امام خمینی کی نظر میں اتحاد

Rate this item
(0 votes)

حضرت امام خمینی کے افکار و نظریات سے آگاہی حاصل کرنا جو اپنے زمانے میں اسلامی امۃ کے اتحاد کے سب سے بڑے منادی رہے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے ایران میں اسلامی الہی نظام کی بنیاد رکھی تھی اتحاد کا درد رکھنے والوں کے لۓ راہ گشا اور مشعل راہ ہے۔

انسان فطرتا توحید کی طرف مائل ہوتا ہے اور پوری تاریخ میں دیکھ لیں انسانی عقل نے جہاں خواہشات نفسانی اور اغراض شیطانی کا عمل دخل نہ تھا توحید کی اساس پر ہی عمل کیا ہے اور تنازعات ،پراکندگی اور تفرقہ کو انسانی معاشرے کے مفادات کے خلاف اور گمراہی کا باعث قرار دیا ہے۔

تمام انبیاء الھی علیھم الصلواۃ والسلام کی دینی دعوت کی اساس توحید پر ہی تھی انہوں نے توحید ہی کے سہارے انسان کو شرک و کفر و الحاد سے پاک کرنے کی کوشش کی،توحید کا عقیدہ اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے ۔

اسلام کے تمام مشرب خواہ فلسفی عرفانی اخلاقی کلامی یا تربیتی ہوں ان سب کی اساس توحید ہے اور وہ عالم ھستی کی تمام موجودات کو ذات وحدہ لاشریک کی آیات سمجھتے ہیں البتہ اہل تحقیق پر یہ پوشیدہ نہیں ہے کہ انسانی معاشرے کے اتحاد کی خواہش عقیدہ توحید کا ایک جلوہ ہے اور اس کے مقابل دھڑے بندی اور کثرت پسندی مادہ پرستی و کفر کی خصوصیات ہیں۔

قرآن مجید میں امت واحدہ کو حقیقی معنی میں سیر الی اللہ کا زینہ قرار دیا گیا ہے ارشاد رب العزت ہے ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون ۔

روز ازل سے حق و باطل کا اختلاف جس شکل میں یا جس سطح پر ہو توحید اور شرک کی بنیادوں پر رہا ہے

حضرت امام خمینی فرماتے ہیں "تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد و وحدت کلمہ رحمان کی طرف سے "

دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ عالمی ادارے جن کے وجود میں آنے کا مقصد اور ان کا نعرہ قوموں اور حکومتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا اور اختلافات ختم کرانا ہے اکثر موقعوں پر ناکام رہے ہیں بلکہ خود سامراج کے ہاتھوں استعمال ہو کر کشیدگی اور اختلافات کا سبب بنے ہیں گذشتہ دھائیوں میں سیکڑوں تنظیموں اور حکومتوں نے آپس میں تعاون اور اتحاد قائم کرنے کے معاھدے کۓ ہیں جن کے بارے میں وسیع تشہیرات کی گئیں جن سے دنیا کے باشندوں میں امیدیں پیدا ہوگئیں لیکن ان کا کوئي نتیجہ نہ نکلا اور ناکام رہے۔

ایک زمانے سے اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد کی بات کی جا رہی ہے بہت سے اسلامی ملکوں میں سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں نے اتحاد کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرلیا اور حکومت چلا رہے ہیں اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں اور مضمون بھی لکھے جا چکے ہیں اور خطباء مقررين اور مصنفین و دانشور اتحاد کی اہمیت پر تاکید کرتے رہتے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا میرے خیال میں ان ناکامیوں کی وجہ ان بنیادی امور میں تلاش کرنی چاہیے کہ جن پر توجہ کۓ بغیر ساری کوششیں بدستور ناکام رہیں گي۔

میرے خیال میں ان اداروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عقیدہ اتحاد اور فکری عقیدتی اصولی اور اخلاقی نظاموں کے درمیان موجود اٹوٹ بندھن کو واضح کریں ، کیا ہم توحید کا عقیدہ رکھتے ہوے خداۓ واحد پر ایمان رکھتے ہوے اور خدا کو قادر مطلق مان کر جب عمل کی نوبت آۓ تو اس کے برخلاف عمل کریں اور خلق خدا کے حالات سے بے خبر رہیں ؟

