حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت

Rate this item
(0 votes)
حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت
محقق: ڈاکٹر میر محمد علی

ابتدائیہ:
امام علی ابن موسیٰ الرضا (ع) کی شخصیت اورعہدامامت کے تجزیاتی مطالعہ کو میں قرآن مجید کے سورہ حج کی ٤١ ویں آیت سے شروع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُالزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا
بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَالِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ O


ترجمہ:
''وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں جب زمین پر صاحب اقتدار بنایا گیا تو انہوں نے نماز قائم کی،
زکوٰۃ ادا کی ،نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا اور ہر چیز کا انجام اﷲ ہی کے ہاتھ میں ہے۔''
اس آیت کی تفسیر میں امام حسین (ع) اور امام موسیٰ کاظم (ع) سے منقول ہے کہ ''یہ آیت مخصوص ہے ہم اہل بیت (ع) کے لئے'' اور تفسیر نور الثقلین کے بموجب حضرت امام محمد باقر (ع) نے کہا کہ یہ پوری آیت آلمحمد (ص) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
( سید صفدر حسین نجفی١ )
ان وضاحتوں کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی عمومیت میں یہ آیت تمام ائمہ اثناء عشری کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس آیت کے مندرجات کے پس منظر میں جب ہم امام رضا (ع) کی معنوی ، علمی اور سیاسی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو امام رضا (ع) ایک امتیازی حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں وہ اس طرح کہ ائمہ حقہ امامیہ میں حضرت امیر المومنین (ع) کی ظاہری خلافت کے بعد امام رضا (ع) ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے اپنے دور امامت میں ولی عہدی کے منصب پر فائز ہوکر مندرجہ بالا آیت میں بیان کردہ شرائط کی تکمیل کے ساتھ انتظام مملکت میں اعانت کی عملی مثال قائم کی اور بتایا کہ دین سیاست سے اور سیاست دین سے جدا نہیں بشرطیکہ یہ عمل احکام خداوندی کے تحت بجالایا جائے۔
اس مقالے میں تین بنیادی حوالوں سے امام رضا (ع) کی شخصیت پر بحث کی گئی ہے۔
١۔ امام (ع) کی معنوی اور روحانی شخصیت۔
٢۔ امام کی سیاسی بصیرت اور ولی عہدی کے مضمرات۔
٣۔ امام کے علمی فیوض۔

حالات زندگی:
امام علی الرضا (ع) کی تاریخ و لادت ١١ ذیقعدہ ١٤٨ھ(م ٢٩ دسمبر ٧٦٥ئ) روز جمعہ یاپنجشنبہ پر اکثر مورخین متفق ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کی ولادت کا سال آپ کے جد بزرگوار امام جعفر صادق (ع) کے سال شہادت کا ہم عصر ہے(بحار الانوار ۔ روضۃ الواعظین) لیکن بعض مورخین کے بموجب جن میں شیخ صدوق بھی شامل ہیں تاریخ ولادت ١١ ربیع الاول ١٥٣ھ روز پنجشنبہ ہے ۔( عیون اخبار رضا، مروج الذہب)
لقب رضا کی وضاحت۔ ہمارے ائمہ علیہ السلام کے نام، لقب اور کنیت میں ایک خاص پیغام ہوتا ہے ( مثلاً سجاد (ع)، باقر(ع)، صادق (ع) وغیرہ ) ابن جریر طبری نے سال ٢١ھ کے واقعات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس سال مامون رشید نے امام علی بن موسیٰ بن جعفر(ع) کو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور ان کو ''الرضا من آلِ محمد (ع) '' کے نام سے مخصوص کیا۔ البتہ ابن خلدون نے ''الرضا '' کی جگہ ''الرضی '' تحریر کیا ہے۔ لیکن محمد جواد معینی(٢) (مترجم) کتاب '' امام علی بن موسیٰ (ع) الرضا (ع)'' نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ دلیل دی ہے کہ اس لقب کا ولی عہدی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مامون رشید کے وزیر خاص فضل بن سہل نے امام کے نام اپنے تمام پیغامات میں الفاظ '' بعلی بن موسیٰ الرضا (ع) '' سے مخاطب کیا ہے جو اس لقب کی قدامت پر دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ابوالحسن ، ابو علی اور ابو محمد آپ (ع) کی کنیت ہیں۔ امام (ع) کے رضا (ع) کے علاوہ اور بھی القاب ہیں جنہیں سراج اﷲ ، نور الھدیٰ ، سلطان انس وجن، غریب الغربا اور شمس الشموس وغیرہ ہیں جو آپ کی زیارتوں میں شامل ہیں۔
امام علی الرضا (ع) کی والدہ کا نام تکتم، نجمہ، خیزران، نجیہ اور طاہرہ تھا، آپ کا شمار عجم کی اشرافیہ سے تھا، آپ کی ازواج میں حضرت سبیکہ امام محمد تقی جواد(ع) کی والدہ تھیں۔ آپ کی زوجین کی نسبت سے امِ حبیبہ دختر مامون رشید کا نام بھی لیا جاتا ہے لیکن اس کی سند میں مورخین میں اختلاف ہے۔
امام کی اولاد کے سلسلہ میں مورخین میں دو امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اولاً یہ کہ ام حبیبہ کے بطن سے امام کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ دیگر یہ کہ سبیکہ نامی خاتون امام تقی جواد کی والدہ ہیں۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ ابن شہر آشوب، محمد بن جریر طبری، شیخ مفید اور طبرسی کے بموجب سوائے امام محمد تقی کے امام کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔ لیکن بعض روایات کے لحاظ سے امام (ع) کے دو فرزند محمد اور موسیٰ (ع) ، یا محمد و جعفر(ع) اور بعض کے مطابق پانچ فرزند اور ایک دختر تھی۔ امام کی اولاد کے سلسلہ میں جناب آغا مہدی لکھنوی ، (٣) نے اپنی کتاب ''الرضا '' میں ١٨ حوالوں سے یہ وضاحت کی ہے کہ امام (ع) کی ایک سے زیادہ اولاد تھی ان حوالوں میں صاحب کشف الغمہ، عبدالعزیز بن اخضر،ابن خشاب، سبط ابن جوزی اور شیخ ابراہیم کفعمی شامل ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ امام جعفر صادق (ع) کے بعد اسماعیل کے بارے جو غلط فہمی پیدا کی گئی اس کی تکرار کے سدباب کے لئے امام نے خود اپنی زندگی میں اولاد کو منتشر کردیا ہو اور خطرہ برطرف ہونے پر اپنے اولاد امام ہونے کا اظہار کردیا ہو۔
امام کی شہادت ٢٠٣ھ میں واقع ہوئی۔ ٢٥ رجب ١٨٣ھ ( م یکم ستمبر ٧٩٩ئ) کو امام موسیٰ کاظم کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ اس طرح امام رضا تقریباً ٣٥ سال اپنے والد بزرگوار کی سرپرستی میں گزارے لیکن اس دوران کئی موقعوں پر امام موسیٰ کاظم (ع) ہارون رشید کی قید کی سختیاں برداشت کرتے رہے اور یوں آپ شفقت پدرانہ سے زیادہ عرصہ تک محروم رہے، علامہ نجم الحسن کراروی (٤) نے والد کی شہادت کے وقت امام کی عمر ٣٠ سال بتائی ہے۔

