آبنائے ہرمز میں امریکی زیر آب جاسوسی نظام کیسے سپاہ پاسداران کے ہاتھ لگ گیا؟

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز میں امریکی زیر آب جاسوسی نظام کیسے سپاہ پاسداران کے ہاتھ لگ گیا؟

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک:  سپاہ پاسداران کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ایک امریکی خودکار اور بغیر انسان کے زیر آب نظام کو قابو کرکے قبضے میں لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی پیچیدہ اطلاعاتی اور عملی نگرانی کے نتیجے میں انجام دی گئی۔

سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ زیرآب نظام کی تصاویر بھی جاری کرنے کے بعد اس کی درست ساخت، ترتیب اور اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکیں گی۔

یہ واقعہ محض ایک غیر ملکی نظام کے قبضے میں آنے تک محدود نہیں بلکہ جدید بحری جنگ میں بغیر انسان کے چلنے والے زیر آب نظاموں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے تناظر میں بھی قابل توجہ ہے۔

Dive-LD آخر ہے کیا؟

دستیاب معلومات کے مطابق سپاہ کے ہاتھ آنے والا نظام Dive-LD ہے۔ یہ روایتی آبدوز نہیں بلکہ ایک بڑا خودکار زیرِ آب نظام ہے، جسے کسی انسان کو اندر سوار کیے بغیر طویل عرصے تک سمندر کی گہرائی میں مختلف مشنز انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام کو ابتدا میں امریکی کمپنی Dive Technologies نے تیار کیا تھا۔ بعد ازاں اس کمپنی کے حصول کے بعد Dive-LD کی مزید ترقی کا کام Anduril Industries کے پاس آگیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق Dive-LD کا پہلا نمونہ اپریل 2025 میں امریکی بحریہ کی یونٹ UUVRON-1 کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے عملی ماحول میں آزمایا جاسکے۔

اس کی لمبائی تقریباً 5.8 میٹر اور وزن قریب تین ٹن بتایا جاتا ہے۔ یہ حجم اسے عام چھوٹی زیرآب ڈرون یا تفریحی آبی گاڑی سے کہیں زیادہ بڑا اور پیچیدہ نظام بناتا ہے۔

انسان کے بغیر کئی دن زیرآب رہنے کی صلاحیت

Dive-LD کی بنیادی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے۔ اس میں انسان کے سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ طویل عرصے تک زیر آب رہ کر مقررہ مشن انجام دے سکتا ہے۔

اس نظام کے بارے میں جاری کردہ معلومات میں تقریباً 10 دن تک زیر آب رہنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے انتہائی گہرائی میں آپریشن کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے اور بعض معلومات کے مطابق یہ تقریباً 6 ہزار میٹر تک گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم یہ اعداد و شمار تیار کنندہ کی جانب سے بیان کردہ صلاحیتوں پر مبنی ہیں اور حقیقی جنگی حالات میں اس کی کارکردگی مختلف ہوسکتی ہے۔

صرف نگرانی نہیں، کئی طرح کے مشنز

Dive-LD کو مختلف نوعیت کے زیرِ آب مشنز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں زیر آب نگرانی، معلومات جمع کرنا، سمندر کی تہہ کا نقشہ تیار کرنا اور بارودی سرنگوں کی تلاش شامل ہیں۔

یہ نظام سمندر میں موجود پائپ لائنوں، کیبلز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے علاوہ آبدوز شکن کارروائیوں میں معاونت کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ اس کا ماڈیولر ڈیزائن اسے مزید اہم بناتا ہے، کیونکہ مختلف مشنز کے مطابق اس پر مختلف سینسرز اور آلات نصب کیے جاسکتے ہیں۔

یوں اس نظام کی اصل طاقت صرف اس کے جسم اور انجن میں نہیں بلکہ اس میں نصب سینسرز، نیوی گیشن، مواصلاتی نظام، ڈیٹا پراسیسنگ اور مشن سے متعلق آلات میں بھی پوشیدہ ہے۔

جاسوسی نظام پر قبضہ سپاہ پاسداران کی اہم کامیابی

سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں اس کارروائی کے لیے اطلاعاتی اور عملی برتری کا حوالہ دیا ہے۔ زیر آب ایک خودکار نظام کا سراغ لگانا آسان کام نہیں ہوتا، کیونکہ سمندر کی گہرائی میں مواصلات، نگرانی اور ہدف کی شناخت سطح زمین یا فضا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔

اس کارروائی میں صرف زیر آب نظام کا سراغ لگانا ہی کافی نہیں تھا بلکہ اس کی موجودگی کی تصدیق، نوعیت کا تعین اور پھر اسے قابو میں لینا بھی ضروری تھا۔ سپاہ پاسداران کی یہ کارروائی ایران کی زیر آب نگرانی اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی ایران کے اختیار میں

کسی جدید بغیر انسان کے زیر آب نظام کا سالم حالت میں قبضے میں آنا صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ تکنیکی اور اطلاعاتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

اگر Dive-LD کے اہم حصے محفوظ حالت میں موجود ہیں تو ایرانی ماہرین اس کی ساخت، سینسرز، نیوی گیشن، مواصلاتی نظام اور دیگر ٹیکنالوجی کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

اس طرح حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں اسی نوعیت کے نظاموں کی شناخت، ان کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات کی تیاری میں مددگار ہوسکتی ہیں۔

یعنی جو نظام کسی علاقے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، اس کے قبضے میں آنے کی صورت میں وہ خود مخالف کے لیے معلومات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

جدید جنگ میں کسی نظام کو تباہ کرنا ایک کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن اسے سالم حالت میں تلاش کرکے قابو میں لینا اس سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں دشمن نہ صرف اپنا ایک عملی اثاثہ کھوتا ہے بلکہ اپنی حساس ٹیکنالوجی کا ایک حصہ بھی مخالف کے مطالعے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں زیرآب مقابلے کی نئی شکل

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کے داخلی راستے پر کسی غیر ملکی زیر آب نگرانی کے نظام کی سرگرمی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

ایران کے لیے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سیکورٹی قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں غیر ملکی طاقتوں کے بغیر انسان کے چلنے والے نگرانی کے نظاموں کی موجودگی ایرانی دفاعی اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب عالمی بحری جنگ بھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ بغیر انسان کے بحری اور زیرِ آب خودکار نظام بھی جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتے جارہے ہیں۔

مستقبل کی جنگ کا میدان سطح سمندر کے نیچے

Dive-LD کا واقعہ اس وسیع تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں مستقبل کی جنگ صرف میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور روایتی جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہے گی۔

خودکار زیرِ آب نظام، مصنوعی ذہانت، جدید سینسرز، ڈیٹا پراسیسنگ اور الیکٹرانک جنگ مستقبل کی بحری کشمکش میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سپاہ پاسداران کی جانب سے وعدہ کردہ تصاویر اور مزید تکنیکی معلومات جاری کرنے کے بعد اس نظام کی حقیقی ساخت، نصب شدہ آلات اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کا زیادہ درست اندازہ لگایا جاسکے گا۔

Read 30 times