ایران نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کے وہم کو نچوڑ کے رکھ دیا ہے

Rate this item
(0 votes)
ایران نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کے وہم کو نچوڑ کے رکھ دیا ہے

فارن پالیسی میگزین نے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ہال برانڈز کی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنازع محض مشرق وسطیٰ کا علاقائی بحران نہیں تھا، بلکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیت کا ایک امتحان بھی تھا۔ مصنف کے مطابق اس جنگ نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر وسیع اثرات مرتب کرنے کے علاوہ واشنگٹن کی عالمی حیثیت اور سپر پاور ہونیکے ناطے ذمہ داریوں اور اس کے پاس موجود حقیقی وسائل کے درمیان خلیج کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق خلیج فارس میں جنگ نے میدان جنگ سے آگے بھی اثرات مرتب کیے ہیں اور عالمی تجارت، توانائی کی سیکورٹی، بحری جہاز رانی کی آزادی اور جیو پولیٹیکل مساوات کو متاثر کیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس بحران کے اہم ترین نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ امریکہ بیک وقت متعدد محاذوں پر کردار ادا کرنے میں بڑھتی ہوئی حدود کا سامنا کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے تنازع کے ابتدائی مراحل میں اپنی فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حکمت عملی کی کامیابیوں کا مطلب اسٹریٹجک اہداف کا حصول نہیں ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق جنگ کے جاری رہنے سے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا اور امریکی مسلح افواج پر دباؤ بڑھ گیا، یہ معاملہ اب واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ مصنف امریکی مطالعاتی مراکز کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جدید دفاعی نظاموں کی ایک قابل ذکر مقدار استعمال کر لی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاماہاک میزائل، جی اے ایس ایس ایم، ایس ایم-3 انٹرسیپٹرز، تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹم ان آلات میں شامل ہیں، جن کا امریکی فوجی حکمت عملیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہم کردار ہے اور ان تیاری اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے وسیع وقت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے بھی بہت سے امریکی ماہرین نے ایک طویل تنازع کا سامنا کرنے کے لیے امریکی ہتھیاروں کے محدود ذخائر کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ہتھیاروں کی موجودہ پیداواری شرح بتاتی ہے کہ ان میں سے کچھ ذخائر کی مکمل بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی افواج پر پڑنے والے دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ اور دیگر امریکی اسٹریٹجک آلات پچھلے چند مہینوں میں دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان بار بار منتقل کیے گئے ہیں۔ مصنف اس صورتحال کو واشنگٹن کی فوجی ذمہ داریوں کے اندازے سے زیادہ وسعت اختیار کرنے اور بیک وقت متعدد بحرانوں کے انتظام کی دشواری کی علامت قرار دیتا ہے۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں اس چیلنج کی جڑ کو گزشتہ برسوں سے جوڑا ہے۔ مصنف کے مطابق باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن تک مختلف امریکی حکام نے بار بار مشرقی ایشیا پر توجہ مرکوز کرنے اور چین کے ساتھ مسابقت پر زور دیا، لیکن مشرق وسطیٰ کی پیش رفت، یوکرین کی جنگ اور دیگر بین الاقوامی بحرانوں نے اس ہدف کو مکمل طور پر حاصل نہیں ہونے دیا۔ مصنف کے خیال میں امریکہ کی سب سے اہم اسٹریٹجک سوچ اب چین کے ساتھ مسابقت سے متعلق ہے۔ بیجنگ نے پچھلے چند سالوں میں اپنی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک وسیع پروگرام پر عمل کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے ارد گرد کے علاقوں میں فوجی تیاری بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

ایسے حالات میں، امریکی فوجی ذخائر اور صلاحیت کے ایک حصے میں کمی مشرقی ایشیا میں سلامتی کے محاسبات کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایشیا میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے بعض عہدیداروں اور ماہرین نے بھی واشنگٹن کے فوجی وسائل کے ایک حصے کو مشرق وسطیٰ میں منتقل کرنے کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایشیائی اتحادیوں کو کچھ فوجی آلات کی فراہمی میں تاخیر اور دفاعی نظاموں کے ایک حصے کی نقل مکانی نے مختلف بحرانوں کا بیک وقت جواب دینے کی امریکی صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ مصنف زور دیتا ہے کہ جنگ کے نتائج صرف کمزوریوں تک محدود نہیں تھے، اس تنازع نے یہ دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجیز بشمول ڈرون، ذہین نظام اور مصنوعی ذہانت مستقبل کے میدان جنگ میں بڑھتا ہوا کردار ادا کریں گی۔

اس جنگ کا تجربہ امریکی فوج اور دیگر طاقتوں کے لیے مستقبل کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ اب بھی وسیع فوجی، معاشی اور تکنیکی صلاحیتوں کا حامل ہے اور جیو پولیٹیکل مسابقت کا حتمی نتیجہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ، فوجی صنعتوں کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنا ان اختیارات میں سے ہیں جن پر امریکی پالیسی سازی کے حلقوں میں بحث ہو رہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ واشنگٹن کے لیے محض ایک علاقائی تصادم نہیں تھی، بلکہ یہ امریکی عالمی ذمہ داریوں کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔ آنے والے سالوں میں امریکہ کا ان چیلنجوں پر ردعمل عالمی طاقت کے توازن، اس کے 
 
اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور عظیم طاقتوں کے ساتھ مسابقت کے رجحان پر فیصلہ کن 
اثر ڈال سکتا ہے۔
Read 21 times