اعلان امامت :
شیعہ عقیدہ کے بموجب امامت ایک وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اﷲ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام (ع) آنے والے کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس عمل کو نص کہتے ہیں یعنی منشائے الہٰی کا اظہار، امام موسیٰ کاظم (ع) نے اپنی زندگی میں ہی اہلبیت کی ممتاز شخصیتوں کے سامنے اپنے فرزند علی کی جانشینی کا اعلان فرمایا تھا ( حسن امداد۔ ترجمہ بحارالانوار۔٥)۔ ١٨٣ھ میں اپنے والد کی شہادت پر امام رضا (ع) نے اپنی امامت کا اعلان کیا۔ آپ ؑ کے اصحاب کو اس دور کے حالات اور بالخصوص امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے واقعات کے بعد یہ ڈر تھا کہ کہیں ہارون آپ ؑ کو گزند نہ پہونچائے۔ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام کا قول ہے کہ'' اگر ابو جہل میرا ایک بال بھی بیکا کرسکے تو گواہ رہنا میں پیغمبر نہیں ہوں۔ '' اس طرح ''اگر ہارون مجھے نقصان پہونچا سکے تو میں امام (ع) نہیں ہوں۔''( سید محمد صادق عارف ۔٦)
امام علی رضا (ع) نے اپنے ٥٥ سالہ دور زندگی میں چھ خلفا بنی عباس یعنی ، منصور، مہدی، ہادی، ہارون، امین اور مامون کا دور حکومت دیکھا، آپ ؑکی امامت کے ابتدائی دس سال کے دوران ہارون رشید کی خلافت تھی اس دور ان بغداد میں ہارون کے ظلم وستم کا بازار گرم تھا، ہارون کا ١٩٣ھ ( م ٨٠٩ئ) میں انتقال ہوا اس کے بعد ١٠ سال ہارون کے بیٹوں امین اور مامون کا دور خلافت تھا۔
امام کا ابتدائی دور۔ ہارون کے زوال کے آثار:
ہارون رشید کی خلافت کے آخری ایام انتہائی کشمکش اور اندرونی سازشوں کی دفاع میں گزرے۔ عوام اس کے ظلم و ستم سے بیزار اور باالخصوص دوستداران اہلبیت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد حکومت سے بدظن تھے۔ اس کوشش میں کہ عوام کو خوش رکھا جائے اور ان کے اعتماد حاصل کرنے کی خاطر ہارون کبھی مولائے کائنات(ع) کی فضیلت اور برتری کی باتیں کرتا اوربعد پیغمبر خلافت پر ان کے حق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا، معاویہ پر لعنت کو اس نے رسمی شکل دیدی تھی اور فدک کو علویوں کو واپس کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن ان اقدامات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد اس کا رویہ بدل گیا تھا۔ عیسیٰ جلودی کے ذریعہ سادات مدینہ کی اور اہلبیت کے مال و اسباب کی لوٹ مار کے واقعات اس کے شاہد ہیں ( صادق عارف ) ایک اہم عنصر جو ہارون کی پریشانی کا باعث تھا وہ اہل خراسان کا رویہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب بنی امیہ کے مظالم اپنی انتہاء کو پہونچ گئے تو ابو مسلم خراسانی نے ''دعوت رضائے آلِ محمد ؑ '' کے نام سے ایک تحریک شروع کی جس نے بالآخر بنی ہاشم کے طرفداروں کی جدوجہد کے نتیجہ میں بنی امیہ کی حکومت کو درہم و برہم کردیا۔ مگر جب عنانِ حکومت بنی عباس کے ہاتھ میں آنے کے بعد بھی اہل خراسان کو مایوسی رہی اور ''حق بحقدار'' نہیں ملا تو انہوں نے حکومت بغداد کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا۔ ان حالات کے نتیجہ میں ہارون نے محسوس کیا کہ بغداد میں بیٹھ کر خراسان کا انتظام نہیں چلا یا جاسکتا( علامہ ابن حسن جارچوی۔٧)۔
بالآخر ہارون رشید نے سلطنت بنی عباس کے انتظام اپنے تینوں بیٹوں امین، مامون اور قاسم میں تقسیم کردیا۔ امین کو جس کی ماں زبیدہ جو عربی نسل تھی منصور دوانیقی کے قبیلہ سے تھی اور مامون عیسیٰ بن جعفر سیاسی اہمیت رکھتا تھا اس نے عراق اور شام کا علاقہ سپرد کردیا جس کا دار الخلافہ بغداد تھا۔ اس طرح سے وہ عباسیوں پر قابو پانا چاہتا تھا۔ مامون کو جس کی ماں عجمی کنیز تھی ہمدان سے آگے ایران کے تمام علاقوں کا انتظام سپرد کردیا تاکہ عجمیوں کو زیر قابو رکھ سکے اس کا صدر مقام مرو( خراسان) تھا۔ باقی اطراف کے علاقے قاسم کے تسلط میں دیئے گئے۔
اس تقسیم کے نتیجہ میں بھائیوں کے درمیان یہ بھی معاہدہ ہوا تھا کہ امین کے بعد خلافت مامون کو ملیگی ۔ لیکن بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت کی اس انتظامی تقسیم نے امین اور مامون کے درمیان پہلے سے موجود نسلی تعصبات کو مزید ہوا دی۔ ہارون رشید کے انتقال ( ١٩٣ھ م ٨٠٩ئ) کے بعد دونوں بھائیوں میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ امین نے تقسیم کے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے موسیٰ کی بیعت کا حکم جاری کیا۔ حالات میں مزید سنگینی اس وقت پیدا ہوگئی جب محمد ابن ابراہیم طباطبا نے جو علویوں کی جانی شخصیت تھی بھائیوں میں اس محاذ آرائی کے دوران کوفہ سے یمن تک قبضہ جمالیا اور بغداد میں جہاں بنی عباس کا زور تھا علویوں کی شورش کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ چار سال کی معرکہ آرائی کے بعد امین کو شکست ہوئی اور وہ ١٩٨ھ میں قتل کردیا گیا اور مامون سلطنت بنی عباس کا خلیفہ بن گیا۔ ان تمام واقعات کے دوران امام رضا (ع) مدینہ میں مقیم رہے اور ہدایت ورشد کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے اس طرز عمل پر حکومت کی جانب سے کوئی تعرض نہیں تھا کیونکہ اس دوران حکومت اپنے اندرونی خلفشار سے نبردآزما تھی۔

امام رضا (ع) کی شخصیت:
شیعہ ائمہ کی شخصیت کے مطالعہ کے سلسلہ میں ان کی معنوی ،علمی اور سیاسی زندگانی کا جائزہ ضروری ہے۔ معنوی یا روحانی زندگی سے مراد وہ خصوصیات ہیں جو خدا کی خاص عنایات کے طور پر ان کے اور خدا کے درمیان ایک رشتہ استوار کرتی ہیں یہ ان کے عبادات ، تقویٰ اور اخلاق کی عکاسی کرتا ہے ۔ امام کی معنوی خصوصیات کے ضمن میں خود امام رضا (ع) فرماتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ امام (ع) تمام افراد سے دانا ترین، پرہیز گار، بردباری اور دلیری ، بخشش اور پارسائی میں سب سے افضل ہو۔ ان صفات کی موجودگی اس لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر کے بعد وہ احکام رسالت کا اجرا کنندہ ہے اور دین کے مبہم نکات اور دقیق مسائل جو عام انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں ان کی وضاحت امام کی ذمہ داری ہے۔ ( صادق عارف)

