تہران کے معروف رویاں انسٹی ٹیوٹ کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق، ہر سال سینکڑوں غیر ملکی بانجھ پن سے متاثرہ جوڑے طبی علاج کے لیے ایران کا سفر کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ عبدالحسین شاہوردی نے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران علاقائی اور آپریشنل چیلنجز کے باوجود، یہ ادارہ بین الاقوامی مریضوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں رویاں انسٹی ٹیوٹ ہر سال 500 سے زائد غیر ملکی جوڑوں کا علاج کر چکا ہے، جن میں خطے کے ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ سے آنے والے مریض بھی شامل ہیں۔
عبدالحسین شاہوردی نے اس رجحان کی اہم وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طبی مراکز کی مضبوط سائنسی ساکھ اور علاج کی اچھی شرح بین الاقوامی مریضوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران میں علاج کے دوران ثقافتی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری بھی غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑا پلس پوائنٹ ہے، جس کی وجہ سے وہ یہاں پرسکون محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے مریضوں میں وہ ایرانی بھی شامل ہیں جو بیرون ملک مقیم ہیں یا جن کے شریک حیات غیر ملکی ہیں، جو اپنی نسل بڑھانے کے لیے ایران واپس آتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایران میں 'فرٹیلٹی ٹورازم' یا بانجھ پن کے علاج کی سیاحت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مغربی ممالک کے مقابلے میں علاج کے انتہائی مناسب اور کم اخراجات ہیں۔
شاہوردی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں کچھ لاجسٹک مشکلات کا سامنا رہا ہے، لیکن ادارہ اب بھی بڑی تعداد میں غیر ملکی مریضوں کو قبول کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کے اندر اور بیرون ملک کامیاب پیدائشیں ریکارڈ کی جارہی ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
