سلیمانی

سلیمانی

 ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری نے زور دے کر کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ دشمن کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکے۔

تفصیلات کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے عوام کے نام اپنے پیغام میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران کی لغت میں ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایرانی عوام نے اپنی لازوال مزاحمت سے دشمن کو بے بس اور زمین گیر کر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی قوم کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کو ماضی کے مقابلے میں قومی اتحاد اور یگانگت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ امریکہ اور صیہونی دشمن کو اس محاذ پر بھی مکمل مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔

انہوں نے قومی اتحاد کو دشمن سے مقابلے کا ایک اور اہم میدان قرار دیتے ہوئے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ ہر اس بات اور عمل سے سختی سے گریز کریں جس سے صفوں میں انتشار پیدا ہونے کا خدشہ ہو، کیونکہ باہمی اتحاد ہی وہ واحد راستہ ہے جو ایران کو حتمی فتح کی منزل تک پہنچائے گا۔


بسم اللہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پیغام حج
لبَّیک، اللّھم لبَّیک، لبَّیک لا شریکَ لَکَ لبَّیک، اِنَّ‌ الحَمدَ وَ النِّعمَۃَ لَکَ وَ المُلک...
اے خدا! میں تیری دعوت پر لبیک کہتا ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں اور ساری تعریفیں اور ساری نعمتیں اور مُلک و قدرت تیری طرف سے ہیں اور تجھ ہی سے تعلق رکھتے ہیں ... اس سال کا موسم حج بھی آ گیا اور امت مسلمہ کے حجاج گرامی نے بندگی کا احرام پہنا اور لبیک، اللھم لبیک کی صدائيں بلند کیں تاکہ مادی اور معمول کی زندگی سے الہی اور باسعادت زندگي کی طرف ہجرت کریں، اللہ جلّ جلالہ کی بندگی کے محور اور اللہ کے شریکوں کی نفی، انکار اور برائت پر مبنی زندگی کی طرف۔ البتہ اس ہجرت کا موقع صرف اس سال کے حجاج کرام اور خانۂ خدا کے زائرین کو ہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ موقع، ایران اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے تمام برادران و خواہران کو، چاہے وہ جو اپنی عمر کے کسی حصے میں حج کر چکے ہیں، چاہے وہ جو ابھی حج کے مناسک ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں، حاصل ہے۔ اس ہجرت کی شرط، اللہ کے ذکر کے محور پر دائمی احرام باندھنا ہے، حق کے محور کے گرد دائمی طواف کرنا ہے، الہی وظائف کی مشکل چوٹیوں کے درمیان دائمی سعی کرنا ہے، خبیث شیطان کو، اس کے گمراہ کن جلوؤں اور تمام پٹھوؤں کے ساتھ، ہمیشہ کنکریاں مارنا ہے، اللہ کی طرف مکمل توجہ اور خصوع و خشوع کے ساتھ وقوف ہے، راہ میں رہ جانے والے مسکین غریب کو کھانا کھلانا ہے، گمراہ کرنے والی اپنی نفسانی خواہشات اور چاہتوں کو قربان کرنا ہے اور اپنی اندرونی غلاظتوں کو صاف کرنا اور ہر وقت اور ہر صورتحال میں خدمت کے لیے اور حق کے دفاع کے پرچم کو لہرانے کے لیے تیار رہنا ہے۔ یوں ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کے میقات میں اسی ہجرت کی راہ پر قدم رکھا، خمینی کبیر کی ابراہیمی ندا پر لبیک کہا، اغیار کے تسلط کو تسلیم کرنے کا لباس اتار پھینکا، دنیوی و اخروی سعادت کا احرام باندھا اور لبیک کہتے ہوئے اور ہرولہ کرتے ہوئے، خالص محمدی اسلام کی تعلیمات کے محور پر طواف کرنے اور اپنے آپ کو عالمی عدل اور ولایت عظمیٰ کے نور عالم تاب سے قریب کرنے کی کوشش کی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد، اللہ اکبر علی ما ھدانا۔