شخصیت معنوی:
امام (ع) کی شخصیت معنوی کے ضمن میں نجم الحسن کراروی لکھتے ہیں کہ امام (ع) گفتگو میں بیحد نرم مزاج تھے۔ جب بات کرنے والا اپنی بات ختم کرلیتا تب اپنی طرف سے کلام کا آغاز فرماتے۔ کسی کے کلام کو قطع نہیں کرتے۔ راتوں کو کم سوتے۔ اکثر روزہ رکھتے تھے مزدور کی مزدوری پہلے طے فرماتے پھر اس سے کام لیتے ۔ مشہور شاعر ابو نواس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس کے آباء واجداد کے آستانہ کا جبرئیل خدمتگار تھا اس کی مدح محال تھی۔ عبداﷲ بن مطرف بن ہامان سے مامون رشید نے امام رضا (ع) کی بابت دریافت کیا تو اس نے برجستہ کہا کہ اس کے بارے میں کیا کہوں جس کی طینت رسالت میں پیوستہ اور اس کی سرشت میں وحی ہے۔ ( جواد معینی /احمد ترابی) امام رضا (ع) اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں خلق پیغمبر کی ایسی تصویر تھے کہ بے اختیار رسول اکرم (ص) کا خلق یاد آجاتا تھا۔
امام (ع) کی شخصیت کے اخلاقی اور روحانی اوصاف کے ضمن میں حسب ذیل حوالوں کا ذکرضروری ہے۔
١۔ امام کے اخلاق کے پر توان کے بے شمار اقوال اور احادیث میں عیاں ہے۔ مولانا روشن علی نجفی نے'' گفتار
دلنشین چہار دہ معصوم علیہ السلام'' کے اردو ترجمہ میںچہاردہ معصومین (ع) میں سے ہر ایک کے حوالہ سے ٤٠اقوال
اوراحادیث نقل کیا ہے۔ امام رضا (ع) کی احادیث میں ایمان ،قران ، توحید ، مومن کی خصوصیات اور فلسفہ نماز کا ذکر ہے۔
٢۔ امام (ع) نے ذاتِ تعالیٰ کے اوصاف کی نسبت سے حروف تہجی کے ہر حرف کے پنہاں معنی پر بصیرت ، افروز
تبصرہ فرمایا ہے ۔ (سید غلام نقی )
٣۔ امام کے روحانی لتصرفات اور معجزات سے متعلق معلومات میں مرزا محمد علی خراسانی نے انگریزی میں زائرین
مشہد کے حوالہ سے امام (ع) کے ٣٤ معجزات تحریر کئے ہیں۔ عباس حیدر سید نے اپنی تالیف ''الحمد لللّٰہ'' میں
امام رضا (ع) کے ١٠ معجزات شامل کئے ہیں ۔
ائمہ علیہ السلام کی شخصیتوں کو سمجھنے کے لئے تاریخی بخل کے کوہ گراں کی رکاوٹوں کو تحقیق اور تجسس سے عبور کرنا ضروری ہے اس جستجو میں ہمیں فضل اﷲ بن روز بہان اصفہانی نظر آتے ہیں جو اپنی بعض تالیفات کی وجہ سے فریقین میں متنازع شخصیت ہیں ، لیکن چہاردہ معصومین (ع) پر صلوات کے موضوع پر اپنی کتاب ''وسیلۃ الخادم الی المخدوم'' میں آپ نے امام رضا (ع) کو احسان اور مودت کا پیکر، توحید کی نشانیوں کو رفعت عطا کرنے والا اور کمال علم و معرفت کے القاب سے یاد کیا ہے۔ ( نثار احمد۔ مترجم۔٨)

امام رضا (ع) اور عہد مامون رشید:
امام رضا (ع) کی زندگی کے آخری ١٠ سال جو کہ عہد مامون کے ہم زمان تھے تاریخی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس اہمیت کو سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ ماضی میں جانا ہوگا۔ واقعہ کربلا کے بعد خاندان رسول اور عام مسلمانوں کے درمیان جو رابطہ منقطع ہو گیا تھا ائمہ صادقین (ع) نے اپنے دور مدینہ میں اسلامی درسگاہ قائم کر کے اس کو بحال کردیا تھامیں یہاں ایک وقت میں ہزاروں طالبِ علم جمع ہوتے تھے۔ لیکن بہت جلد حالات بدل گئے۔دوسری صدی ہجری کے وسط تک ہارون رشید نے بنی عباس کی سلطنت کو عروج پر پہونچا دیا اور امام موسیٰ کاظم (ع) کی ایک طویل عرضہ کی قید تنہائی میں تشیع کی دنیا میں ایک خاموشی چھانے لگی اور ملوکیت نے واقعہ کربلا کو عوام کے ذہنوں سے مٹانے کی اپنی کوششوں کو تیز کردیا۔ صرف مدینہ اور حجاز کے کچھ حصوں میں فقہا اور دانشوروں کی حد تک اہلبیت کا ذکر محدود ہو گیا۔ ان حالات میں ١٨٣ھ میں امام (ع) ہفتم کی شہادت کے بعد امام رضا (ع) نے اپنی امامت کا اعلان کردیا تھا۔ امین کے قتل کے بعد امام رضا (ع) کے حوالہ سے مامون رشید کے لئے تین راستے تھے۔(١) اپنے آباء کی پیروی میں امام کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو امام کے والد کے ساتھ روا رکھا گیا یعنی قتل کردینا ، لیکن اس میں عوام کے غم وغصہ کا امکان تھا۔ ( ٢) امام (ع) کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا مگر اس میں وہ اپنی سلطنت کے لئے خطرہ سمجھتا تھا یا (٣) پھر امام کو اپنے سیاسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنالیتا، مورخین نے مامون رشید کو خلفائے عباسی میں بطور ایک طاقتور ترین، باہوش، دانشمند اور میانہ رو فرد کے طور پر پیش کیا ہے۔ امین کے قتل کے بعد مامون نے حالات کے تقاضوں کے تحت آخری متبادل صورت پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون نے یہ فیصلہ کیا کہ امام رضا (ع) کو خلافت کی پیشکش کی جائے۔ یہ ایک سیاسی چال تھی، جو شخص جاہ و اقتدار کے لئے اپنے بھائی کو قتل کردے یکایک اتنا انصاف پسند کیسے ہو گیا کہ آلِمحمد (ص) کو خلافت کا حقدار سمجھنے لگا۔ محسن مظفر ( ٩) نے مامون کے اس رویہ اور شیعیت کی طرف جھکاؤ کو ایک بناوٹی اور غیر فطری عمل قرار دیا ہے۔ اس فیصلہ میں مامون رشید کی نیت یہ تھی کہ امام (ع) کو اپنے رنگ میں رنگ لے اور دامن تقویٰ اور فضیلت کو داغدار کردے۔ اگر امام خلافت قبول کرلیں تو وہ اپنے لئے ولی عہد کی شرط پیش کرتا اور اس طرح اپنا استحقاق ثابت کرتا۔ امام رضا (ع) کو خلافت تفویض کرنے کے منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون چاہتا تھا کہ امام کو مرو بلایا جائے جو اس زمانہ میں خراسان کا مرکزی شہر تھا۔ شیخ مفید، شیخ صدوق، مسعودی اور کلینی جیسے مستند حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مامون نے امام رضا (ع) کے نام خط بھیجا اور مرو آنے کی دعوت دی۔ امام (ع) نے عذر ظاہر کیا لیکن مامون کے مسلسل خطوط کے نتیجہ میں امام (ع) نے محسوس کیا کہ مامون اس امر سے دستبردار نہ ہوگا اور آپ نے مدینہ سے مرو سفر کا ارادہ کرلیا۔