کیا ہم موحد رہتے ہوۓ‌ اصحاب تفرقہ کے گروہ میں شامل ہوسکتے ہیں؟ صدر اسلام میں جب توحید کی دلنشین آواز ان لوگوں کے کانوں میں پہنچتی تھی جو ظلم و شرک و بت پرستی سے تنگ آ چکے تھے تو جاہلی تعصبات فخر اور احساس برتری اور قوم پرستی کے جذبات فوری ختم ہوجاتے ہیں اور اختلافات و تفرقہ کے تمام سبب یہانتک کے سببی اور نسبی تعلقات بھی خداوحدہ لاشریک پر ایمان اور نور عبودیت کے سامنے بے رنگ ہوجاتے تھے ان لوگوں نے ایسا باکمال معاشرہ تشکیل دیا تھا کہ خدا نے انہیں خیر امت کا خطاب دیا اس معاشرہ میں ایسا اتحاد و یکجھتی پائی جاتی تھی کہ سیاہ فام غلام قریش کی بااثر اور سربرآرودہ شخصیتوں کے برابر سمجھا جاتا ہے بلکہ اپنے ایمان کی بنا پر ان سے آگے بھی نکل جاتا ہے ان ہی لوگوں نے ایسی شاندار تھذیب و تمدن کی بنیاد رکھی کہ ایران اور روم کی سلطنتیں بھی اس کے مقابل نہ ٹہر سکیں اور کچھ ہی دنوں میں اس تھذیب و تمدن نے ساری دنیا کے دل جیت لۓ ۔

 

تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی

 

 

امام خمینی کی نظر میں اتحاد(حصّہ دوّم)

ہمیں خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ قرآن و سنت میں "امت " پر بہت زیادہ تاکید کے با وجود ہم کیوں اس اہم امر سے غافل ہیں اور ہمارے معاشروں میں دوبارہ زمانہ جاھلیت کی عادات ،جغرافیائی اور قومی مسائل نے سر ابھارا ہے ؟ یہان تک کہ ہم ان مسائل کا شکار ہو کر ایک دوسرے کے مفادات اور تقدیر کو ایک دوسرے سے الگ الگ تصور کرنے لگے ہیں کیا ان ناپسندیدہ عادات سے ہمارے دینی مفادات کو خطرہ لاحق نہیں ہے ؟

جیسا کہ میں نے مضمون کے آغاز میں امام خمینی کا یہ قول نقل کیا تھا کہ "اختلاف و تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد و وحدت کلمہ رحمان کی طرف سے " تاریخ میں یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ حقیقی اتحاد پیدا کرنے کی آواز پر وہی لوگ لبیک کہتے ہیں جنہوں نے اپنی توحیدی فطرت کے مطابق بھرپور طرح سےتعلیمات توحید پر عمل کیا ہو ۔

اتحاد ‍‍ قائم رکھنا اور تفرقہ سے پرھیز واجب عینی ہے اس کی جڑیں عقیدہ توحید میں پیوست ہیں ،یاد رہے اصحاب تفرقہ شیطان کے دوست ہیں اور منادیان اتحاد رحمان کے مخلص بندے ہوتے ہیں جو امت کے مسائل سے بے خبر نہیں ہوتے۔

اسلامی انقلاب نے یہ حقیقت عملی طرح سے ثابت کردی ہے کہ تفرقہ و نفاق اتحاد کے سیلاب میں تنکے کی طرح نابود ہو جاتا ہے۔

تاریخ اس بات کو ھرگز فراموش نہیں کرسکتی کہ ایک مرد خدا نے خالی ہاتھوں صرف خدا پر بھروسہ کرتے ہوے اتحاد کی آواز بلند کی اور مومنین ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوۓ ان کے بتاۓ ہوۓ راستے پر قائم رہے ،نام نہاد ترقی یافتہ دنیا نے ان کے مقابل محاذ کھول دیا یہی نہیں ان کے تمام دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار دے کران کے خلاف لا کھڑا کیا لیکن ملت کا اتحاد اتنا طاقتور ہوتاہے کہ ملت ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی جب اسلامی انقلاب نے دشمن پر غلبہ حاصل کرلیا اور شاھی حکومت کے تمام ستون منھدم کردیے تو سامراج کے حمایت یافتہ چھوٹے چھوٹے سینکڑوں گروہوں نے انقلاب اسلامی کی مخالفت شروع کردی لیکن چونکہ ملت متحد تھی لھذا ان گروہوں کو ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا۔