جی ہاں! اللہ اکبر ... اور اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے ایران کی مسلمان قوم نے سینتالیس سال پہلے قیام کیا، پہلوی کی طاغوتی، آمر اور پٹھو حکومت کا تختہ الٹ دیا، لالچی اور مستکبر امریکا کے ہاتھ ایران سے کاٹ دیے اور صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، سرزمین ایران پر صدام کی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد اپنی جان کی پروا نہ کرنے والے غیور مجاہدوں اور نوجوانوں نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کا کارنامہ رقم کیا اور مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی جانب سے بعثی حکومت کی بھرپور حمایت کے باوجود اسے اس کی اوقات دکھا دی اور اس استقامت کو اگلے برسوں میں معاشی محاصرے، بغاوت، ظالمانہ پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف دشمنوں کے بے شمار سیاسی، تشہیراتی اور معاشی حملے کے خلاف پوری طاقت اور استحکام کے ساتھ جاری رکھا۔
واللہ اکبر ... اللہ اکبر کا یہی نعرہ تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک اور افریقا اور یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام حریت پسند اقوام تک، امت مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد جوانوں کے آپسی رشتوں کو مضبوط بنایا تاکہ اللہ کی یہ مضبوط رسی، غاصب صیہونی جارحین کے مقابلے میں امت مسلمہ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہو، داعش کا شیرازہ بکھیر دے، طوفان الاقصیٰ کھڑا کر دے اور متزلزل صیہونی حکومت کی سانسیں روک دے۔
اللہ اکبر، جی ہاں! خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے دائرۂ توصیف میں لایا جا سکے ... یہ اللہ اکبر کا ہتھیار ہی تھا کہ جس پر توکل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریۂ ایران، صیہونی حکومت کو جون 2025 میں دوسری مسط کردہ جنگ میں اپنے وحشت ناک حملوں سے لاچار کرنے، جارح امریکا کو زوردار تھپڑ رسید کرنے اور ایران کو جھکانے کے اس کے ہدف میں ناکام کرنے میں کامیاب ہوا۔ اللہ اکبر کے اسلحے نے ایرانی قوم کو ایسی قوت و طاقت عطا کی کہ آج کی دنیا کے شقی ترین لوگوں کے ہاتھوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرزند خلف، قائد عظیم الشان حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی شہادت کے جاں گداز واقعے کے بعد اسے الہی بعثت حاصل ہوئی اور ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اس قوم نے بھرپور طریقے سے موجود ہو کر اپنے پر افتخار کارناموں پر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔/
اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے ... اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے اسلامی مملکت ایران میں غیور مجاہدوں اور جان کی قربانی دینے والی فورسز نے مزاحمتی محاذ خاص طور پر لبنان عزیز کی مزاحمتی فورسز کے ساتھ مل کر تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکا اور صیہونی حکومت کی از سر تا پا مسلح دو دہشت گرد فوجوں کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں، خداوند عالم پر توکل کرتے ہوئے اور اپنے مزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے بڑے شیطان اور اس کے پالتو کتّے صیہونی حکومت کو زمین، فضا اور سمندر میں بری طرح سنگسار کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد کے سچے وعدۂ الہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ایک بار پھر اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے اور اس کا لشکر ہر طاقت پر فتحیاب ہے ... اور اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کی بعثت اور اٹھ کھڑے ہونے کے بعد، امت مسلمہ کی بعثت سامنے آئے گی اور مشرکوں سے برائت، حج کی رمی جمرات سے لے کر پوری دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی کے تمام پلیٹ فارموں تک پھیل جائے گی۔