سفر امام رضا (ع)، مدینہ تا مرو:
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ ائمہ کے دو سفر ہیں جن کے درمیان تقریباً ١٤ سال کا زمانی فاصلہ ہے یعنی ٤٠ھ میں مدینہ سے امام حسین (ع) کا کربلا کا سفر اور ٢٠٠ ھ میں امام رضا (ع) کا مرو کا سفر۔ ان کی چند خصوصیات ہیں۔
١۔ امام حسین (ع) نے کربلا جانے کا فیصلہ اپنی صوابدید پر کیا۔ ( آزادانہ)
٢۔ امام رضا (ع) کا مدینہ سے مرو کا سفر مامون رشید کی درخواست پر ہوا۔
٣۔ امام حسین (ع) نے اپنے سفر کی راہ اور قیام کے مقامات خود طے کئے تھے۔
٤۔ امام رضا (ع) کے سفر کی راہ مامون کی ہدایات کے تحت منظم کی گئی تھی۔
٥۔ امام حسین (ع) اپنے ساتھ اپنے اہلبیت اور معتمداصحاب کو لے گئے تھے۔
٦۔ امام رضا (ع) نے خاندان کی کسی فرد کو ساتھ نہیں رکھا تھا۔
٧۔ امام حسین (ع) کے سفر کا ہدف حق و باطل میں خط فاصل کھینچنا تھا۔
٨۔ امام رضا (ع) کے سفر کا مقصد کربلا کے معرکہ کے ثمرات کی حفاظت اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ تھی۔
امام رضا (ع) کے مدینہ سے مرو کے سفر کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ قابل توجہ ان شہروں کا محل وقوع اور ان کی تاریخ ، سیاسی اور جغرافیائی اہمیت تھی جہاں سے امام گزرنے والے تھے۔ جواد معینی اور محمد ترابی کے مطابق امام (ع) کے سفر کے رستہ کے تعینی میں اس امر کو پیش نظر رکھا گیا کہ کاروان ایسے شہروں سے دور رہے جہاں دوستداروں اہلبیت کا غلبہ ہو۔ اس زمانہ میں مدینہ سے مرد تک دو مروج راستے تھے۔ ایک براہ بصرہ، اھواز، دشت لوط، فارس، نیشا پور سے گزرتا ہوا مرو پہونچا تھا جبکہ دوسرا کوفہ، بغداد، قم اور خراسان کی راہ تھا جس میں کوفہ، بغداد اور قم سیاسی لحاظ سے حساس سمجھے جاتے تھے۔ کوفہ شیعیان علی کا اجتماعی مرکز شمار ہوتا تھا اور بنی امیہ اور بنی عباس کے خلاف تحریک کا مضبوط مرکز رہا تھا، بغداد مامون کے سیاسی مخالفین اور متعصب عباسیوں کا مرکز تھا جو امین اور مامون کے درمیان کشمکش میں مخالف مامون رویہ اختیار کر گئے تھے۔ شہر قم کا شمار ان چند شہروں میں تھا جہاں دلوں میں خاندان علی (ع) ابن ابی طالب کی محبت موجزن تھی، ان سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر مورخین کا اتفاق ہے کہ امام رضا (ع) کے سفر کے لئے بصرہ، بناج، اھواز، اراکی، دشتِ لوط ، نیشاپور، طوس اور سناباد کا راستہ منتخب کیا گیا حالانکہ اس راستے میں زیادہ صعوبتیں تھیں۔

تفصیلاتِ سفر:
جلیل عرفان منش (١٠) نے اپنی کتاب '' جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا (ع) از مدینہ تا مرو'' میں اس سفر کی تفصیلات تحریر کی ہے جس کے بموجب مدینہ سے مرو کے سفر میں مامون نے رجاء ابن ابی ضحاک اور یاسر خادم کو بطور نگراں مقرر کیا تھا۔ امام (ع) کے خاص خادم ابا صلعت ہروی بھی ساتھ تھے۔ امام (ع) کی قبر رسول(ص) سے وداع کا منظر امام حسین (ع) کی رخصت سے بالکل مشابہ تھا۔ امام (ع) نے فرمایا کہ غربت میں میری رحلت ہوگی اور ہارون کے باز و دفن ہونگا۔ امام نے اپنے فرزند امام محمد تقی(ع) کو اپنا قائم مقام مقرر کرتے ہوئے اصحاب اور اعزہ کو ان کی ہدایات پر عمل کی تلقین کی۔ بعض روایات کے مطابق مدینہ سے امام نے مکہ کا ارادہ کیا لیکن جلیل عرفان نے مکہ کے سفر کو خارج از امکان قرار دیا کہ اولاً وہ خراسان کی مخالف سمت میں واقع تھا مزید برآں اس زمانہ میں مکہ میں محمد دیباج اور ابن افطس جو امام زین العابدین(ع) کی اولاد ہیں حاکم وقت کے خلاف قیام کیا ہوا تھا۔ اس وقت کے محدود ذرائع ابلاغ میں یہ سفر اہلبیت کی حقانیت کو نشر کرنے میں بیحد مثبت اثرات کا حامل تھا۔ سفر کے دوران امام (ع) کے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا جس میں سے چند یہ ہیں۔
٭ اھواز میں طبیب کو علاج کے لئے ایک نامعلوم درخت کے پتہ کی نشاندہی کرنا۔
٭ نیشاپور میں ٣٤ ہزارر اویوں کے سامنے حدیث سلسلۃ الذھب یعنی کلمۃ لا الہ الا اﷲ حصنی من دخل
حصنی امن بشر طہاوشرو طہا و انا من شرو طہا، کا اعلان اس میں ولایت کی شرط کے ذریعہ
''امام والے اسلام '' کے مقابلے میں ''ملوکیت کے اسلام '' کی نفی کردی۔
٭ نیشاپور میں چشمہ کابرآمد ہونا جو آج تک جاری ہے۔
٭ کوہ سنگی میں برتن بنانے کے پتھروں کا نرم ہوجانا جو آج تک موجود ہے۔
٭ بناج میں محمد بن عیسیٰ حبیب بناجی کو اس کے خواب کی تعبیر میں مثل آنحضرت صرف ١٨ کھجور دینا۔
( بحار الانوار ، صواعق محترقہ، عیون اخبار رضا )
تقریباً ایک سال کے سفر کے اختتام پر امام رضا (ع) ٢٠١ھ کے پہلے نصف ( م یکم مئی ٨١٧ئ) مرو میں وار د ہوئے۔ مرو پہونچنے پر مامون نے اور اہل خراسان نے امام کا شایان شان استقبال کیا۔ زمانہ گذشتہ میں بے شمار سیاسی اور مذہبی تحریکوں کے مرکز کی وجہ سے یہاں کے لوگ آزاد خیال اور کھلے دل والے تھے (ابن حسن جارچوی)۔ یکم رمضان المبارک ٢٠١ھ بروز پنجشنبہ امام کی ولی عہدی کا جلسہ منایا گیا اور لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔اس موقع پر مامون نے ''حلف نامہ ولی عہدی'' خود تیار کیا تھا جو بطور ضمیمہ مقالہ میں موجود ہے۔ امام (ع)کی ولی عہدی کے اعتراف میں جمعہ کے خطبہ میں آپ (ع) کے نام کا اضافہ کیا گیا اور حکومت کے سکوں پر آپ کا نام نقش ہوا۔ انہی سکوں کو عقیدتمندوں نے بعد کے دور میں بطور تبرک اور ضمانت سفر کے دوران اپنے پاس رکھنا شروع کیا جس سے رسم امام ضامن (ع) کی بناء پڑی۔ ( آغا مہدی)

