سی این این: ٹرمپ ایران پر دباؤ کے تمام ذرائع کو کھو چکے ہیں

Rate this item
(0 votes)
سی این این: ٹرمپ ایران پر دباؤ کے تمام ذرائع کو کھو چکے ہیں

 سی این این نیوز چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے دباؤ کے تمام ذرائع نکل چکے ہیں اور ان کے تمام نظریات ناکام اور اب بس وہ موجودہ حالات سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ میں آیا ہے کہ درپیش نومبر کے مہینے میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کا منظرنامہ بھی ابتر معاشی صورتحال کی وجہ سے برا نظر آرہا ہے جس سے ری پبلیکن پارٹی کو سنجیدہ خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذکورہ نیوز چینل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ٹرمپ ایران سے زیادہ معاہدے کے لیے راغب نظر آرہے ہیں، جبکہ اس سے قبل انہوں نے ایران کے مکمل گھٹنے ٹیکنے کے بعد ہی جنگ کے خاتمے کا دعوی کیا تھا۔

ادھر امریکہ کی معاشی صورتحال ایسی ہے کہ مارچ کے مہینے میں افراط زر کی شرح میں 0/9 فیصد اضافہ ہوگیا، پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران 21 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اوراس کے نتیجے میں امریکی شہریوں کا قومی معیشت پر بھروسہ اتنا کم ہوگیا ہے کہ 1952 سے اب تک ایسی صورتحال کا مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ حتی اگر جنگ فوری طور پر ختم اور آبنائے ہرمز بالفرض کھل جائے تب بھی افراط زر کا سلسلہ کئی مہینے تک جاری رہے گا۔

ان تمام معاملات کی وجہ سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان کے ممکنہ دباؤ کے ذرائع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے کے سلسلے میں ابہام ہے اور دونوں فریقوں کی جانب سے معاملے کو الگ طرح سے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ نے ایران کو دو اہم معاملات میں زیادہ رعایت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی عہدے داروں نے کئی بار مذاکرات کی میز کو چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

ادھر امریکی عوام جنگ سے اپنی ناراضگی کو وسط مدتی انتخابات میں ظاہر کرسکتے ہیں جو ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔

Read 41 times