امت مسلمہ اور خطے کی اقوام کے درمیان بہت زیادہ مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات ہیں جو خطے اور دنیا کے مستقبل کا نیا نظام تشکیل دیں گے۔ میں پوری صداقت اور اخلاص سے تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو دوستی، تعاون، خیر خواہی اور نیکی کی دعوت دیتا ہوں کہ ہم باہمی تعاون کے ذریعے امت مسلمہ کی پیشرفت اور عالم اسلام کے مسائل کے حل کی راہ میں قدم اٹھائيں۔ جو چیز اس سلسلے میں یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وقت کی سوئیاں، واپس نہیں ہوں گی اور خطے کی اقوام اور ان کی سرزمینیں، اب کبھی امریکی اڈوں کی ڈھال نہیں بنیں گی۔ اب امریکا کے پاس خطے میں شیطانی حرکتوں اور فوجی اڈے بنانے کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہوگا اور ساتھ ہی وہ روز بروز اپنی پرانی پوزیشن سے دور ہوتا جائے گا۔ متزلزل صیہونی اور اسرائیل کی سرطانی حکومت بھی اپنی منحوس عمر کے آخری مراحل کے قریب ہو چکی ہے اور اللہ کے فضل سے اور رہبر عظیم الشان قدس سرّہ کے دس سال پہلے کے ٹھوس اور مستقبل بیں قول کے مطابق، وہ اس تاریخ کے بعد کے پچیس سال نہیں دیکھ پائے گي، ان شاء اللہ۔
اس وجہ سے اس سال مشرکوں سے اظہار برائت کی اہمیت دگنی ہو جاتی ہے اور امریکا اور اسرائیل سے برائت کا میدان، حج کے موسم میں مشرکین سے برائت کے عمل سے آگے بڑھ جاتا ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں تک اور ان مبارک ایام کے بعد بھی امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلوموں، خاص طور پر جوانوں کا رائج نعرہ بن جائے گا۔
مستقبل، امت مسلمہ اور نئے اسلامی تمدن کا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اپنے حوصلے، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کو عملی جامہ پہنانے اور اس سے قریب ہونے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سال کے حج میں ایرانی حجاج کرام اور زائرین خانۂ خدا، دوسرے ملکوں کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو تیسری مسلط کردہ جنگ میں فتح کی تشریح اور تابناک مستقبل کی طرف سے انھیں پرامید بنانے میں مؤثر اور نمایاں کردار کے حامل ہیں۔ میں تمام حجاج کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے نجات دہندہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے دعا کا اہتمام کریں اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی مشکلات کی برطرفی اور عالمی سامراج کے خلاف ان کی حتمی کامیابی کے لیے دعا کریں اور حقیر کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کریں۔
اے پروردگار! محمد اور آل محمد پر درود بھیج اور تمام حجاج کرام اور پوری امت مسلمہ پر لطف و رحمت کی نظر کر، انھیں مقبول حج کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کے نور سے منور کر دے اور امت کی اصلاح کی راہ پر چلنے اور اسلام کے دشمنوں پر آخری فتح کے لیے ان کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط کر دے۔
اے پروردگار! شہدائے راہ خدا بالخصوص مزاحمتی محاذ کے شہیدوں اور ان میں سر فہرست رہبر عظیم الشان شہید خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی پاکیزہ ارواح پر اپنا فضل اور اپنی وسیع رحمت نازل فرما اور ان حاجیوں کے حج، عابدوں کی عبادت اور جدوجہد کرنے والوں کی سعی میں سے رہبر شہید کی ملکوتی روح کو ایک وافر حصہ مرحمت فرما جو قائد امت کی ہدایت سے بہرہ مند ہوئے ہیں اور ایرانی قوم اور ان کی راہ اور ہدف کو جاری رکھنے میں امت مسلمہ کی مدد کر۔
اے پرودگار! اپنی برترین صلوات اور تحیت ہمارے آقا و مولا مہدئ منتظر صلوات اللہ و سلامہ علیہ اور ان کے پاکیزہ اجداد پر نازل فرما اور ہم سبھی اور امت مسلمہ کو ان کی خالص اور مستجاب دعاؤں میں شامل کر اور دنیا کو ان کے مبارک قدموں سے منور کر دے، جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے اور ہمارے دل اس ٹھوس وعدے پر اطمینان سے لبریز ہیں۔