شخصیت سیاسی:
حضرت امام رضا (ع) کا مامون رشید کی ولی عہدی قبول کرنا امور مملکت میں ائمہ کی شراکت کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ امام (ع) کے اس فیصلہ کے محرکات سمجھنے کے لئے جب ہم ائمہ حقہ کے ٣٥٠ سالہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بدلتا ہوا نقشہ نظر آتا ہے جس میں ہر امام نے اپنے دور کی حالات کے تقاضوں کے تحت ایک خاص حکمت عملی اختیار کیا۔ مثلاً علی ؑ نے ٣٤ سال خاموشی کے بعد اپنے زمانہ میں معاشرہ کی اصلاح، مخالفین سے جنگ اور مشکل فیصلوں کو امت کی اخلاقی، علمی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے ضروری سمجھا (نہج البلاغہ) امام حسن (ع) نے معاویہ کے ساتھ صلح کو ناگزیر جانا، اس کے برعکس حسین (ع) ابن علی ؑ نے شرائط صلح کی خلاف ورزی پر ایک نئے عنوان سے ہجرت اور جہاد کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان خط کھینچا، لیکن بعدِ کربلا امام سجاد ؑ نے ہدایت کے پیغام کودعاؤں کے پیرا ہن میں ملبوس کردیا جبکہ امام صادقین ؑ نے اموی اور عباسی خلافتوں کے درمیان انتقال اقتدار کی کشمکش کے وقفہ کو علوم و معارف اسلامی اور فقہ محمدی کی ترویج و اشاعت کے لئے بھر پور استعمال کیا، امام موسیٰ کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے بعد ائمہ نے بغداد اور سامرہ کے قید خانوں کی گوشہ نشینی سے پیغام حق پہونچا یا جبکہ امام رضا (ع) نے ولی عہدی قبول کر کے ایک منفرد اقدام کیا۔ اگر حالات کے تناظر میں ائمہ کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے تو یہ نہ تو ان کی صلاحیت یا فہم میں فرق کی نشاندہی ہے اور نہ فکر کا اختلاف ہے کیونکہ اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہ تمام ہستیاں اپنے مقصد و ہدف میں متحد تھے، ہر ایک کا مقصد صرف خدا کی ذات، اس کے دین کی ترویج اور کتاب اور سنت کے ذریعہ بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے سلسلہ کی حفاظت کرنا تھا جس کے لئے سید الشھداء ؑ نے عظیم قربانی دی تھی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر علی شریعتی اپنی کتاب ''تشیع'' میں لکھتے ہیں کہ امام صادق (ع) کے بعد تقریباً ٥٠ سال کے عرصہ میں استعماری قوتوں کے پروپیگنڈہ کے تحت عوام واقعہ کربلا کی اہمیت سے بے بہرہ ہورہے تھے اور تشیع کی تحریک اور اہلبیت کے علمی اور فکری جہادوں کی یاد محو ہو رہی تھی، اس لئے امام رضا (ع) کے لئے ضروری تھاکہ ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ ائمہ کی گذشتہ ٥ نسلوں کے تاریخی فاصلوں کو قریب لاسکے۔ امام صادق (ع) کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہوچکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حد تک باقی رہ گیا تھاجبکہ امام رضا (ع) اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے۔جس کے لئے امام (ع) کو ایک مرکزی مقام کی ضرورت تھی۔ (سیدمحمد موسیٰ رضوی) اس صورت حال کو جب ہم امام (ع) کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں تو امام (ع) جانتے تھے کہ ولی عہدی کی پیشکش میں مامون قطعی مخلص نہیں تھا بلکہ وہ امام کو اپنے اور بنی عباس کے مخالفین بغداد کے علویوں اور خراسان کی تحریکوں کے مقابل بطور بند باندھنا چاہتا تھا۔ لیکن امام (ع) نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ فیصلہ کیا کہ اس موقع کو جو دشمن نے اپنی احتیاج کے تحت فراہم کیا ہے خود اس کے خلاف استعمال کریں اور شیعیت کی تحریک کو زندہ کریں یہ بھی امکان تھا کہ اگر وہ مامون کی پیشکش قبول نہ کرتے تو وہ یا تو قید کردیئے جاتے یا قتل کر دیئے جاتے جو اس زمانہ کا معمول تھا۔ امام رضا (ع) مامون کے خلاف کسی فوج کشی کی تیاری نہیں کر رہے تھے بلکہ جس علمی مبارزہ کے ذریعہ وہ پیغام حق پہونچانا چاہتے تھے اس کےلئے ایک موافق ماحول کی ضرورت تھی۔ امام رضا (ع) بھی خود اپنے علم امامت سے جانتے تھے کہ وہ اس نوعیت کی خلافت کے لئے ناموزوں ہونگے، جو مامون پیش کر رہا تھا اور ان کے لئے دائرہ امامت سے بالکل باہر آجانا مناسب نہیں ہوگا اس لئے امام (ع)نے مامون رشید کی خلافت کی پیشکش کی سختی سے مخالفت کی۔ اس ضمن میں امام (ع) اور مامون رشید کے درمیان طویل گفتگو ہوئی بالآخر مامون کے شدید اصرار پر آپ (ع) نے فرمایا کہ'' خدا نے انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے۔''( اشارہ قتل کا امکان ہے) لہٰذا امام (ع) نے مشروط ولی عہدی قبول کی کہ وہ حکومتی کاروبار سے علیحدہ رہیں گے۔ لفظی یا عملی امرونہی کو انجام نہیں دیں گے۔( احکامات صادر کرنا) اور صرف دور سے رہنمائی کے فرائض انجام دیں گے۔ (جلیل عرفان)
اس منزل پر مکتب اہلبیت اور ان کے مزاج سے واقف افراد یہ سمجھنا چاہیں گے۔ کہ حکومتی عہدہ قبول کرنا ائمہ گزشتہ کا شیوہ نہیں رہا تھا تو امام (ع)نے ایسا کیوں کیا؟
ذیشان حیدر جوادی (١٢) نے نقوش عصمت میں ولی عہدی کے موضوع کا مامون اور امام رضا (ع) کے نکتہ نظر سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں مامون کے نزدیک ولی عہدی کی پیشکش کا مقصد امام کو زیر نظر رکھنا، ان کا عوام سے رابطہ منقطع یا دشوار بنانا ، ان کی نظام حکومت میں شمولیت کے ذریعہ اپنی خلافت کی عظمت میں اضافہ کرنا اور اس کے لئے ایک شرعی تائید حاصل کرنا تھا، اور سب سے اہم علویوں کی انقلابی تحریکوں کو دبانا تھا۔
اس کے بر خلاف امام علی رضا (ع) نے ولی عہدی کو اس وقت کے سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے پیش نظر احکام اور تبلیغات اسلامی کی ترویج و اشاعت کا موثر ذریعہ قرار دیا اور'' مکرہ' مکراﷲ'' کے قرآنی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ سے مرو کے سفر کے دوران اور عہد ولی عہدی میں حکومتی پروٹوکول کی موجودگی میں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں میں شرکت، نماز عید، بارش کی دعاؤں ، زینب گذابیہ اور دیگر واقعات امام (ع) کی اس حکمت عملی کا حصہ تھے۔
اس لحاظ سے ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ گو ولی عہدی قبول کرنا تاریخ ائمہ کے دھارے میں ایک منفرد واقعہ ہے جو ناواقفین میں شکوک پیدا کرسکتا ہے لیکن درحقیقت یہ امام (ع) کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ کو کس طرح ایک اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوران ولی عہدی کے واقعات امام کے مناظروں اور علمی فیوض سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ امام رضا (ع) نے اپنے فیصلے سے یہ بات ثابت کردیا کہ خداوند عالم کی صحیح خلافت اور نمائندگی کے حقدار صرف ائمہ ہیں اور زمین پر خدا کی حجت اور اس کے نمائندہ ہیں اور یہ عہدہ نا قابل انتقال ہے۔

