ایران میں شادی کی تقریب پر امریکی حملہ جنگی جرم ہے، یمنی انسانی حقوق کمیٹی

Rate this item
(0 votes)
ایران میں شادی کی تقریب پر امریکی حملہ جنگی جرم ہے، یمنی انسانی حقوق کمیٹی

 یمن کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر کوہستک اور سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور ذمہ داروں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کمیٹی نے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شهرستان سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے کے ذمہ داران کو بین الاقوامی عدالتوں میں سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے صوبہ ہرمزگان کے ایک رہائشی علاقے اور وہاں جاری شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

کمیٹی نے اس واقعے کو مکمل جنگی جرم اور بین الاقوامی انسانی قوانین و جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بے گناہ شہریوں کے خون بہائے جانے اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی مکمل قانونی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کمیٹی نے اس واقعے کی فوری، آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کے عنوان سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یمن کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، دوہرے اور امتیازی معیار کی پالیسی ختم کریں اور اس حملے کی واضح مذمت کرتے ہوئے ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

کمیٹی نے اپنے بیان میں اقوام اور ممالک کے حق دفاع، حاکمیت اور سلامتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بہانے سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز قابل قبول نہیں ہے۔

Read 29 times