"وَعَدَ اللہُ الَّذینَ آمنوا مِنکُم وَ عَمِلوا الصّالِحاتِ لَیَستَخلِفَنَّھُم فی‌الارضِ کَما استَخلَفَ الَّذینَ مِن قَبلِھِم وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُم دینَھُمُ اَلَّذِی ارتَضی لَھُم وَ لَیُبَدِّلَنَّھُم مِن بَعدِ خَوفِھِم اَمنا." (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنایا تھا۔ اور جس دین کو اللہ نے پسند کیا ہے وہ انھیں ضرور اس پر قدرت دے گا۔ اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔)
والسّلام علی جَمیع اخواننا المسلمین و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
9 ذی الحجہ 1447

پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، تاریخِ اسلام کی ان عظیم ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمِ الٰہی کے پوشیدہ اسرار کو انسانیت کے سامنے اس انداز سے آشکار کیا کہ رہتی دنیا تک آپ ''باقرالعلوم'' کے لقب سے پہچانے گئے۔

آپ کا اسمِ گرامی ''محمد'' اور لقب ''باقر'' ہے۔ عربی زبان میں ''باقر'' کے معنی ہیں شگافتہ کرنے والا، یعنی وہ شخصیت جو علم کی گہرائیوں کو چیر کر اس کے حقائق آشکار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے علومِ دین، تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ اور معارفِ الٰہیہ کو اس وسعت کے ساتھ بیان فرمایا کہ علمی دنیا آپ کی عظمت کی معترف بن گئی۔ امام محمد باقر علیہ السلام یکم رجب 57 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند تھے، جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح آپ کو یہ منفرد شرف حاصل ہوا کہ آپ کا سلسلۂ نسب ماں اور باپ دونوں طرف سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔

آپ کی ذاتِ گرامی اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و اخلاق اور اپنے جد امجد حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت و حکمت کا حسین امتزاج تھی۔ صبر، شکر، زہد، تقویٰ، سخاوت، حلم، بردباری، شجاعت اور مروّت جیسی اعلیٰ صفات آپ کی شخصیت میں اس طرح جلوہ گر تھیں کہ اہلِ بیتِ رسول کی عظمت آپ کے کردار میں نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ واقعۂ کربلا نے امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔ آپ کم سنی کے عالم میں میدانِ کربلا کے المناک مناظر کے گواہ بنے۔ ظلم، ایثار، قربانی اور حق پر استقامت کا جو درس امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے میدان میں دیا، وہی درس امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور کس طرح مخدراتِ عصمت نے اسیری اور مصائب کے باوجود صبر و استقامت کی تاریخ رقم کی۔

مشہور عالمِ دین علامہ سید ذیشان حیدر جوادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ''نقوشِ عصمت'' میں مختلف اکابرینِ اہلِ سنت کے اعترافات نقل کیے ہیں، جن سے امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت آشکار ہوتی ہے۔ صواعقِ محرقہ میں آپ کو عبادت، علم اور زہد میں اپنے والد امام زین العابدین علیہ السلام کی مکمل تصویر قرار دیا گیا ہے۔ مطالب السؤل کے مطابق آپ علم، تقویٰ، طہارتِ قلب اور حسنِ اخلاق میں اس بلند مقام پر فائز تھے کہ یہ صفات گویا آپ کی پہچان بن گئیں۔

