مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سعودی عرب کو یمن میں ایک دہائی سے زائد فوجی مداخلت کے بعد ایسے بحران کا سامنا ہے جس کے اثرات میدان جنگ سے آگے بڑھ کر اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی، بین الاقوامی ساکھ اور محمد بن سلمان کے اقتصادی منصوبوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ حملوں اور یمن کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی پالیسی کے سکیورٹی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی خریداری اور بیرونی طاقتوں کی حمایت پر انحصار، پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے اور دفاعی کمزوریاں
ذرائع کے مطابق، 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اتوار کو ہونے والے ایک دوسرے حملے میں بھی ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کردیں۔
انصار اللہ کے ان حملوں نے سعودی عرب کی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان حملوں کی اہمیت صرف جانی نقصان یا مادی تباہی تک محدود نہیں۔ ریاض کا ہوائی اڈہ سعودی عرب کے اہم مواصلاتی مراکز میں شامل ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں، بین الاقوامی کمپنیوں کے منتظمین اور سیاحوں کی آمد کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس جیسے مرکز کی سرگرمیوں میں خلل پڑنے سے اقتصادی شعبے پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ماحول کے استحکام پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنے اقتصادی منصوبے ویژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا علاقائی مرکز بننے کی کوشش کررہا ہے۔
محمد بن سلمان کے اقتصادی منصوبوں کو خطرہ
محمد بن سلمان گزشتہ برسوں کے دوران نیوم سمیت بڑے منصوبوں کے ذریعے سعودی عرب کی اقتصادی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے مستحکم ماحول، محفوظ بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی ضرورت ہے۔
جب دارالحکومت کا ہوائی اڈہ حملوں کی زد میں آجائے اور فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنا پڑیں تو معاملہ صرف فوجی حملے کا مقابلہ کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس ملک کی بین الاقوامی ساکھ بھی آزمائش سے دوچار ہوجاتی ہے جو خود کو تجارت اور سیاحت کے لیے ایک محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
بیرونی حمایت؛ ضمانت یا انحصار؟
سعودی عرب کے موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو بیرونی اتحادیوں پر اس کے انحصار کی حدود ہیں۔ ریاض گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جدید ہتھیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور مغربی جنگی طیاروں کی خریداری پر بھاری اخراجات کرتا رہا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ جدید فوجی سازوسامان کی موجودگی لازماً حملوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
ایک وسیع رقبے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی تیاری، میزائل شکن ذخائر کی مناسب مقدار، بروقت اطلاع دینے والے نظام اور مسلسل دفاعی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں فضائی دفاع مضبوط بنانے کے لیے اتحادیوں سے مدد طلب کرنا سعودی عرب کی فوری ضروریات کا کچھ حصہ پورا کرسکتا ہے، لیکن یہ پائیدار سکیورٹی حکمت عملی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ ہتھیاروں کی فروخت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، تکنیکی معاونت اور کسی جنگ میں براہ راست شرکت ایک دوسرے سے مختلف امور ہیں۔
مغربی حکومتیں اپنے مفادات کے تحت سعودی عرب کی حمایت کرسکتی ہیں، لیکن اس حمایت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وہ انصار اللہ کے ساتھ طویل اور خطرناک فوجی تصادم کے تمام اخراجات برداشت کرنے پر بھی آمادہ ہوں گی۔
امریکی پالیسی کی حدود
واشنگٹن کا طرزعمل بھی اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ امریکہ نے 2025 میں انصار اللہ کے خلاف تقریباً 52 روز تک فضائی حملے کرنے کے بعد عمان کی ثالثی سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اپنی کارروائیاں روک دی تھیں۔
اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انصار اللہ کی فوجی صلاحیت ختم ہوگئی یا بحری جہاز رانی کے خلاف اس گروہ کے خطرات مکمل طور پر دور ہوگئے۔ تاہم، اس تجربے نے ظاہر کیا کہ فضائی برتری اور بھاری فوجی طاقت، واضح سیاسی اہداف کے حصول کے بغیر، لازماً مطلوبہ تزویراتی نتائج نہیں دے سکتیں۔
موجودہ حالات میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان تنازع میں براہ راست شرکت بھی نئے اخراجات اور پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔ فوجی کارروائیوں میں توسیع، میزائل شکن ذخائر کا استعمال اور بحری راستوں کو لاحق خطرات میں اضافے کا امکان واشنگٹن کے لیے فیصلے کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بحران سمیت علاقائی صورت حال نے امریکی فوجی وسائل اور تزویراتی فیصلوں پر اضافی دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اس لیے ریاض بیرونی حمایت کو حملوں کی روک تھام یا طویل جنگ میں فتح کی یقینی ضمانت نہیں سمجھ سکتا۔
