الٰہی آزمائشوں میں کامیابی؛ قرآن کے مطابق دشمن پر حتمی غلبے کی شرط

Rate this item
(0 votes)
الٰہی آزمائشوں میں کامیابی؛ قرآن کے مطابق دشمن پر حتمی غلبے کی شرط

 قرآن کریم بنی اسرائیل کی تاریخ کو محض ماضی کی کہانی کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اسے آج کے لیے ایک آئینہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 246 میں حضرت موسیٰؑ کے بعد بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جب وہ جلاوطنی اور مظلومیت کی سخت حالت میں اپنے نبی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ایک سپہ سالار مقرر کیا جائے، لیکن اس کے بعد وہ کئی مراحل میں آزمائش اور چھانٹی سے گزرتے ہیں۔

جب ان کے نبی نے طالوت کو سپہ سالار مقرر کیا تو انہوں نے اعتراض کیا کہ اس کے پاس نہ شہرت ہے اور نہ دولت۔ ان کے نبی نے یاد دلایا کہ اولاً اسے اللہ نے منتخب کیا ہے، اور ثانیاً وہ علمی صلاحیت اور جسمانی قوت رکھتا ہے جو جنگی قیادت کے لیے ضروری ہے (بقرہ: 247)۔

پھر جب لشکر پیاسا ایک دریا پر پہنچا تو طالوت نے حکم دیا کہ وہ اس کا پانی نہ پئیں، مگر صرف ایک چلو بھر۔ جس نے پانی نہ پیا وہ “میرا ہے” (فَإِنَّهُ مِنِّي)، اور جس نے پی لیا وہ "مجھ سے نہیں" (فَلَيْسَ مِنِّي)، جبکہ جنہوں نے ایک چلو بھر پیا، وہ نہ مکمل طور پر اپنے رہے نہ بیگانہ۔

اگلے مرحلے میں جب وہ جالوت کے ساز و سامان سے لیس لشکر کے مقابل آئے تو دشمن کی طاقت دیکھ کر کچھ لوگ کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ اس کے برعکس ایک گروہ نے ایمان بھرا قول پیش کیا کہ:اکثر ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب آ گئی، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (بقرہ: 249)۔

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کسی ایک آزمائش میں کامیابی کافی نہیں ہوتی۔ اس داستان میں کچھ لوگوں نے فقر کی وجہ سے رہبر کو قبول نہ کیا، کچھ لوگ شکم کی آزمائش میں ناکام ہوئے، اور کچھ دشمن کے مقابلے میں ہمت ہار گئے۔ لیکن جو لوگ ولیِ خدا کی قیادت کو قبول کرتے ہیں، اور جب انہیں عوامی یا سرکاری مال تک رسائی ملتی ہے تو دیانت اور بزرگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہتے ہیں، وہی لوگ حتمی فتح کی خوشخبری کے مستحق ہوتے ہیں۔

Read 5 times