیورٹی کمزوریوں کو ڈھانپنے کے لیے ایک علامتی حصار کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مکہ معاہدہ بلاشبہ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہونے والی اہم ترین سکیورٹی پیش رفتوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب نے اس معاہدے پر دستخط کرکے علاقائی اتحاد سازی کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اتحاد کے مقاصد ایک سادہ دفاعی معاہدے سے کہیں آگے ہیں، جن میں امریکہ پر انحصار کم کرنا، تینوں ممالک کی تزویراتی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، ریاض کے علاقائی کردار کی نئی تعریف کرنا اور واشنگٹن کو پیغام دینا شامل ہے۔

حتمی تجزیے میں اس معاہدے کا مستقبل اور اس کی کارکردگی کسی متحدہ فوجی دفاعی حصار پر منحصر ہونے کے بجائے ایک ایسے دعوے کی حیثیت رکھتی ہے جسے عملی آزمائش سے گزرنا ابھی باقی ہے۔ فی الحال یہ معاہدہ زیادہ تر ان تین تشویش زدہ طاقتوں کے لیے سیاسی خطرات کو کم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب امریکی حفاظتی چھتری پر مکمل انحصار کے بجائے اپنی سکیورٹی کی تہوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔

 تاہم یمن کی مسلح افواج کے حملوں کا جاری رہنا اور ترکی و پاکستان کی جانب سے عملی ردعمل کا فقدان جو ریاض کی جانب سے جنگ لڑنے کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور سعودی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اس معاہدے کی سنگین حدود کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی لیے موجودہ مرحلے میں مکہ معاہدہ یمن کو ڈیٹرنس کے پیغامات دینے کے باوجود مؤثر فوجی ڈیٹرنس میں تبدیل ہونے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتا اور اسے زیادہ تر بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سفارتی آلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
 
 اسلام ٹائمز
 
 
Read 3 times