شخصیت علمی:
امام رضا (ع) کے عہد کو ہم علمی عزوات (Academic crusades) کا عہد کہہ سکتے ہیں۔ آپ جب ظاہری امامت پر فائز ہوئے تو اسلام پر علوم باطلہ کی یلغار تھی اور ہر جانب سے اسلام کی حقانیت اور صداقت کو علمی حیثیت سے زیر کرنے کی کوشش جاری تھی۔
امام جعفر صادق (ع) کے بعد امام رضا (ع) کو ترویج علم و دانش کا سب سے زیادہ مواقع ملا۔ امام موسیٰ کاظم (ع) اپنے اہل خاندان اور فرزندوں کو فرماتے تھے کہ'' تمہارے بھائی علی رضا (ع) عالم آل محمد ہیں'' احادیث میں ہر ٣ سال بعد ایک مجدد اسلام کے نمود و شہود کا نشانہ ملتا ہے علامہ ابن اثیر جندی اپنی کتاب جامع الاصول میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضا (ع) تیسری صدی ہجری میں مجدد تھے اور حضرت یعقوب کلینی چوتھی صدی ہجری میں مجدد تھے۔ شاہ عبدالعزیزی محدث دہلوی نے ''تحفہ اثنا عشری'' میں ابن اثیر کا قول نقل کیا ہے۔
امام علی رضا (ع) اہلبیت کے ان اماموں میں سے ہیں جنہوں نے عمومی طور پر اپنی دانش اور علم اور اپنے شاگردوں کی تعلیم وتربیت اور مختلف موقعوں پر کئے جانے والے سوالات اور جوابات ، مباحثات اور علمی مناظروں کے ذریعہ اسلامی فکر کو مالا مال کیا۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ ان ائمہ نے کسی دانشمند سے سبق لیا ہو بلکہ ان کی دانش کا سرچشمہ ان کے جد بزرگوار حضرت آنحضرت تھے جن سے انہوں نے ور اثتاً علم حاصل کیا۔
عیسیٰ یقطینی کا بیان ہے کہ میں نے امام کے تحریری مسائل کے جوابات کو اکٹھا کیا تو ان کی تعداد تقریباً ١٨٠٠٠ تھی۔
مامون رشید کا یہ دستور تھاکہ مختلف مذاہب کے علما کو دربار میں امام (ع) کے رو برو بحث کی دعوت دیتا۔ محد ثیں و مفسرین اور علما جو آپ (ع) کی برابری کا دعویٰ رکھتے تھے وہ بھی ان علمی مباحث میں آپ کے سامنے ادب سے بیٹھتے تھے۔ زہری ، ابن قتیبہ، سفیانِ ثوری، عبدالرحمن اور عکرمہ نے آپ سے فیض حاصل کیا ان مناظروں کے پیچھے مامون کے سیاسی مقاصد بھی تھے۔ علمی مباحث سے طبعادلچسپی کے باوجود مامون یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذریعہ امام کی شخصیت ،علویوں اور انقلابیوں کی توجہ کا مرکز بن جائے بلکہ اس موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی وقت امام (ع) جواب دینے سے عاجز ہو جائیں جو ناممکن تھا بلکہ مامون کی خواہش کے برعکس یہ مناظرات امام (ع) کے علمی شکوہ وشائستگی اور شیعہ عقیدہ کی برتری منوانے کا ذریعہ بن گئے۔(جواد معینی)
امام (ع) کے مناظروں میں ایک قابل ذکر مجلس میں جاثلیق، مسیحی پادریوں کا رئیس، راس الجالوت یہودی دانشمند، ہندو دانشور، پارسی، مجوسی، بدھ اور دیگر مذاہب کے علما بہ یک ساتھ موجود تھے۔ امام (ع) نے ہر عالم سے اس کی اپنی مقدس کتاب کے حوالوں سے اس کی مروجہ زبان میں بحث کی۔ ایک اور مناظرہ خراسانی عالم سلیمان مروزی کے ساتھ ہوا جس میں مسئلہ بداء موضوع بحث تھا۔ علی بن جھم سے مناظرہ میں عصمت پیغمبران پر بحث ہوئی جس میں امام (ع) نے حضرت یوسف، ذالنون اور داؤد علیہ السلام کے واقعات سے اپنی دلائل کو مستحکم کیا۔ المختصر ان مناظروں کے ذریعہ امام (ع) کو جید علما اور فقہا کی موجودگی میں اپنے علم و فضیلت کے اظہار کا موقع ملا جو ان کی حکمت عملی کا ایک جزو تھا۔

تالیفات:
اکثر ائمہ علیہ السلام کی زندگی کے زیادہ تر حصے حکومت وقت کی سختیوں اور پابندیوں سے دوچار رہے۔ امام رضا (ع) کی مدت امامت کے ٢٠ سال میں سے صرف تقریبا ٣ سال ایسے تھے کہ نسبتاً آپ نے ایک بہتر ماحول میں وقت گزارا لیکن یہاں بھی ہمیشہ ایک مسلسل نگرانی (Surveliance) کی فضا موجود تھی، ان کے عقیدتمندوں کا حکومتی عملہ ہمیشہ پیچھا کرتا۔ اس گھٹن کے ماحول کے باوجود مختلف موضوعات پر ائمہ حقہ کے علمی فیوض تک رسائی کی اور ان کو قلمبند کیا جو اب ان ائمہ کی تالیفات کی شکل میں موجود ہے۔ امام رضا (ع) سے منسوب تالیفات کا ایک سرسری ذکر حسب ذیل ہے۔
١۔ کتاب فقہ رضوی: یہ کتاب دانشمندوں کے درمیان موضوع بحث بنی ہے۔ کچھ علما جن میں مجلسی اول ودوم بحرالعلوم ، صاحب حدائق اور شیخ نوری شامل ہیں اس کو معتبر شمار کرتے ہیں۔ یہ امام (ع) سے منسوب احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شیخ صدوق کے والد کی تالیف ہے جن کا نام علی بن موسیٰ (ع)تھا اور نام کے ساتھ رضا کا اضافہ کاتب کی غلطی شمار کیا گیا۔ بعض اس کو شیخ صدوق کی تالیف قرار دیتے ہیں جنہوں نے روایات کو اسناد کے بغیر جمع کیا۔ آغا مہدی صاحب کے بموجب اس کا فارسی ترجمہ'' فقہ رضوی'' اصل نسخوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا جو ممتاز علما کے پاس پائے گئے۔
٢۔ کتاب محض الاسلام : نماز اور دیگر واجبات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے متعلق عام رائے یہ ہے کہ یہ فتوؤں کا مجموعہ ہے۔ لیکن جو اد فضل اﷲ کو اس کی سند میں شک ہے۔
٣۔ صحیفۃ الرضا: فقہ کے موضوع پر ہے لیکن اسکا انتساب امام کی طرف ثابت نہیں ہوسکا البتہ مستدرک الوسائل میں اس کو قابل اعتماد قرار دیا گیاہے۔ اسی نام سے ایک اور رسالہ حدیث ''سلسلۃ الذھب ''پر مشتمل ہے جس کا اردو ترجمہ حکیم اکرام رضا نے نول کشور پریس لکھنو سے شائع کروایا ہے۔ ( آغا مھدی)
٤۔ امام رضا اور طب: امام رضا کے علمی فیوض میں سب سے اہم رسالہ ذھبیہ یعنی (Golden Treatise) طب کے موضوع پر ہے۔ علم طب سے امام کے خصوصی تعلق کی بظاہر ایک وجہ اس کی ابتدائی ترویج و فروغ میں ملت ایران کا امتیازی کردار ہے۔ ظہور اسلام سے قبل ایران کے صوبہ خوزستان کے جندی شاہ پور کے شفاخانہ کا شمار دنیا میں علم طب کی پہلی یونیورسٹی کے طور پر ہوتا ہے۔ ایران کے مسلمان قابل الذکر علما میں محمد بن ذکریا اور بو علی سینا کا نام لیا جاتا ہے۔ دانشور جو اد فاضل (١٣) نے اپنی تالیف '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات'' میں طب سے متعلق معصومین (ع) کے ارشادات کو طب النبی (ص) ،طب الصادق اور طب الرضا کے عنوانات کے تحت جمع کیا ہے طب النبی کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کے ١٤ ویں جلد'' السماالعالم'' میں نقل کیا ہے۔ طب الصادق کی تفصیلات کشف الاحضار ، خصال اور بحار میں موجود ہیں۔ طب الرضا کی اساس وہ تفصیلی خط ہے جو امام رضا (ع) نے نیشاپور میں ٢٠١ھ میں مامون کو ارسال کیا تھا۔ اس ضمن میں مامون اور امام کے علاوہ مشہور اطبا یوحنا ابن ماسویہ، جبرئیل بن یختی یشوع، حکیم بن سلمہ کے درمیان '' انسانی جسم اور حفظان صحت کے اصول'' کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اس رسالہ میں وہ تمام معلومات موجود ہیں جن پر آج علم طب کی بنیاد ہے مثلاً فزیا لوجی، پتھالوجی، اناٹومی، جسم انسانی کا ڈھانچہ ، اعصاب اور ان کے وظائف وغیرہ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اسلامی طب کی بنیاد اعتدال ہے جو قران کریم کی آیت ''کلو والشر بو ولا تسرفوا'' ( سورہ اعراف) ''کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو'' کی عملی تفسیر ہے۔ اس کے کئی تراجم ہیں اور بے شمار شرحیں لکھی گئی ہیں جو عربی اور فارسی میں ہیں ( صادق عارف) لیکن اردو دان طبقہ کے لئے یہ امر باعث فخر و اطمینان ہے کہ علامہ رشید ترابی ١٤ نے بھی اپنی تالیف '' طب معصومین '' کے ذریعہ اس ضمن میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب میں مختلف امراض کے لئے چہاردہ معصومین (ع) کے تجویز کردہ علاج کو یکجا جمع کیا ہے۔ ایک جامع مقدمہ میں علامہ موصوف نے اپنے خاص انداز میں صحت انسان سے متعلق قرآن کی آیات اور ائمہ کے ارشادات اور تجربات کو قلمبند کیا ہے۔ اس کتاب کے انتساب میں ان کی فکر رسا کے اندا ز دیکھئے'' اے صبح اول یہ درر ارشادات تیرے ہی گلے کے موتی ہیں مگر زمانے کے ہاتھوں بکھر گئے تھے میں نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور آج تیرے دروازہ پر ان کو تیر ے ہی ہاتھوں بیچنے کے لئے آیا ہوں اس کی قیمت یہ ہے کہ تو مجھے دیکھ کر ایک مرتبہ مسکرا دے۔''

