حجۃ الاسلام والمسلمین حسین طائب نے کہا کہ : "اسرائیلیوں اور امریکیوں کا خیال تھا کہ ہماری قوم کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے، اور وہ تین روزہ یا چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے ذریعے ہماری قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔"
بسیج آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا کہ "یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ہماری قوم کمزور نہیں پڑی؛ بلکہ ڈٹی رہی۔ ہماری مسلح افواج ثابت قدم رہیں، اور امریکیوں کو احساس ہو گیا کہ ان کا اندازہ غلط تھا۔"
طائب نے مزید کہاکہ آج صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اپنی اسٹریٹیجی بدلنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اب انہوں براہِ راست اور ہمہ گیر جنگ کے بجائے، اپنی پراکسی قوتوں، علاقائی و بین الاقوامی اتحادوں اور معاشی دباؤ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی اس بات سے غافل رہے کہ آبنائے ہرمز قوتِ مزاحمت کے تناظر میں طاقت کے توازن ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ اگر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پابندیوں اور ناکہ بندی کے ذریعے ہماری قوم کو کمزور کر سکتے ہیں، تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ موجودہ حالات میں، آبنائے ہرمز کی بندش ایک ایسا اہم عنصر ہے جو امریکہ اور عالمی معیشت، دونوں کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