 

 

تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی

 

 

امام خمینی کی نظر میں اتحاد (حصّہ سوّم )

امام خمینی نے جو قرآن کریم اور عارف اکمل حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ طاھرین علیھم السلام کے مکتب عرفان کے شاگرد تھے اس عالم کون کے موجودات کے حقیقی اتحاد کی پر اسرار گتھیاں سلجھا لی تھیں وہ اپنے فلسفی نظریات کے مطابق نہ صرف وحدت وجود کے قائل تھے بلکہ اسرار ربانی کے اھل حضرات کی مجلس میں تمام موجودات کی حقیقی وحدت کے نکات بھی بیان کرتے تھے۔

امام خمینی اپنی کتاب "چھل حدیث " میں جو عام لوگوں کے لۓ لکھی گئی ہے فرماتے ہیں کہ:

انبیاء عظام علیہم السلام اور شرایع بزرگ کے آنے کا ایک اھم مقصد جو بذات خود مستقل ھدف ہے اور دیگر اھداف کے حصول کا ذریعہ ہے نیز مدینہ فاضلہ کی تشکیل میں بنیادی کردار کا حامل ہے

عقیدہ توحید اور امت کا اتحاد ہے اسی مقصد کے تحت معاشرے کے اھم امور میں اتفاق اور اصحاب اقتدار کے مظالم کی جو بنی نوع انسان میں برائیوں اور مدینہ فاضلہ کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں روک تھام ہوتی ہے امام خمینی نے اس عظیم مقصد کے حصول کے لۓ بعض اھم مقدمات کا ذکر کیا ہے جن کے بغیر یہ مقصد یعنی اتحاد حاصل نہیں ہو سکتا امام خمینی فرماتے ہیں ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ یہ رحمت جاری رہے اور کوشش یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے الھی اقدار کا حامل ہونا چاھیے ،خدا کی راہ میں خدمت کرنا چاہیے خود کو خدا کے حکم کا تابع اور اس کی طرف سے ہونے اور اسکی طرف لوٹنے کا یقین رکھنا چاھیے اس طرح ہم اتحاد تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد رحمان کی طرف سے، امام خمینی اسلامی معاشروں میں اس اتحاد کو پائدار اور مقدس جانتے تھے جو خلل ناپذیر بنیادوں پر استوار ہو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کے تحت متحد رھنا چاہیے ،س کی اہمیت نہیں ہے کہ سب لوگ ایک امر پر متفق ہو جائيں بلکہ خدا کا حکم یہ ہے کہ سب مل کر خدا کی رسی کو تھام لیں، انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو مختلف امور پر متفق کرنا نہیں تھا بلکہ وہ انسان کو راہ حق پر اکھٹا کرنا چاھتے تھے۔

 

امام خمینی کے نزدیک اتحاد الھی اور شرعی فریضہ ہے آپ کی نظر میں اس سلسلے میں علماء مفکرین اور دانشوروں پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے آپ نے اس سلسلے میں بہت تاکید فرمائی ہے امام خمینی کا خیال تھا کہ اتحاد اور اسکے استحکام کے لۓ لازمی طور سے قربانیان دینی ہوں گي اس بارے میں آپ نے لوگوں کے لۓ عملی مثال قائم کی امام خمینی جس قدر اتحاد کی اھمیت پر تاکید کرتے تھے اتنی ہی اس کے لوازمات پر تاکید کرتے تھے آپ کا خیال تھا کہ اتحاد ضروری مقدمات اور اسکی طرف معاشرے کی قیادت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور پائدار نہیں ہوگا۔

تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی

 

Read 2650 times

Add comment


Security code
Refresh