امام رضا کے اصحاب اور شاگرد:
اما م رضا (ع) کے اصحاب اور شاگرد کی ایک طویل فہرست ہے۔ بطور نمونہ چند کا حوالہ مقصود ہے۔
١۔ نصر بن قابوس ٢٠ سال تک امام صادق (ع) کے وکیل رہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ امام موسیٰ کاظم (ع) اور
امام رضا (ع) کی امامت کے نصوص کے شاہد ہیں۔ (وصایت)
٢۔ زکریا بن آدم بن عبداﷲ قمی، امام کے مخصوص اصحاب میں سے تھے۔ ان پر اعتماد کا یہ حال تھا کہ امام نے آپ
کو اپنی طرف سے سوالات کے جوابات پر مامور کیا تھا۔
٣۔ محمد بن اسماعیل مرد ثقہ اور خاص اصحاب میں سے تھے۔ ان کے مرتبہ کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ
علامہ بحرالعلوم طباطبائی کی ولادت کی رات ان کے والد جناب سید مرتضیٰ کے خواب میں امام رضا (ع) کی طرف
سے بھیجی ہوئی شمع روشن کی۔
٤۔ اس کے علاوہ حسن بن محبوب السراد الکوفی، حسن بن علی بن زیاد کوفی اور صفوان بن یحییٰ و غیرہ ہیں ۔
٥۔ امام کے اصحاب میں عامتہ الناس میں دعبل بن علی الخزاعی کو بیحد شہرت نصیب ہوئی یہ شاعر تھے۔ ایام
عزاداری میں امام شعرا اور ذاکرین کو اپنی موجودگی میں ممبر پر بیٹھنے کے لئے اصرار کرتے۔ بعض روایات کے مطابق ایک مرتبہ دعبل نے اپنے ایک مرثیہ میں جناب سیدہ کو مخاطب کرتے ہوئے اہلبیت کی بکھری ہوئی قبروں کا ذکر کیا تو امام نے اپنی طرف سے اس مرثیہ میں ایک شعر کا اضافہ کردیا جس میں طوس میں ایک قبر کا ذکر تھا۔ دعبل کے استفسار پر امام نے کہا کہ یہ میری قبر ہوگی جو طوس میں بنے گے اور جو شخص میری زیارت کریگا وہ روز قیامت میرے ساتھ محشور ہوگا۔

شہادت:
مامون رشید نے امام (ع) کو صرف اس غرض سے ولی عہد بنایا تھا کہ امام (ع) کے ذریعہ علویوں کی مخالفت پر قابو پائیگا اور امام (ع) اس کے سیاسی امور میں مدد کریں گے۔ جب اس نے امام کی امور سلطنت میں بے رخی دیکھی اور ساتھ ساتھ آپ (ع) کے علم، فضل اور روحانیت کا چرچہ دیکھا تو وہ عوام کی متوقع بیداری سے خائف ہوگیا اور اس کو خلافت عباسی کے لئے خطرہ سمجھا، بغداد کے عباسیوں پر قابو پانے سے پہلے اس نے اپنے وزیر خاص فضل بن سہل کو قتل کروایا اور پھر ٢٠٣ھ میں امام (ع) کو زہر دیکر شہیدکردیا ''ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک۔'' مورخین کی اکثریت ماموں کو اس جرم کا ذمہ دار سمجھتی ہے جبکہ بعض امام (ع) کی ناسازی طبع کو رحلت کا سبب قرار دیتے ہیں اور شبلی نعمانی''المامون'' میں مامون کو اس جرم سے بالکل بری قرار دیتے ہیں۔
امام (ع) کے روز شہادت میں ١٧ صفر، آخر ماہ صفر اور رمضان کے آخری ہفتہ کی تواریخ قابل ذکر ہیں۔ مقام قبر کے لئے خراسان کے انتخاب پر ابن حسن جارچوی لکھتے ہیں کہ عید کے دن امام نماز تو نہ پڑھاسکے لیکن اہل خراسان کو امام کے بلند مقام کا اندازہ ہوگیا اور ان کے دلوں میں امام (ع) کے لئے مودت اس قدر پیوست ہو گئی کہ آج صدیاں گزر نے کے بعد بھی ان کی وفاداریاں عیاں ہیں شاید ان کا یہی طرز عمل تھا کہ امام (ع) نے اس سر زمین کو اپنا دائمی مسکن بنالیا۔

تتمہ:

