شہید قاسم سلیمانی کا اسلامی معاشرے میں کردار

Rate this item
(0 votes)
شہید قاسم سلیمانی کا اسلامی معاشرے میں کردار

 شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت کا اندازہ پورے عالم کو بعد از شہادت ہوا, جب اس مظلومانہ شہادت کو جگہ جگہ دادِ تحسین سے نوازا گیا اور شہید کی حمایت میں پورے عالمِ اسلام میں بِلا تفریق مذہب و ملت آواز اُٹھائی گئی, خصوصاً پاکستان سے علامہ عارف واحدی صاحب کی قیادت میں ملی یکجہتی کونسل کا وفد تعزیت پیش کرنے کے لئے ایرانی قیادت کے پاس گیا اس بات کا عیاں ثبوت ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی شہید محض ایرانی جرنیل نہیں تھے بلکہ اُمتِ مُسلمہ کے نڈر ,بہادر , شجاع , اور دردِ دل رکھنے والے محافظ تھے,

شہید قاسم سلیمانی کی شہادت سے دُشمنِ اسلام کا چہرہ بے نقاب ہوا, اُمتِ مسلمہ کو ایک دفعہ پھر بیدار کیا, اپنی جان کا نذرانہ دے کر شہید اور شہادت کے عظیم مقام کو متعارف کرایا اور واضح دلیل پیش کی کہ شہید اللّہ تعالٰی کی راہ میں جانثاری کرکے اسلام کا تحفظ کرتا ہے۔
دُشمن نے اسلامی معاشرے میں شگاف و اختلاف پیدا کرنے کے لئے متعدد حربے آزمائے لیکن آج شہید قاسم سلیمانی کی شہادت ایک ایسی بے مثال حقیقت پیدا کر چکی ہے جو تمام مسلمانوں کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اُمتِ مُسلمہ کے یہ بلند پرچم اور یہ ہمہ گیر آواز ایک نئی شئ ہے، اس کا آئین، اس کے نعرے اور اس کا عمل اسلام کے مطابق ہے اور فطری طور پر دنیا بھر میں مسلمانوں کے دل وحدت کے لئے دھڑکتے ہیں۔ مگر دلوں کا دھڑکنا عام اسلامی رعیت کی حد تک ہے مگر عرب دنیا کے حکمران خطہ میں سنجیدگی اور دلجمعی کے ساتھ احکام اسلامی کے نفاذ کی خاطر کوشاں نہیں ہیں۔ میری مراد قومیں نہیں ہیں، مسلمان قومیں تو خیر ہر جگہ ہی اسلام کے عشق میں غلطاں اور اسلام کی ہر خدمت کے لئے آمادہ ہیں۔ میری مراد وہ پالیسیاں، وہ نظام اور وہ حکومتیں ہیں جنہوں نے اپنا کام اسلام کے نام سے شروع تو کیا تھا لیکن جب انہیں عالمی سطح پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے پسپائی اختیار کر لی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ عرب دُنیا کے حکمران جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو نظر انداز کرنے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے اور تمام مسلکی, گروہی, سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحدہ اُمتِ اسلامیہ کے پلیٹ فارم کو تقویت دیتے, مگر اس کے برعکس عرب حکمرانوں نے بےدردی سے شہید کی شہادت کو فراموش کیا اور پے در پے شہید سلیمانی کے قاتلوں کی بیعت کا نعرہ لگا کر اسلام کے ساتھ عجیب مذاق کیا, یہ مذاق صرف ایران کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ عالمِ اسلام کے ساتھ ہوا ہے, ایرانی قیادت تو انقلابِ اسلامی سے لیکر آج تک اُمتِ مسلمہ کی وحدت اور اتحاد کی داعی ہے, دُشمنِ اسلام اگر آج ایران اور پاکستان کے خلاف بر سرِ پیکار ہے تو اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر پاکستان اور ایران مضبوط ہوگئے تو عالمِ اسلام خود بخود تقویت پکڑ لے گا۔
ایران اور پاکستان کی کامیابی اور پورے عالم اسلام میں اِن کی نئی فکر کی ترویج کے بعد ہمہ گیر اسلامی موج کا مقابلہ کرنے کے لئے سامراج نے ایک حربہ یہ اپنایا کہ اس نے ایک طرف تو ایران کے اسلامی انقلاب کو ایک شیعہ تحریک یعنی ایک عام اسلامی تحریک نہیں ایک فرقہ وارانہ تحریک ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف پاکستان میں شیعہ سنی اختلاف اور شقاق کو ہوا دینے پر توجہ مرکوز کی۔ اِن دونوں اسلامی ممالک نے شروع دن سے ہی اس شیطانی سازش کو محسوس کرتے ہوئے ہمیشہ اسلامی فرقوں کے درمیان اتفاق و یکجہتی پر زور دیا اور یہ کوشش کی ہے کہ اس فنتہ انگیزی کو دبائیں، اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان اور ایران کو بڑی کامیابیاں بھی ملیں جن میں او آئی سی کی تشکیل ہے۔ جس میں کشمیر و فلسطین کی آزادی کی تحریک کو سنجیدہ لینا پاکستان کی بدولت ہے, دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے اوائل انقلاب سے آج تک مسلمان ممالک کو اتحاد کی دعوت دی ہے۔ ایران نے اسلامی حکومتوں کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی اگر بلا وقفہ کوششیں کی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ ایران کی حکومت یا عوام کو اس ہمراہی کی احتیاج اور ضرورت ہے۔ نہیں، یہ کوششیں صرف اس لئے تھیں کہ اس رابطے سے پورے عالم اسلام کو فائدہ پہنچے۔