امام نسائی اور ابن شہاب زہری جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کو تابعین کے تیسرے طبقے کا عظیم عالم، عابد اور قابلِ اعتماد شخصیت قرار دیا ہے۔ ارجح المطالب میں یہاں تک لکھا گیا کہ بڑے بڑے علماء آپ کے سامنے خود کو حقیر محسوس کرتے تھے، حتیٰ کہ حکم جیسے معروف عالم بھی آپ کے حضور عاجزی اختیار کرتے تھے۔ مورخین اور اہلِ قلم نے آپ کی علمی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے فضائل و کمالات کو مکمل طور پر قلمبند کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ روضۃ الصفا میں آپ کو ''عظیم الشان امام'' اور فصل الخطاب میں ''مجمعِ جلال و کمال'' کہا گیا ہے۔ نور الابصار کے مطابق تفسیرِ قرآن، احادیث، علمِ سنن اور معارفِ دین کے جتنے ذخائر آپ سے ظاہر ہوئے، اتنے امام حسنؑ و امام حسینؑ کی اولاد میں کسی اور سے ظاہر نہیں ہوئے۔ مشہور عالم ابنِ حجر مکی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو بصیرت سے محروم ہو۔ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں آپ کو بنی ہاشم کا سردار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپ علوم کی تہہ تک پہنچ کر ان کے حقائق آشکار کر دیتے تھے، اسی لیے ''باقر'' کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ جیسے عظیم فقیہ نے بھی آپ اور آپ کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کی صحبت سے علمی استفادہ کیا۔ سیرت النعمان میں اس حقیقت کا واضح ذکر موجود ہے۔ روایات میں یہاں تک ملتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات بھی آپ کے حلقۂ علم میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے تھے۔ شواہد النبوۃ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ بعض غیر معمولی افراد کو دیکھ کر جب راوی نے سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جنات ہیں جو علم حاصل کرنے آئے ہیں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دینِ خدا کی حفاظت اور انسانیت کی ہدایت کے لیے تھی۔ آپ نے نہ کبھی حکومت و سلطنت کی خواہش ظاہر فرمائی اور نہ ہی اس زمانے میں اٹھنے والی سیاسی تحریکوں میں بظاہر خود کو اس انداز سے شامل کیا کہ اصل مقصدِ امامت پس منظر میں چلا جائے۔ تاہم حکمران ہمیشہ آپ کی علمی، اخلاقی اور روحانی عظمت سے خوفزدہ رہتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک خاندانِ رسالتؐ کی یہ روشن شخصیات موجود ہیں، اسلام کی من مانی تعبیر اور ظلم و جبر کے نظام کو دوام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی خوف اور دشمنی کے نتیجے میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے 114 ہجری میں آپ کو زہر دغا دلوا کر شہید کر دیا۔ یوں امام محمد باقر علیہ السلام نے بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح راہِ حق میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن آپ کا علم، کردار اور پیغام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

شہادت سے قبل آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو غسل، کفن اور دیگر امور کے بارے میں وصیت فرمائی۔ انہی وصیتوں میں ایک نہایت اہم وصیت یہ بھی تھی کہ آپ کے مال میں سے آٹھ سو درہم آپ کی عزاداری کے لیے مخصوص کیے جائیں اور دس سال تک ایامِ حج میں میدانِ منیٰ میں آپ کا غم منایا جائے۔ اس وصیت میں گہری حکمت پوشیدہ تھی۔ چونکہ حج کے موقع پر پورا عالمِ اسلام وہاں جمع ہوتا تھا، اس لیے امام چاہتے تھے کہ لوگ اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ رہیں اور ساتھ ہی آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات، فضائل اور حقیقی اسلامی پیغام بھی امت تک پہنچتا رہے۔ گویا امامؑ نے عزاداری کو صرف غم و اندوہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دین کی تبلیغ، ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے اور حقائقِ اسلام کو زندہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری اور اس کے لیے اخراجات کا اہتمام اہلِ بیتؑ کی سنت اور دینی شعور کا حصہ ہے، جس کے ذریعے نسلوں تک حق و باطل کی پہچان منتقل ہوتی رہتی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام صرف ایک عظیم عالم ہی نہیں بلکہ ''عالمِ باعمل'' تھے۔ آپ کی زندگی عارفوں کے لیے ہدایت اور سالکوں کے لیے کامل نمونہ تھی۔ آپ خود اپنی زمینوں میں کام کرتے، محنت سے رزق کماتے اور لوگوں کو یہ درس دیتے تھے کہ دین محض عبادات یا دعووں کا نام نہیں بلکہ حلال روزی، حسنِ اخلاق اور عملی کردار کا مجموعہ ہے۔

آپ فرمایا کرتے تھے:

''شکم کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھنا اور اپنے آپ کو اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا ہی افضل ترین عبادت ہے۔''

یہ تعلیم دراصل اس معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام تھی جہاں دین کو صرف ظاہری رسوم تک محدود کیا جا رہا تھا۔ امامؑ نے بتایا کہ حقیقی عبادت انسان کے کردار، نیت اور عمل سے پہچانی جاتی ہے۔

آپ اکثر اپنے ماننے والوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے تھے:

''ہمارے شیعہ صرف وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔ صرف زبان سے اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویٰ کافی نہیں، کیونکہ خدا کا قرب صرف اطاعت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ہماری محبت اسی شخص کو فائدہ دے گی جو خدا کا فرمانبردار ہو، اور جو خدا کی نافرمانی کرے، اس کے لیے محبتِ اہلِ بیتؑ کا دعویٰ کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ لہٰذا دھوکے میں نہ رہنا۔''