تتمہ کلام میں اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت امیر المومنین (ع) سے لیکر امام حسن عسکری (ع) تک ہمارے کسی امام کی طبعی موت واقع نہیں ہوئی۔ واقعہ کربلا نے تیغ و سناں کے زخموں کا سلسلہ تو ختم کردیا لیکن ائمہ کی زہر خورانی کا ایک مسلسل عمل قائم رہا اور نت نئے طریقوں سے یہ مقصد حاصل کیا گیا ائمہ کی مدت حیات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں امام رضا (ع) کے بعد کے ائمہ یعنی امام تقی جواد(ع)،امام هادی(ع) اور امام حسن عسکری (ع) جو ملقب بہ ابن الرضا (ع) بھی ہیں دشمنوں کے ہاتھوں کو تاہی عمر کا شکار ہوئے۔ جب یہ صورت پیدا ہوئی تو خدائے تعالیٰ کو بھی ان انوار عصمت کی حفاظت کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑی پہلے مرحلے میں جسے ہم غیبت صغریٰ کا آزمائشی دور بھی کہہ سکتے ہیں اس نے اپنے ولی کو ایک معینہ مدت ٦٩ سال تک پردہ میں چھپادیا۔ اس دوران علما کے ایک گروہ کو تیار کیا گیا جو نواب اربعہ کے نام سے موسوم ہوئے جن کی خدمات سے بتدریج اجتہاد کے نظام کا ارتقاء عمل میں آیا۔ یہ خداوند تعالیٰ کا ہمارے مراجع اجتہاد کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کی علامت ہے کہ بالآخر اس نے اپنے ولی کو مصلحتاً ایک غیر معینہ مدت تک پردہ غیب''غیبت کبریٰ'' میں چھپادیا ہے، خدا ہماری مدد کرے اور توفیق دے کہ ہم'' انتظار امام (ع) '' کی امانت کو'' انتصار امام (ع)'' سے بدلنے کے قابل ہوسکیں۔

حوالے

١۔ سید صفدر حسین نجفی (مترجم) القرآن الکریم ترجمہ و حواشی از تفسیر نمونہ۔ مصباح القران ٹرسٹ ۔ لاہور ١٩٩٥ئ
٢۔ محمد جواد معینی و احمد ترابی '' امام علی موسیٰ الرضا (ع) ، منادی توحید و امامت'' (فارسی)
بنیاد پژو ھشہای اسلامی ۔ آستانہ قدس۔ مشہ٢ ١٣٨(ایرانی) م ٢٠٠٠ئ
٣۔ سید آغا مہدی لکھنوی ''الرضا'' جمعیت خدام عزا النجف، کراچی ١٩٦٦ئ
٤۔ نجم الحسن کراروی '' چودہ ستارے '' امامیہ کتب خانہ لاہور ١٣٩٣ئ
٥۔ سید حسن امداد (مترجم) '' بحار الانوار جلد پنجم حالات ابوالحسن علی ابن موسی الرضا (ع) '' علامہ مجلسی،
محفوظ بک ایجنسی کراچی ۔
٦۔ سید محمد صادق عارف ( مترجم) '' تحلیل از زندگانی امام رضا (ع) ( فارسی)'' محمد جواد فضل اﷲ۔
بنیاد پژد ھشہای اسلامی ١٣٧٧ھ ایرانی ، مشہد، ١٩٩٥ئ
٧۔ علامہ ابن حسن جارچوی '' عہد مامون و امام رضا (ع) '' انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر اینڈ ریسرچ، کراچی
٨۔ نثار احمد زین پوری، مترجم '' وسیلۃ الخادم الی المخدوم در شرح صلوٰت چہاردہ معصوم (ع) '' (فارسی)
فضل اﷲ بن روز بہان خنجی اصفہانی، انصاریاں پبلیکشنز، قم ۔ ١٤١٧ھ
٩۔ سید محسن مظفر نقوی '' الرضا سیرت امام علی بن موسیٰ (ع)'' خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی، ١٩٨١ئ
١٠۔ جلیل عرفان منش '' جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا (ع) از مدینہ تا مرو'' (فارسی)
١١۔ سید محمد موسیٰ رضوی ( مترجم )'' تشیع۔ محمدی اسلام کے آئینہ میں '' ڈاکٹر علی شریعتی ، ادارہ ن و القلم کراچی ٢٠٠٢ئ
١٢۔ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، '' نقوش عصمت ، چہاردہ معصومین (ع) کی مکمل سوانح حیات''
محفوظ بک ایجنسی ، کراچی ۔ ٢٠٠٠ئ
١٣۔ جواد فاضل، مترجم '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات '' الحسن بکڈپو، کراچی، ١٩٩٩ئ
١٤۔ علامہ رشید ترابی '' طب معصومین (ع)'' محفوظ بک ایجنسی ، کراچی۔
١٥۔ روشن علی نجفی ( مترجم ) '' گفتار دلنشین چہاردہ معصوم علیہ السلام'' انتشارات انصاریاں، قم ۔

حوالے

١۔ سید صفدر حسین نجفی (مترجم) القرآن الکریم ترجمہ و حواشی از تفسیر نمونہ۔ مصباح القران ٹرسٹ ۔ لاہور ١٩٩٥ئ
٢۔ محمد جواد معینی و احمد ترابی '' امام علی موسیٰ الرضا (ع) ، منادی توحید و امامت'' (فارسی)
بنیاد پژو ھشہای اسلامی ۔ آستانہ قدس۔ مشہ٢ ١٣٨(ایرانی) م ٢٠٠٠ئ
٣۔ سید آغا مہدی لکھنوی ''الرضا'' جمعیت خدام عزا النجف، کراچی ١٩٦٦ئ
٤۔ نجم الحسن کراروی '' چودہ ستارے '' امامیہ کتب خانہ لاہور ١٣٩٣ئ
٥۔ سید حسن امداد (مترجم) '' بحار الانوار جلد پنجم حالات ابوالحسن علی ابن موسی الرضا (ع) '' علامہ مجلسی،
محفوظ بک ایجنسی کراچی ۔
٦۔ سید محمد صادق عارف ( مترجم) '' تحلیل از زندگانی امام رضا (ع) ( فارسی)'' محمد جواد فضل اﷲ۔
بنیاد پژد ھشہای اسلامی ١٣٧٧ھ ایرانی ، مشہد، ١٩٩٥ئ
٧۔ علامہ ابن حسن جارچوی '' عہد مامون و امام رضا (ع) '' انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر اینڈ ریسرچ، کراچی
٨۔ نثار احمد زین پوری، مترجم '' وسیلۃ الخادم الی المخدوم در شرح صلوٰت چہاردہ معصوم (ع) '' (فارسی)
فضل اﷲ بن روز بہان خنجی اصفہانی، انصاریاں پبلیکشنز، قم ۔ ١٤١٧ھ
٩۔ سید محسن مظفر نقوی '' الرضا سیرت امام علی بن موسیٰ (ع)'' خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی، ١٩٨١ئ
١٠۔ جلیل عرفان منش '' جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا (ع) از مدینہ تا مرو'' (فارسی)
١١۔ سید محمد موسیٰ رضوی ( مترجم )'' تشیع۔ محمدی اسلام کے آئینہ میں '' ڈاکٹر علی شریعتی ، ادارہ ن و القلم کراچی ٢٠٠٢ئ
١٢۔ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، '' نقوش عصمت ، چہاردہ معصومین (ع) کی مکمل سوانح حیات''
محفوظ بک ایجنسی ، کراچی ۔ ٢٠٠٠ئ
١٣۔ جواد فاضل، مترجم '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات '' الحسن بکڈپو، کراچی، ١٩٩٩ئ
١٤۔ علامہ رشید ترابی '' طب معصومین (ع)'' محفوظ بک ایجنسی ، کراچی۔
١٥۔ روشن علی نجفی ( مترجم ) '' گفتار دلنشین چہاردہ معصوم علیہ السلام'' انتشارات انصاریاں، قم ۔

Read 28 times

Add comment


Security code
Refresh