ایران دشمنی کی اصلی وجہ مسئلہ فلسطین کو حاصل اسکی کھلی حمایت ہے، زیاد النخالہ

Rate this item
(0 votes)
ایران دشمنی کی اصلی وجہ مسئلہ فلسطین کو حاصل اسکی کھلی حمایت ہے، زیاد النخالہ

 فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے تاکید کی ہے کہ خطے کی مظلوم اقوام کی حقیقی مدد کے میدان میں ایران امت مسلمہ کے لیئے عملی نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے سربراہ نے عرب نیوز چینل المسیرہ کے ساتھ بات چیت میں ایران و یمن کے ساتھ فلسطین کے گہرے تعلقات اور بعض عرب ممالک کی جانب سے غاصب و بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر سیر حاصل گفتگو کی اور مظلوم یمنی عوام پر ہونے والے سعودی حملوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے یمنی شہریوں کے خلاف سعودی شاہی رژیم کی کھلی جارحیت ہیں۔ انہوں نے یمن کے ساتھ استوار فلسطین کے دوستانہ تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت اور پائیداری کے حوالے سے یمن فلسطین کا جڑواں بھائی ہے جس نے ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کی نہ صرف زبان بلکہ عمل سے بھی بھرپور مدد کی ہے۔

زیاد النخالہ نے اپنے انٹرویو کے دوران فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی پر مبنی بہادر یمنی عوام کے ملین مارچوں کو سراہا اور ان مظاہروں کو فلسطینی عوام کے لئے انتہائی پرافتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن نے نہ صرف خود سعودی محاصرے میں رہتے ہوئے صیہونی محاصرے کی شکار فلسطینی قوم کی ہر موقع پر مدد کی ہے بلکہ اس ملک نے بے شمار بے گھر فلسطینی شہریوں کو بھی اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے جن کے ساتھ یمنیوں جیسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ جہاد اسلامی کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم یمن میں موجود فلسطینی عوام کے مسائل سے مسلسل خبردار رہتے ہیں جس کے سبب ہم نے فلسطینیوں کے بارے یمنی حکام کے احساس ذمہ داری کو بطور احسن درک کیا ہے۔ انہوں نے عرب ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی کہ وہ جارح سعودی اتحاد کو یمن ملنے والی شکست سے عبرت حاصل کرتے ہوئے معصوم یمنی عوام کے خلاف جارحیت سے ہاتھ اٹھا لیں۔ زیاد النخالہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو توقع تھی کہ سعودی فوجی اتحاد غاصب صیہونی جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرے گا نہ یہ کہ عالمی استعماری قوتوں کے اشارے پر مسلم یمنی عوام کے خلاف جارحیت شروع کر کے صیہونی بمباری تلے فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دے گا۔

الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے سربراہ نے اپنے انٹرویو کے آخری حصے میں مسئلہ فلسطین کو حاصل بھرپور ایرانی حمایت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اس وقت ایران کو درپیش تمام مسائل کی اصلی وجہ ایران کی جانب سے فلسطین کی کھلی حمایت اور صیہونی سازشوں کی کھلی مخالفت ہے۔ زیاد النخالہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مظلوم فلسطینی قوم کی بڑھ چڑھ کر حمایت میں ایران امت مسلمہ کے لئے علی نمونہ ہے، کہا کہ رضا شاہ پہلوی کے دور میں بعض عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران کی بھی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ اس وقت ایران سے ان کی کھلی دشمنی کی اصلی وجہ اسلامی انقلاب کے بعد صیہونی مخالف ایرانی سیاست ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ایران مخالف پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سعودی شاہی رژیم بے گناہ یمنی شہریوں پر برسائے جانے والے بموں کے عوض عالمی دہشتگرد امریکہ کو اسلامی بیت المال سے اربوں ڈالر ادا کرتا ہے لیکن مظلوم فلسطینی عوام کی مدد کے لئے معمولی سی رقم بھی ادا کرنے کے حق میں نہیں۔

Read 26 times

Add comment


Security code
Refresh