یمن میں مداخلت کی قیمت
سعودی عرب کی موجودہ مشکلات کی جڑیں اس پالیسی میں تلاش کی جاسکتی ہیں جس کا آغاز 2015 میں یمن میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کی فوجی مداخلت اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت انصار اللہ کو یمن کے سیاسی اور فوجی منظرنامے سے خارج کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس کے برعکس، برسوں کے دوران اس جنگ نے انسانی، اقتصادی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھاری اخراجات پیدا کیے۔
فضائی حملوں، اشیائے ضروریہ کی آمد پر پابندیوں اور خوراک، ادویات اور طبی خدمات تک رسائی میں مشکلات نے یمنی معاشرے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
اب لڑائی میں دوبارہ شدت کے ساتھ اس پالیسی کے بعض نتائج سعودی عرب کے اندر بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ یمن کے مختلف محاذوں، خصوصاً تعز کے اطراف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اسی طرح ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب صورت حال سعودی عرب کے سکیورٹی اندازوں کو مزید پیچیدہ بناسکتی ہے۔ تاہم، ان علاقوں پر کنٹرول کی صورت حال میدان جنگ میں تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس کا درست جائزہ لینے کے لیے معتبر اور تازہ معلومات درکار ہیں۔
باب المندب اور عالمی تجارت
باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستوں میں شامل ہے۔ اس علاقے میں لڑائی بڑھنے سے سمندری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس تناظر میں یمن کا بحران اب محض داخلی مسئلہ یا ریاض اور انصار اللہ کے درمیان تنازع نہیں رہا، بلکہ اس کا تعلق بحیرہ احمر کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے مفادات سے بھی جڑ گیا ہے۔
سیاسی اعتبار سے بھی موجودہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ فوجی دباؤ کسی ایسے فریق کی سیاسی قوت اور ارادے کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں جو یمن کے داخلی سیاسی اور سماجی حالات میں گہری جڑیں رکھتا ہو۔
انصار اللہ گزشتہ برسوں کے دوران وسیع حملوں اور اقتصادی و فوجی دباؤ کے باوجود اپنا سیاسی اور فوجی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے اور اس نے اپنے علاقائی حریفوں پر بھی اخراجات مسلط کیے ہیں۔
اس حقیقت کا مطلب یہ نہیں کہ انصار اللہ کو ہر لحاظ سے برتری حاصل ہے یا سعودی عرب کی فوجی صلاحیت ختم ہوگئی ہے، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوششوں کو سنگین حدود کا سامنا ہے۔
بحران سے نکلنے کا راستہ
سعودی عرب کو اس وقت بیک وقت دو دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف اسے اپنے اہم بنیادی ڈھانچے کا دفاع کرنے اور حملوں کے مقابلے میں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں مداخلت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور پائیدار سیاسی نتیجے تک پہنچنے میں مشکلات اس کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے سے نقصانات بڑھ سکتے ہیں، بحری راستوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اقتصادی ترقی کے بجائے مزید وسائل فوجی اخراجات پر صرف کرنا پڑسکتے ہیں۔
اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ صرف ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ یا بیرونی طاقتوں کی براہ راست مداخلت کی امید لگانا نہیں ہے۔ ریاض کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یمن کی سیاسی اور سماجی حقیقتوں کو نظرانداز کرکے اپنی جنوبی سرحدوں پر پائیدار سلامتی قائم نہیں کی جاسکتی۔
حملوں کا خاتمہ، پابندیوں میں کمی، ایک جامع سیاسی معاہدے کی جانب پیش رفت اور یمن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں خود یمنی عوام کے بنیادی کردار کو تسلیم کرنا کشیدگی کم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یمن میں ایک دہائی سے زائد فوجی مداخلت کا تجربہ سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے ایک اہم تزویراتی سبق رکھتا ہے کہ فوجی طاقت اور بیرونی حمایت، زمینی حقائق کو سمجھنے اور اختلافات کے سیاسی حل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
اگر ریاض اپنی سلامتی کو بدستور ہتھیاروں کی خریداری اور بیرونی اتحادیوں کے وعدوں سے وابستہ رکھتا ہے اور اپنی علاقائی پالیسی پر نظرثانی سے گریز کرتا ہے تو اسے مستقبل میں بھی ایسے سخت بحرانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بالآخر، علاقائی اختلافات کے پائیدار حل کے بغیر بیرونی طاقتوں پر انحصار ہوا کے سہارے کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
