مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا دشمن کے مقصد کو دانستہ یا نادانستہ آگے بڑھانے کے مترادف ہے، رہبر انقلاب

Rate this item
(0 votes)
مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا دشمن کے مقصد کو دانستہ یا نادانستہ آگے بڑھانے کے مترادف ہے، رہبر انقلاب

  رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر حضرت ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں ملت ایران اور امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کی۔

رہبر انقلاب نے اپنے پیغام میں اسلام کے دشمنوں اور بدخواہوں کی حکمت عملی کو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرکے اسلامی امت کو کمزور کرنا اور اس پر تسلط حاصل کرنا قرار دیا اور کہا کہ آج مسلمانوں کو باہمی اتحاد، ایک دوسرے کے دفاع اور مادی و معنوی شعبوں میں باہمی تعاون و ہم آہنگی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت کو انسانوں کی ہدایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلیمات کو جتنا زیادہ سیکھا اور ان پر عمل کیا جائے گا، انسانیت کے لیے سعادت اور نیک بختی کی بلندیوں تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہوگا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسلام اور مسلمان متعدد سخت اور پرتلاطم ادوار سے گزرنے کے بعد آج ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور موجودہ دور میں مسلمان تاریخ ساز اور مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق حق کی باطل پر اور اسلام کی کفر پر حتمی غلبے کا امکان گزشتہ تمام ادوار کے مقابلے میں آج زیادہ نمایاں ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اہم مقصد کے حصول کی پہلی شرط مسلمانوں کا اتحاد ہے۔ مسلمانوں کی وحدت عالمی کفر کے مقابلے میں ایک قرآنی حکمت عملی اور اسلام ناب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیادی تعلیم ہے۔

رہبر انقلاب نے وضاحت کی کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی عمومی سطح پر تمام مسلمانوں کے مشترکات کو محور اور بنیاد قرار دیا جائے، جبکہ استدلال، بھائی چارے، باہمی تعاون، امن اور حسنِ سلوک کے ذریعے اختلافی امور کو بھی بتدریج مشترکہ نکات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «اَشِدّاءُ عَلَی الْکُفّارِ رُحَماءُ بَیْنَهُمْ» کو مسلمانوں کے لیے رہنما اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کو اس قرآنی اصول کو اپنی فکر، گفتگو اور عمل کا محور بنانا چاہیے۔ جب اس آسمانی پیغام کے دونوں حصوں میں سے کوئی ایک بھی مسلمانوں کے عملی رویے سے دور ہوجاتا ہے تو وہ عزت اور اقتدار کے اس مقام سے بھی دور ہوجاتے ہیں جو اسلامی معاشرے میں انہیں حاصل ہونا چاہیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ہفتۂ وحدت کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز ایران میں شاہی حکومت کے خلاف جدوجہد کے دوران ہوا، جب جلاوطنی کے زمانے میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان وحدت کا تصور پیش کیا اور دونوں مکاتب فکر نے اس کا خیرمقدم کیا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینیؒ کی تدبیر سے ہفتۂ وحدت کو باقاعدہ حیثیت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں مسلمان عوام کے درمیان وحدت ایک کامیاب نمونہ ہے اور دشمنوں کی سازشیں اسے بڑی حد تک متاثر کرنے میں ناکام رہی ہیں، تاہم بدخواہ عناصر ہمیشہ اس عظیم نعمت کو نقصان پہنچانے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ دشمنوں کو سب سے زیادہ امید مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرنے سے ہوتی ہے۔ مذہبی اور اعتقادی اختلافات اگرچہ دشمن کے مقاصد کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن دشمن اسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کو بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے بہانے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسلامی امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اس کی طاقت کمزور کی جائے اور مناسب موقع پر اس پر اپنا تسلط قائم کیا جاسکے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَلا تَنازَعوا فَتَفْشَلوا وَتَذْهَبَ ریحُکُم» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے میں جو شخص بھی کسی بھی مقام پر رہتے ہوئے ایسا اقدام کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہو اور تنازع جنم لے، وہ دانستہ یا نادانستہ اور چاہے یا نہ چاہے، دشمنانِ اسلام کے مقصد کو آگے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ حالات اور خطے میں رونما ہونے والے واقعات پر غور کریں اور سوال اٹھایا کہ اگر مسلمان ایک مضبوط ہاتھ کی مانند متحد ہوتے تو کیا فلسطینی عوام اس طرح بے یار و مددگار ہوکر قابض قوتوں کے ظلم و جرائم کا نشانہ بنتے؟

رہبر انقلاب نے مزید سوال کیا کہ اگر خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی اقوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے متحد ہوتیں تو کیا ہزاروں کلومیٹر دور سے آنے والے عناصر کو ان کی سرزمینوں اور وسائل پر طمع کرنے کی جرأت ہوتی؟

انہوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں بالخصوص مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے ممالک کے حکمرانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کی سازش اور منصوبے کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔ اسلامی امت کے مسائل کا علاج اتحادِ کلمہ، دوستی اور نیکی کے راستے میں باہمی تعاون میں مضمر ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کو اسلامی اتحاد اور امت مسلمہ کا کھلا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دشمنی صرف اسلامی جمہوریہ ایران، ایرانی قوم یا اسلامی مزاحمتی محاذ تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری امت اسلامیہ، بالخصوص مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کی اقوام سے دشمنی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحاد کے سلسلے میں پہلا سبق دشمن کے مقابلے میں اتحاد اور باہمی نزاع سے اجتناب ہے، دوسرا سبق کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا اور تیسرا سبق مسلمانوں کی مادی و معنوی زندگی کے مختلف شعبوں، بالخصوص دولت، سلامتی، علم اور ترقی میں باہمی تعاون اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

رہبر انقلاب نے اسلامی اتحاد کو اسلامی تہذیب کی تعمیر کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لیے مطلوب یہ فکری اور عملی تصور ایران میں قابلِ قبول حد تک عملی شکل اختیار کرچکا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر ایرانی قوم کے تمام طبقات کو تاکید کی کہ وہ کسی بھی صورت اپنے درمیان اختلاف کو پیدا ہونے کی اجازت نہ دیں۔

Read 1 times