امام محمد باقر علیہ السلام کے یہ ارشادات آج بھی ہر دور کے انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ دین صرف نسبتوں، نعروں اور دعووں کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، اطاعتِ الٰہی اور حسنِ کردار کا عملی راستہ ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے امام محمد باقر علیہ السلام کو صرف اپنے زمانے کا نہیں بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کا امام و رہبر بنا دیا۔

تحریر: آغا زمانی

- خبر رساں ایجنسی آناتولی  نیوز کے مطابق حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر صالح المربع نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک بیرونِ ملک سے 15 لاکھ سے زیادہ حجاج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جن میں 14 لاکھ سے زائد فضائی راستے سے، تقریباً 45 ہزار زمینی سرحدوں کے ذریعے، جبکہ قریب 6 ہزار سمندری راستے سے آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں حجاج کی آمد کی آخری مہلت اب اختتام کے قریب ہے۔

سعودی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ حج سیزن 2025 میں اندرون اور بیرونِ سعودی عرب سے مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 حجاج نے حج ادا کیا تھا۔

حج کا آغاز 8 ذی الحجہ، بروز پیر 25 مئی سے ہوگا، جبکہ مناسکِ حج چھ دن تک 13 ذی الحجہ (30 مئی) تک جاری رہیں گے۔ ان مناسک میں عرفات میں قیام، مزدلفہ میں شب بیداری، رمیِ جمرات، طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع شامل ہیں۔/

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے مخلص اور وفادار سپاہیوں کے سامنے کوئی بھی ظالم طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ انہوں نے خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایرانی جنگجوؤں کی بہادری کو سراہا۔

اتوار کے روز جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 24 مئی 1982 کو جنوبی شہر خرمشہر کی آزادی نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ امام خمینیؒ کے وفادار مجاہدین عزم، شجاعت اور قربانی کے جذبے سے سرشار تھے۔

اسپیکر پارلیمنٹ نے ممتاز فوجی کمانڈروں احمد کاظمی اور علی صیاد شیرازی سمیت دیگر شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر کمانڈروں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اور یہ سبق دیا کہ ایمان، منصوبہ بندی، جرات اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کامیابی کی ضمانت ہیں۔

محمد باقر قالیباف نے موجودہ ایرانی مسلح افواج کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے فوجی اہلکار ماضی کے عظیم کمانڈروں کے راستے پر گامزن ہیں اور ملک کے بہادر محافظوں کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ 1982 میں ایرانی مسلح افواج نے شدید لڑائی کے بعد صوبہ خوزستان میں واقع شہر خرمشہر کو صدام کی فوج سے واپس لے لیا تھا۔

رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔

رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔

خاتم الانبیاء مرکزی قرارگاہ کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی نئی جارحیت کا سخت جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ملک کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا ایسا جواب دیں گی جس پر دشمن کو شدید پچھتاوا ہوگا۔

جنگ رمضان کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کی عظیم مزاحمت اور کامیابی نے ثابت کر دیا کہ قوم کا خدا کی قدرت پر ایمان، اعتماد اور مقامی دفاعی صلاحیتوں پر انحصار عالمی سطح پر عزت، وقار اور اسٹریٹجک طاقت کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔

انہوں نے مزاحمت، استقامت، بیداری اور امریکی و صہیونی دشمن کے مقابلے میں ہوشیاری جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی طاقتور مسلح افواج اور رہبر انقلاب کی رہنمائی کی بدولت خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ کے خلاف دشمن کی سازشوں اور جارحیت کا خاتمہ کرے گا۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے مزید کہا کہ ہم دشمنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق رہبر انقلاب کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی خطے کے مستقبل کی ضمانت بنے گی۔

انہوں نے تاکید کی کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج ماضی کے تلخ تاریخی تجربات کو دوبارہ نہیں دہرانے دیں گی اور کسی بھی جارحیت کا جہنم جیسا اور پچھتاوے سے بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک بیان میں "آبادی، ایک کثیر الجہتی مسئلہ" کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔

علامہ مصباح یزدی آبادی کے بحران کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کی جڑ کو غلط اور بے دینی ثقافت میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ثقافتی سرمایہ کاری کے ذریعے دین کو زندہ کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر خدا اور انسانی اقدار پر اعتقاد درست ہو جائے تو دوسرے مسائل بھی اس کے سائے میں حل ہو سکتے ہیں۔

آبادی کا مسئلہ اور بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس مزید سنگین مسائل بھی ہیں جن کے معاشرے کے لیے کبھی کبھی فائدے بھی ہوتے ہیں۔

ایک طرف، حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اسی حالت پر خوش ہیں اور دوسری طرف، بہت سے نوجوان بچے پیدا کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، وہ آرام سے اور بغیر مشقت کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج معاشرے کی ثقافت یہی ہے۔

آبادی کی ترقی کی راہ میں متعدد رکاوٹیں ہیں جن کی جڑ سب کی سب غلط اور بے دینی ثقافت ہے۔

ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ جس سے دین زندہ ہو جائے، خدا پر اعتقاد، معنویت، ابدی زندگی اور انسانی اقدار کو نمایاں کیا جائے۔ اگر یہ حصہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل بھی درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمارا کوئی کام نتیجہ خیز نہیں ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی قانون بھی بنا دیں اور کچھ دن اس مسئلے پر توجہ بھی دیں لیکن کچھ عرصے بعد یہ سب بھول جائے گا اور وہی پرانی حالت رہے گی۔

میرے خیال میں ہمیں ثقافتی کام کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ اگر یہ مسئلہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل اس کے سائے میں درست ہو سکیں گے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی دہائیوں سے دینی اقدار شدت سے کمزور ہو رہی ہیں۔ یہ کام خاص طور پر ان ویب سائٹس، چینلز اور پروگراموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو مسلسل نوجوانوں اور حتیٰ کہ بچوں کو نہ صرف دین سے بلکہ خاندانی اقدار سے بھی بے رغبت کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا اسکریننگ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ثقافت بدل گئی ہے۔

(مرحوم علامہ مصباح یزدی کے بیانات سے ماخوذ، 6/10/1397 شمسی بمطابق 27 دسمبر 2018ء)

صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہفتے کی صبح کو تہران میں پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اور گفتگو کی۔

صدر مملکت نے اس موقع پر خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکام ایران کے برادر ہیں اور ہمارے رشتے مضبوط ہیں۔

انہوں نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کا اعضا قرار دیا اور کہا کہ امت مسلمہ کے سامنے اتحاد اور تعاون کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور اختلاف اور محاذآرائیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عالمی قوانین کی اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مکمل پابندی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ سے زور دیکر کہا کہ ہم اپنے عوام کے مسلمہ حقوق کے خواہاں ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور ماضی کے تجربات کے پیش نظر ہم سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں۔

صدر مملکت نے صاف انداز میں کہا کہ امریکہ اس تنازعے سے کامیاب ہوکر باہر نہیں نکل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں علاقے اور دنیا کے ملکوں کو بھاری نقصان پہنچے گا اور بس صیہونی حکومت ہے جو اس جنگ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے زور دیکر کہا کہ امریکہ کے ہاتھوں مسلسل عہدشکنی اور مذاکرات کے بیچ جارحیت اور اعلی عہدے داروں کے قتل کے نتیجے میں ایرانی عوام کو واشنگٹن پر ذرہ برابر بھروسہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر مذاکرات کو قبول کیا ہے لیکن تہران کا اصل ٹارگیٹ مناسب راستوں سے ایرانی عوام کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔

اس موقع پر پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے دوبارہ ملاقات پر اظہار مسرت کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کا سلام صدر ایران کو پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ بقول ان کے بخوبی آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان کے اس موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہ اسرائیل مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور محاذآرائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کہا کہ اسرائیل پاکستان سمیت جھڑپوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ہر کسی کا سنجیدہ دشمن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو خطے میں استحکام اور سلامتی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ وہ خطے میں صرف استحکام اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کا نتیجہ، ایران اور خطے کے تمام ممالک اور مسلمانوں کے حق میں ثابت ہو۔