اسلامی اتحاد و یکجہتی کے ثمرات کے لئے اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور عزت و وقار کی خاطر افکارِ خمینی کو جنرل قاسم سلیمانی نے اُجاگر کرنے کی انتھک محنت و کوشش کی کہ مسلمان قوموں کو چاہئے کہ اپنی طاقت و توانائی کو، جو در حقیقت اِن کے ایمان اور اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کی طاقت ہے، پہچانیں اور اس پر بھروسہ کریں۔ اسلامی ممالک اگر ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیں تو ایک ایسی طاقت معرض وجود میں آ جائے گی کہ دُشمن اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں کر پائے گا اور اسلامی مُلکوں سے تُحکمانہ انداز میں بات نہیں کر سکے گا۔ اگر مُسلمان ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں اور اپنے اندر اپنائیت کا جذبہ پیدا کر لیں، اِن
 کے عقائد میں اختلاف ہو تب بھی وہ دُشمن کے آلہ کار نہ بنیں تو عالم اسلام کی سربلندی بالکل یقینی ہوگی۔ کیونکہ قومیں جہاں کہیں بھی میدانِ عمل میں اُتر تی ہیں، وہ اپنی اِس موجودگی کو جاری رکھتی ہیں اگر مسلمان راہ خدا میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کریں تو امریکا ہو یا امریکا جیسا کوئی دوسرا مُلک اِن کے خلاف اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے، فتح مسلمانوں کا مقدر ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ عالم اسلام اگر مسلم امہ کی حرکت کو فتح و کامرانی کی سمت صحیح انداز سے جاری رکھنا چاہتا ہے تو کچھ ذمہ داریاں تو اسے قبول کرنی ہی پڑیں گی۔ اِن ذمہ داریوں میں سب سے پہلا نمبر اتحاد کا ہے ۔ ورنہ جنرل قاسم سلیمانی جیسے مُخلص جرنیل کے بے مثال کردار اور باعزت شہادت کو رائیگاں کرنے والے ذلت و رسوائی, تباہی اور بربادی کو ہمیشہ کے لئے اپنا مقدر بنائیں گے۔
:

Read 26 times

Add comment


Security code
Refresh